
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) اسلامیہ کالج سول لائنز میں یونیورسٹی شیڈول کی دھجیاں اڑا دی گئیں، جہاں پہلے سے طے شدہ نوٹیفکیشن اور کوآرڈینیٹرز کے باقاعدہ اعلان کے باوجود عارضی پرنسپل ڈاکٹر اورنگزیب خان نیازی نے بی ایس کوآرڈینیٹر سے مشاورت اور پیشگی اطلاع کے بغیر خود ہی شیڈول منسوخ کر دیا، جس کے باعث سینکڑوں طلبہ و طالبات خوار ہو کر رہ گئے۔
تفصیلات کے مطابق 5 اکتوبر 2026 کو جامعہ کے جاری کردہ شیڈول کے تحت اسلامیہ کالج سول لائنز میں بی ایس پہلے، تیسرے، پانچویں اور ساتویں سمسٹر کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہونا تھا۔ تمام طلبہ و طالبات کو اس حوالے سے پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا اور کوآرڈینیٹر کی جانب سے پہلے سمسٹر کی اورینٹیشن کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 700 سے 800 طلبہ وقت پر بی ایس بلاک پہنچے۔

تاہم، عارضی چارج پر تعینات پرنسپل ڈاکٹر اورنگزیب خان نیازی نے بغیر کسی پیشگی اطلاع اور بی ایس کوآرڈینیٹر سے مشاورت کے بغیر ہی شیڈول منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ طلبہ کو خود بریف کرنے کے بجائے ایک نائب قاصد کے ذریعے بی ایس بلاک میں پیغام بھجوایا گیا کہ آج کلاسز نہیں ہوں گی اور اورینٹیشن 7 اکتوبر کو ہوگی۔ نائب قاصد نے صرف پہلے سمسٹر تک محدود رہنے کے بجائے تیسرے، پانچویں اور ساتویں سمسٹر کے ان تمام طلبہ کو بھی واپس بھیج دیا جو اپنی باقاعدہ کلاسز کے لیے آئے ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے ڈاکٹر اورنگزیب خان نیازی نے عارضی چارج سنبھالا ہے، کالج میں مالی بے ضابطگیاں اور کرپشن اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ آئے روز جعلی ریکوزیشنز پر چیک جاری کیے جا رہے ہیں، جو ادارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
دور دراز سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور کالج کے باضمیر حلقوں نے عارضی پرنسپل ڈاکٹر اورنگزیب خان نیازی سے ڈی ڈی او کا چارج واپس لے کر فوری طور پر کسی تجربہ کار ایسوسی ایٹ پروفیسر کو دینے اور ادارے میں جاری کرپشن کے خلاف اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔



