بلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

نشتر کالونی سہولت بازار” لنڈے بازار“ میں تبدیل

تحریر: ایم اے تبسم،لاہور

لاہور کی تحصیل نشترکے علاقے نشتر کالونی کے”سہولت بازار“ میں گزشتہ روز جانا ہوا، مگر وہاں کا احوال دیکھ کر دل کو شدید ٹھیس پہنچی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے عوام کی سہولت، سستے ریلیف اور ریڑھی بانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے کروڑوں روپے کے ٹیکسوں سے اس منصوبے کا آغاز کیا تھا تاکہ غریب کا بھلا ہو سکے۔ مگر افسوس! ضلعی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس تمام محنت پر پانی پھیر دیا اور مریم نواز کے اس فلاحی و قیمتی منصوبے کو ایک عام سے”لنڈا بازار“ میں تبدیل کر کے اس کا ستیاناس کر دیا۔

جس جگہ کو ایک بہترین ماڈل مارکیٹ بننا تھا، جہاں نظم و ضبط اور سستے داموں کی حکمرانی ہونی تھی، وہاں اب ہر اتوار اور جمعرات کو لنڈے کا بازار سجا دیا جاتا ہے۔ اس بدانتظامی نے نہ صرف سرکاری منصوبے کے حسن کو خاک میں ملا دیا ہے بلکہ عوامی ریلیف کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے۔

کسی بھی سستے بازار کا سب سے بنیادی مقصد سفید پوش طبقے کو آٹا، دالیں اور گوشت رعایتی نرخوں پر فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن نشتر کالونی کے اس نام نہاد سہولت بازار کا المیہ دیکھیے کہ یہاں غریب کی سب سے پہلی اور آخری ضرورت یعنی”سرکاری آٹا“ سرے سے غائب ہے۔ وہ مڈل کلاس اور دیہاڑی دار طبقہ جو تپتی دھوپ میں سستے آٹے کے تھیلے کی آس لیے یہاں آتا ہے، اسے خالی ہاتھ اور مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔ مٹن اور بیف تو اب غریب کے خوابوں کی چیز بن چکے ہیں، لیکن حد تو یہ ہے کہ اس بازار میں مٹن کا نام و نشان تک نہیں۔

چکن مافیا نے اس سرکاری چھت تلے اپنی خود مختار ریاست قائم کر رکھی ہے، جہاں انتظامیہ کی گرفت کمزور ہونے کا فائدہ اٹھا کر من مانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں اور غریبوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا یہ بازار آج بھی ادھورا اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا شاہکار بنا ہوا ہے۔

دوسری طرف، ضلعی انتظامیہ نے سکون سے چلتی ہوئی غریبوں کی بستی پر ایک اور کاری ضرب لگائی۔ ایک ظالمانہ اور بے حِس فیصلے کے تحت نشتر کالونی کے وسیع گراؤنڈ میں سالہا سال سے لگنے والے تاریخی ”اتوار بازار“ کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔ یہ محض ایک بازار کی بندش نہیں ہے، بلکہ سینکڑوں غریب دکانداروں، چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کا معاشی قتلِ عام ہے۔

اس گراؤنڈ بازار سے وابستہ دکاندار کوئی ارب پتی کاروباری نہیں تھے، یہ وہ سفید پوش لوگ تھے جو صبح سے شام تک حلال رزق کما کر اپنے معصوم بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ آج یہ کماؤ پوت سڑکوں پر آ کر بلبلا رہے ہیں، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ جب روزگار کا وسیلہ چھن جائے تو گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، اور یہی کچھ نشتر کالونی کے سینکڑوں خاندانوں کے ساتھ ہو رہا ہے جہاں معصوم بچے اب فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بدترین معاشی قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والی افسر شاہی ہے جسے زمینی حقائق کا علم ہی نہیں؟ یا وہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ہیں جو بازاروں کا رخ صرف فوٹو سیشن کے لیے کرتے ہیں؟ یہ گراؤنڈ بازار صرف دکانداروں کا ہی نہیں، بلکہ لاہور بھر کے ہزاروں غریب خاندانوں کا آسرا تھا۔ یہاں سے لوگ سستے کپڑے، پرانے جوتے اور گھریلو ضرورت کی سستی اشیاءخرید کر عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ اب ان خریداروں کو بھی کھلے بازاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جہاں دکاندار منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں۔ جب حکومت خود ایک متبادل اور سستا پلیٹ فارم چھین لے، تو غریب جائے تو کہاں جائے؟

حکومتِ پنجاب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انفراسٹرکچر پر کروڑوں روپے لگا دینا ہی کافی نہیں ہوتا، اصل چیلنج اس منصوبے کی روح کو برقرار رکھنا اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا ہے۔ نشتر کالونی کے غم و غصے سے بھرپور شہریوں اور سڑکوں پر رلتے ہوئے متاثرہ دکانداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور کمشنر لاہور سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ خدارا! اس ظلم کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اس کروڑوں کے سرکاری منصوبے کو مزید تباہ ہونے سے بچایا جائے اور اسے”لنڈا بازار“ بننے کے بجائے ایک حقیقی ماڈل مارکیٹ بنایا جائے۔

بازار میں سرکاری آٹے اور دیگر اشیاءکی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے اور چکن مافیا کی من مانیوں کو لگام دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غریبوں کے بجھتے ہوئے چولہے دوبارہ جلانے کے لیے وسیع گراؤنڈ میں لگنے والے اصل اتوار بازار کو فی الفور بحال کیا جائے۔ اگر سیکیورٹی یا صفائی کا کوئی مسئلہ ہے تو انتظامیہ دکانداروں کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق طے کرے، لیکن روزگار چھیننا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ حکومت کو فوری حرکت میں آنا ہوگا، اس سے پہلے کہ یہ فاقہ کشی مجبور لوگوں کو خودکشیوں کی طرف دھکیل دے۔ غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے والے اس غیر ذمہ دار انتظامی رویے کو بدلنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button