حلقہ ارباب ذوق ، پروین ملک کی صدارت اور پنجابی کہانیوں کی شام
ناصر بلوچ، ثمینہ اسماء، نصیر احمد اور شہزاد فراموش نے کہانیاں پڑھیں،زاہد حسن کا اکبر لہوری، انور علی، افضل توصیف کو ٹریبیوٹ

لاہور:(شہزاد فراموش) حلقہ ارباب ذوق کا پنجابی کہانیوں کی شام کے حوالے سے خصوصی اجلاس پاک ٹی ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروین ملک نے کی، جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پیش کی۔

توثیق کے بعدپہلے سیشن میں زاہد حسن نے پنجابی کہانی کے اہم نام اکبر لہوری، انور علی اور افضل توصیف کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ پروین ملک نے کہا کہ میری اکبر لہوری، افضل توصیف اور انور علی سے ملاقاتیں رہیں۔
انور علی نے میری پہلی کتاب پر مضمون لکھا جس دن رونمائی تھی ان کی والدہ وفات پا گئیں مگر پھر بھی وہ تقریب سے پہلے مضمون دینے آئے تھے۔تینوں عظیم کہانی کار اور بڑے انسان تھے۔ دوسرے سیشن میں کہانیوں کی شام میں شہزاد فراموش نے اپنی کہانی ”مشیناں وچ گواچا بندہ“ نصیر احمد نے ”دھاگے ساہ لیندے نیں“ ثمینہ اسماء نے ”ایہ مٹی میری نہیں“ اور ڈاکٹر ناصر بلوچ نے ”چوہڑے“ پڑھی۔

کہانیوں کو حاضرین مجلس نے سراہابعد ازاں پروین ملک نے صدارتی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کہانیاں سن کر دل خوش ہوا۔نصیر احمد کی کہانی نیا تجربہ ہوتی ہے اور حیرانی ہوتی ہے کہ یہ موضوع کہاں سے لے آئے۔ ثمینہ اسما ء کی کہانی بھی بہت اچھی تھی،جو بچہ جس ماں کے خون سے اس کی کوکھ میں پل رہا ہے مردہ پیدا ہونے سے اس کا مذہب کیسے بدل سکتا ہے۔
ہزاد فراموش کی کہانی مجھے بہت پسند آئی۔میں ان سے درخواست کرونگی کہ وہ ایسی اور کہانیاں بھی تخلیق کریں۔ناصر بلوچ کی کہانی نپی تلی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہے،اس میں بہت بڑا طنز ہے۔صرف گندی جگہ پر یا گٹر میں گھسنے والا ہی چوہڑا نہیں بلکہ جس کے خیالات گندے ہیں وہ بھی چوہڑا ہے۔آخر میں سیکرٹری آفتاب جاوید نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔حاضر ہونے والوں کی تعداد 55رہی۔



