اماراتی تعاون ، پنجاب، بلوچستان میں صاف پانی کے 39 منصوبے
تحریر: عقیل انجم اعوان

پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی صاف پانی کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے۔ کہیں زیرِ زمین پانی پینے کے قابل نہیں تو کہیں پانی کے ذرائع آبادیوں سے دور واقع ہیں۔ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں، چولستان کے صحرا اور بلوچستان کی دور افتادہ بستیوں میں پانی کی فراہمی لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا اہم مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں صاف پانی کے منصوبے نہ صرف بنیادی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ صحت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے تعاون سے رحیم یار خان، راجن پور اور بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں پانی کی فراہمی اور صفائی کے 39 منصوبے قائم کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس، ریورس اوسموسس (آر او) سسٹمز، پمپنگ اسٹیشن، پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک اور ترسیلی پائپ لائنیں شامل ہیں۔ ان کا مقصد شہری مراکز، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، دیہی آبادیوں اور صحرائی علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ان منصوبوں کا ایک نمایاں پہلو متحدہ عرب امارات کے بانی صدر مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے نام سے منسوب فلاحی کاوشیں ہیں۔ شیخ زاید نے انسانی ہمدردی اور عوامی فلاح کو خصوصی اہمیت دی۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ تعلقات میں ان کی شخصیت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے نام سے منسوب پانی کی اسکیمیں اس تصور کی نمائندگی کرتی ہیں کہ حقیقی ترقی وہ ہے جس کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری ہوں۔
رحیم یار خان میں ان منصوبوں کا دائرہ متعدد عوامی مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔ گلشنِ اقبال، ضلعی عدالتوں، شیخ زاید ہسپتال، علامہ اقبال لائبریری، عیدگاہ، خواجہ فرید ڈگری کالج برائے طلبہ، جگنو چوک، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ میں پانی صاف کرنے کے پلانٹس قائم کیے گئے ہیں۔ صادق آباد، خان پور اور خان بیلہ میں بھی مختلف اسکیموں کے ذریعے مقامی آبادیوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
عوامی مقامات پر صاف پانی کی دستیابی اس لیے اہم ہے کہ وہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہری، طلبہ اور دیگر افراد آتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ جبکہ سرکاری دفاتر اور عوامی مراکز میں آنے والے افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم ان منصوبوں سے مستقل فائدہ حاصل کرنے کے لیے پانی کے معیار کی جانچ اور پلانٹس کی باقاعدہ دیکھ بھال ضروری ہے۔
صحت کے شعبے میں پانی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ شیخ زاید ہسپتال رحیم یار خان میں پانی کی فراہمی کے دو خصوصی منصوبے قائم کیے گئے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ہر پلانٹ ایک گھنٹے میں 1,042 گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ صاف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 25 ہزار گیلن ہے۔ ہسپتال میں مریضوں، تیمارداروں اور عملے کے لیے صاف پانی کی مسلسل فراہمی بنیادی ضرورت ہے۔ ایسے منصوبے اس ضرورت کو پورا کرنے میں معاون ہیں۔
ضلع راجن پور میں روجھان، عمرکوٹ اور کوٹ مٹھن سمیت مختلف علاقوں میں بھی واٹر فلٹریشن اور آر او پلانٹس قائم کیے گئے ہیں۔ عمرکوٹ کے بنگلہ ہدایت، میراں پور، دھنو شاہ اور شوکت خان چوک میں الگ الگ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں۔ ان کی پیداواری صلاحیت 1,056 سے 1,800 گیلن فی گھنٹہ تک ہے، جبکہ بعض مقامات پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 10 ہزار گیلن تک رکھی گئی ہے۔
دیہی آبادیوں کے لیے پانی کی فراہمی کے منصوبے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ شاہ والی، گوٹھ مزاری اور اوزمان میں مختلف اسکیمیں قائم کی گئی ہیں۔ گوٹھ مزاری میں 25 اجتماعی واٹر ٹینکوں کے ذریعے پانی تقسیم کیا جاتا ہے۔ منصوبے کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 310 گھرانوں کے 2,500 افراد اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اجتماعی ٹینک ایسے علاقوں میں پانی کی تقسیم کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں جہاں ہر گھر تک براہِ راست پائپ لائن پہنچانا مشکل ہو۔
چولستان میں پانی کی فراہمی ایک الگ نوعیت کا چیلنج ہے۔ شدید گرمی، کم بارش اور پانی کے محدود ذرائع انسانوں اور مویشیوں کی زندگی متاثر کرتے ہیں۔ شیرو شہید، چک نمبر 245-پی میں قائم واٹر پمپنگ اسٹیشن کے ذریعے مقامی باشندوں، مویشیوں اور ایک ڈسپنسری کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ چک نمبر 80-پی میں قائم ایک اور منصوبے سے تقریباً 1,200 افراد کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان دور افتادہ آبادیوں کے لیے پانی کی مستقل دستیابی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
رحیم یار خان کے دیگر علاقوں میں شاہ گڑھ، چک نمبر 81-پی، موضع گامن، چک نمبر 82-پی اور چک نمبر 24-پی سمیت مختلف مقامات پر بھی پانی کی فراہمی کے منصوبے قائم کیے گئے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق انفرادی اسکیموں سے مستفید ہونے والی آبادی بعض مقامات پر ایک ہزار اور بعض پر 35 ہزار افراد تک ہے۔ شیخ زاید کالونیوں، اسپورٹس کمپلیکس، شیخ خلیفہ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، سنی پل، ہیڈ علی پور اور شیخ زاید بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے پانی کی فراہمی کی اسکیمیں بھی اس نیٹ ورک میں شامل ہیں۔
اس فلاحی پروگرام کا دائرہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی تک بھی وسیع ہے۔ یہاں پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک، پمپنگ اسٹیشن، پائپ لائنیں اور مقامی آبادی کے لیے تقریباً 400 پانی کے کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ ناگور کے پمپنگ اسٹیشن کو ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں سے ملانے کے لیے 12 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی گئی، جبکہ ناگور اور سرگانی کے پمپنگ مراکز کو ملانے کے لیے مزید ڈھائی کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کی گئی۔ یہ بنیادی ڈھانچہ مقامی آبادی تک پانی پہنچانے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔
کسی بھی فلاحی منصوبے کی کامیابی صرف اس کی تعمیر تک محدود نہیں ہوتی۔ پانی صاف کرنے والے پلانٹس، پمپنگ اسٹیشنوں اور پائپ لائنوں کو فعال رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی، مرمت اور مناسب انتظام ضروری ہے۔ منصوبوں کے ریکارڈ کے مطابق مختلف اسکیموں کے آپریشن، دیکھ بھال اور عملے کی تنخواہوں کے لیے بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اقدامات سہولیات کی فعالیت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان منصوبوں کی افادیت جانچنے کے لیے ضروری ہے کہ پانی کے معیار، روزانہ فراہمی اور مستفید ہونے والی آبادی سے متعلق معلومات باقاعدگی سے مرتب کی جائیں۔ شفاف نگرانی سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کون سی اسکیم بہتر کام کر رہی ہے اور کہاں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
جنوبی پنجاب کی بستیوں، چولستان کے صحرا اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے قائم یہ منصوبے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تعلقات کا اہم پہلو ہیں۔ ان کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ مقامی لوگوں کو مسلسل اور محفوظ پانی میسر رہے۔ کیونکہ صاف پانی محض ایک سہولت نہیں بلکہ صحت مند زندگی، انسانی وقار اور معاشرتی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔



