انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تنہائی،نعمت یا زحمت؟

تحریر: راحیلہ رحمان ( اسلام آباد)

انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہا ہو سکتا ہے اور کبھی ایک خاموش کمرے میں بیٹھ کر بھی اپنے اندر ایک پوری دنیا آباد کر لیتا ہے ، تنہائی دراصل صرف لوگوں سے دوری کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی باطنی کیفیت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کے لیے تنہائی سکون، غوروفکر اور خود شناسی کا ذریعہ بنتی ہے، تو کسی دوسرے کے لیے بے چینی، اداسی اور مایوسی کا سبب۔

آج کا انسان بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں سے جڑا ہوا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے فاصلے کم کر دیے ہیں۔ ایک کلک پر دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے رابطہ ممکن ہے، لیکن اس کے باوجود دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم ہزاروں لوگوں کی پوسٹس دیکھتے ہیں، سیکڑوں پیغامات وصول کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری بات سننے والا کوئی نہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ تنہائی نعمت ہے یا زحمت؟اگر تنہائی انسان کو اپنے آپ سے ملنے کا موقع دے تو یہ یقیناً ایک نعمت ہے۔

زندگی کی مسلسل مصروفیات میں انسان دوسروں کے لیے تو بہت کچھ کرتا ہے، مگر اپنے لیے سوچنے کا وقت نہیں نکال پاتا۔ تنہائی کے چند لمحے اسے اپنی ترجیحات، غلطیوں، کامیابیوں اور مستقبل کے بارے میں غور کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ بڑے فیصلے اکثر شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں جنم لیتے ہیں۔ شاعر، ادیب، مفکر اور سائنس دان بھی کئی مرتبہ تنہائی کو تخلیقی قوت میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
تنہائی انسان کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ وہ دوسروں کی توجہ اور تعریف کا محتاج نہ بنے۔

جو شخص اپنے ساتھ وقت گزارنا سیکھ لیتا ہے، وہ اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے لگتا ہے۔ کتاب کا مطالعہ، قدرت کے مناظر سے لطف اندوز ہونا، عبادت، دعا اور خود احتسابی ایسے اعمال ہیں جو تنہائی کو ایک مثبت تجربے میں بدل سکتے ہیں۔ لیکن یہی تنہائی جب انسان پر مسلط ہو جائے تو زحمت بن جاتی ہے۔ کسی عزیز کی جدائی، رشتوں میں سرد مہری، معاشرتی بے اعتنائی یا مسلسل نظرانداز کیے جانے کا احساس انسان کو ایسی تنہائی میں مبتلا کر سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

ایسی کیفیت میں انسان لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی خود کو بے حد اکیلا محسوس کرتا ہے۔خصوصاً بزرگ افراد، دورِ جدید کے نوجوان اور وہ لوگ جو اپنے جذبات دوسروں سے بیان نہیں کر پاتے، اس قسم کی تنہائی کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اکیلا بیٹھتا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے محسوس ہونے لگے کہ اسے سمجھنے والا، سننے والا یا اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں۔ہمیں بحیثیت معاشرہ اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کا خاموش رہنا ہمیشہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ خوش ہے۔

بعض اوقات خاموشی کے پیچھے ایک ایسی چیخ چھپی ہوتی ہے جسے سننے کے لیے حساس دل درکار ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں گفتگو کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ والدین کو بچوں کے ساتھ، دوستوں کو دوستوں کے ساتھ اور خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ صرف ضروری باتیں نہیں بلکہ دل کی باتیں بھی کرنی چاہیں۔تنہائی سے فرار بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ہر وقت موبائل فون، سوشل میڈیا یا لوگوں کے ہجوم میں خود کو مصروف رکھنا انسان کو اپنے اندر کی آواز سننے سے محروم کر سکتا ہے۔ ہمیں صحت مند تنہائی اور تکلیف دہ تنہائی کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ تنہائی نہ مکمل طور پر نعمت ہے اور نہ مکمل طور پر زحمت۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح قبول کرتے ہیں۔ اگر تنہائی ہمیں خود شناسی، تخلیق، عبادت اور غوروفکر کی طرف لے جائے تو یہ نعمت ہے، لیکن اگر یہی کیفیت ہمیں ناامیدی، بے مقصدیت اور لوگوں سے مکمل لاتعلقی کی طرف دھکیل دے تو یہ زحمت بن جاتی ہے۔شاید زندگی کا حسن اسی توازن میں ہے کہ انسان کبھی اپنے ساتھ بھی رہے اور کبھی اپنوں کے ساتھ بھی۔

اسے خاموشی کی قدر بھی معلوم ہو اور گفتگو کی ضرورت بھی۔ کیونکہ انسان کو کبھی کبھی دنیا سے دور ہو کر خود کو تلاش کرنا پڑتا ہے، لیکن زندگی کا سفر بہرحال رشتوں، محبت اور تعلق کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ تنہائی نعمت ہے یا زحمت؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی تنہائی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ اگر ہم اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بنا لیں تو یہی تنہائی ہمیں مضبوط بنا سکتی ہے، اور اگر اسے دل پر بوجھ بنا لیں تو یہی خاموشی زندگی کا سب سے بڑا شور بن جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button