انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

منگو کوچوان اور نیا قانون

عاصم رضا خیالوی

منٹو کا منگو کوچوان اپنے دوستوں میں ایک سمجھ دار اور سیاسی شعور رکھنے والے شخص کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ اپنی محفلوں میں برصغیر کے حالات، انگریز حکمرانوں اور عوام کے مستقبل پر گفتگو کرتا تھا۔ انگریزوں سے اس کی نفرت کی وجہ ان کا ظلم و ستم اور مقامی لوگوں کو غلام بنا کر رکھنا تھا۔ وہ اس دن کا منتظر تھا جب انگریز یہاں سے چلے جائیں گے اور برصغیر کے انسان آزادی کی سانس لیں گے۔ ایک روز اس نے دو وکیلوں کو نئے قانون کے بارے میں گفتگو کرتے سنا تو اس کے دل میں امید جاگ اٹھی کہ اب غلامی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ منگو نے اس قانون کو اپنی آزادی کی ضمانت سمجھ لیا۔ اسے یقین تھا کہ نیا قانون آئے گا تو لوگوں کی زندگی بھی بدل جائے گی، مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ قانون کی کتاب میں تبدیلی اور عملی زندگی میں انصاف کی فراہمی دو الگ حقیقتیں ہیں۔

منٹو کے افسانے ’’نیا قانون‘‘ کا تاریخی پس منظر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء تھا، جس کے تحت 1937ء میں صوبائی خودمختاری کا نیا مرحلہ شروع ہوا، لیکن برطانوی اقتدار ختم نہیں ہوا تھا۔ منگو کے لیے نئے قانون کی خبر ایک نئے زمانے کی نوید تھی۔ وہ ایک دن اپنا تانگا تیار کرکے سڑک پر نکلا تو اسے وہی پرانی دنیا دکھائی دی؛ وہی راستے، وہی عمارتیں اور وہی چہرے۔

اسے حیرت ہوئی کہ جب قانون بدل گیا ہے تو حالات کیوں نہیں بدلے؟ راستے میں اسے ایک انگریز سپاہی نظر آیا جس نے پہلے کبھی اس کی توہین کی تھی۔ جب سپاہی نے حسبِ سابق رعونت دکھائی اور منگو پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو منگو نے اس کی چھڑی پکڑ کر اسے مارنا شروع کر دیا۔

وہ بار بار کہتا رہا کہ اب نیا قانون آ چکا ہے، اب ہم آزاد ہیں۔ مگر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ منگو حیران تھا کہ جس قانون کو وہ آزادی کی ضمانت سمجھ رہا تھا، اس کے ہوتے ہوئے بھی اسے قید کیوں ہونا پڑا۔ منٹو نے اس کردار کے ذریعے اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا کہ قانون کی تبدیلی کا اعلان اپنی جگہ، لیکن انصاف اور آزادی کا حقیقی تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب عام انسان کو بھی اپنے حقوق کے تحفظ کا یقین ہو۔

آج خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو منگو کوچوان کا کردار ایک نئے تناظر میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے، جس کا اپنا آئین، پارلیمان، عدالتی نظام اور منتخب حکومتیں ہیں، لیکن آزادی کا اصل مقصد صرف بیرونی اقتدار سے نجات نہیں بلکہ شہریوں کو انصاف، تحفظ اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دینا بھی ہے۔

اکتوبر 2026ء میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اعلان نے آئینی اختیارات، صوبائی خودمختاری، عوامی مینڈیٹ اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کا جواز صوبے کی خراب سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے غیر جمہوری اقدام اور صوبائی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان دونوں مؤقف کی قانونی حیثیت اور حقائق کا جائزہ آئین، شواہد اور متعلقہ قانونی کارروائی کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

اس تمام صورتِ حال میں سب سے اہم بات خیبر پختونخوا کے عوام کا تحفظ ہے، جنہوں نے دہشت گردی کے باعث طویل عرصے تک جانی و مالی نقصان اور نقل مکانی کی مشکلات برداشت کی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پورے ملک کے امن اور شہریوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ پختون دہشت گردی کا سبب نہیں بلکہ اس کے سب سے بڑے متاثرین میں شامل ہیں۔ انہوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے، تعلیم، صحت اور روزگار پر توجہ دینے اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ مقاصد اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب سکیورٹی اقدامات کے ساتھ قانون کی پابندی، شہری حقوق کا تحفظ اور مؤثر طرزِ حکمرانی بھی یقینی بنایا جائے۔

پشاور میں راستوں کی بندش، مواصلاتی نظام میں تعطل اور تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق اطلاعات نے عام شہریوں کی مشکلات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز متاثر ہوں تو معاملہ صرف رابطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ بینکنگ، کاروبار، تعلیم اور روزمرہ ضروریات بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے، مگر غیر معمولی اقدامات کے انسانی اور معاشی اثرات کو کم کرنا بھی ضروری ہے۔ امن قائم کرنے کا مقصد شہری زندگی کو محفوظ اور معمول کے مطابق بنانا ہے۔ اگر کسی اقدام سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھتی ہیں تو اس کی ضرورت، مدت اور تناسب کے بارے میں وضاحت بھی ہونی چاہیے۔

وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی اس بحران کا اہم پہلو ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کی اور اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ابتدائی پیش رفت کے بعد مفاہمت کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔

حکومتی نمائندوں اور سیاسی فریقوں نے ان واقعات کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی اختلافات جب باہمی عدم اعتماد میں بدل جائیں تو ان کا نقصان صرف قیادت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوام بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ مذاکرات، پارلیمانی بحث اور قانونی طریقۂ کار کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافات کے حل کے اہم راستے ہیں۔
منگو کوچوان کا المیہ یہ تھا کہ اس نے نئے قانون سے بہت بڑی امیدیں وابستہ کر لیں، مگر اسے اندازہ نہ تھا کہ قانون کے نفاذ اور انصاف کے حصول کے درمیان کتنی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔

آج بھی سیاسی جماعتیں آئین، جمہوریت، عوامی مینڈیٹ اور قانون کی بات کرتی ہیں، لیکن ان اصولوں کی اہمیت صرف اس وقت نہیں ہونی چاہیے جب کوئی جماعت اقتدار سے باہر ہو۔ جو اصول اپوزیشن کے لیے اہم ہیں، وہی اقتدار میں موجود جماعتوں کے لیے بھی یکساں اہم ہونے چاہییں۔ اسی طرح کسی حکومت کی مخالفت یا حمایت کی بنیاد پر آئینی معاملات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا؛ ان کا جائزہ قانون، شواہد اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ امن کے نام پر کیے جانے والے اقدامات واضح مقاصد، مضبوط قانونی بنیاد اور قابلِ پیمائش نتائج کے حامل ہوں۔ کسی صوبے کے عوام کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اجتماعی طور پر مشکوک سمجھنا درست نہیں، اور کسی منتخب حکومت کو بھی محض عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور جمہوری حقوق کا تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاست کے بنیادی تقاضے ہیں۔

آخرکار سوال وہی ہے جو منگو کوچوان کے سامنے کھڑا تھا: کیا واقعی قانون بدل گیا ہے یا صرف اسے نافذ کرنے والے چہرے بدلے ہیں؟ منگو ایک ایسی دنیا چاہتا تھا جہاں اس کی عزت اور حقوق کسی طاقتور کی مرضی کے محتاج نہ ہوں۔ آج کا پاکستانی شہری بھی یہی چاہتا ہے کہ اسے امن، انصاف، روزگار، تعلیم اور عزت میسر ہو، اور قانون کی نظر میں اس کی حیثیت کسی بااثر شخص سے کم نہ ہو۔ آزادی صرف کتابوں، تقریروں اور سیاسی نعروں میں زندہ نہیں رہتی اسے عدالتوں، اداروں اور روزمرہ زندگی میں محسوس ہونا چاہیے۔

قوموں کی اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ کتنی بار نیا قانون لاتی ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ قانون کے ذریعے عام انسان کی زندگی میں کتنی حقیقی تبدیلی لاتی ہیں۔ یہی منگو کوچوان کی کہانی کا پیغام ہے اور یہی آج کے پاکستان کے لیے ایک بنیادی سوال بھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button