انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

لاہور کے سپوت میلہ رام اور رام سرن داس

شہزاد فراموش

لاہور ایک خطہ، ایک احساس، ایک جاوداں روایت اور زمانے کے سنگم پر بکھری ایک سرمدی داستان ہے۔ راوی کی لہروں میں صدیوں کی کہانی مچلتی ہے اور اندرون شہر کی گلیوں میں تاریخ کے گمشدہ قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ قدیم سنسکرت روایت میں جسے شہزادہ لوہ کا شہر”لوہ پور“ کہا گیا، جس کا ذکر 982ء کی کتاب ”حدود العالم“ کی پراسرار سطروں میں ملتا ہے۔ یہ وہی شہر ہے جسے بعد میں مغلوں نے عروس البلاد بنایا۔ لاہور کا حسن شاہی قلعہ اور میناروں کا مرہونِ منت نہیں تھا،بل کہ اس کی رَگوں میں دوڑتی حقیقی حیات ان تاجروں اور مخیرافراد کی عطا تھی جنہوں نے اس سرزمین کو اپنے خونِ جگر سے سینچا۔1947ء کی تقسیمِ ہند کے خونیں المیے نے جب سرحدوں پر خاردار تاریں لگائیں، تو اس شہرِ ثقافت کی کئی تاریخی جڑیں اچانک اُکھڑ گئیں۔ کتنے ہی محسن تاریخ کے تاریک حاشیوں میں روپوش ہو گئے۔ تاہم نیلمہ لامباجو رام سرن داس کی پوتی ہیں، ان کی انگریزی تصنیف”لاہور کے رائے بہادر رام سرن داس“ جس کا اردوزبان میں ترجمہ پروفیسر شعیب رضا نے پوری دیانت داری سی کیا ہے،انہوں نے ماضی کے ان چراغوں کو ایک بار پھرروشن کر دیاہے۔ یہ کتاب لاہور کی سوسائٹی، اس کی معاشی روح اور اس کے تہذیبی ارتقاء کی اک جھلک ہے۔رام سرن داس کے والد لالہ میلہ رام لاہور کے رئیس اعظم تھے۔ آج جہاں واپڈہ ہاؤس کھڑا ہے وہاں میلہ رام بلڈنگ ہوا کرتی تھی۔آواری ہوٹل جو کبھی نیڈو زہوٹل،کبھی پارک لگژری ہوٹل،کبھی ہلٹن ہوٹل رہا،یہ بھی انہی کی اراضی پر اب تک شکلیں بدلتا رہا،آج بھی اس کے عقب میں رام سرن داس بلڈنگ ماضی کی داستان سناتی ہے جس کا منہ ایجرٹن روڈ کی طرف ہے۔


لالہ میلہ رام ایک روشن خیال انسان تھا جس نے عملی زندگی کا آغاز لکڑی کے تاجر کی حیثیت سے کیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے ایک غیر ملکی توپچی سے اتفاقی ملاقات نے ان کے اندر کی تعمیری صلاحیتوں کو بیدار کر دیاتھا۔ 1860ء میں جب جدید لاہور کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی، تو لاہور ریلوے سٹیشن کی تعمیر اور پھر لاہور سے امرتسر اور پٹھانکوٹ تک لوہے کی پٹریوں کے نیچے لکڑی بچھانے کا کام لالہ میلہ رام نے سر انجام دیاتھا۔ ان کی اس غیر معمولی فنی اور تجارتی قابلیت پر برطانوی حکومت نے انہیں 1869ء میں درباری اور 1886ء میں رائے بہادر کے خطاب سے نوازا۔ 1872ء میں انہوں نے مال روڈ پر لارنس گارڈن سے ملحقہ اپنی 32 ایکڑاراضی لاہور میونسپل کمیٹی کو چڑیا گھر کے لیے وقف کر دی۔ آج بھی وہاں نصب سلیب پر کندہ تین زبانوں کی تحریریں گواہی دیتی ہیں کہ یہ لالہ میلہ رام کا اس شہر کو دیا گیا نایاب تحفہ ہے۔انہوں نے ریلوے سٹیشن سے متصل شاندار تالاب اور مسافرخانہ بھی تعمیر کرایا۔ ٹکسالی دروازے کے باہرشمشان گھاٹ، پختہ سمادھیاں اور شوالہ بنایا، جبکہ اندرون بھاٹی گیٹ ان کی عالی شان رہائش گاہ لال کوٹھی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ 1890ء کو 58 برس کی عمر میں جب میلہ رام انتقال کر گئے، تو پیچھے ان کے سپوت رائے بہادر رام سرن داس تھے جنہوں نے فلاح و حکمت کے اس وسیع تر خاکے کو سنبھالا۔
لالہ میلہ رام کے گھرانے کی روح پر حضرت داتا علی ہجویریؒ کے آستانہ کا گہرا نقش تھا۔ روایت ہے کہ لختِ جگر رام سرن داس کے شفا پانے پر لالہ میلہ رام نے مزار شریف کی سیڑھیوں پر دودھ چڑھانے اور سالانہ عرس پر لنگر و قوالیوں کا انتظام کیا۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ 1918ء میں جب لاہور پر انفلوئنزا کی وباء پھیلی اوررام سرن داس کے بیٹے موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ اندھیری رات میں ایک با ریش نورانی بزرگ عصا اور تسبیح لیے انکے خواب میں آئے اور بیماروں پر دستِ دعا بلند کیا، صبح ہوئی تو شفا کی کرنیں پھوٹ چکی تھیں۔دربار کے سجادہ نشین کی ہدایت رائے رام سرن داس نے اس کرامت کے شکرانے میں ایک ماہ کے قلیل عرصے میں مزار پر بجلی کی فراہمی کا مکمل نظام نصب کروایا۔ جب رام سرن داس نے اپنے ہاتھوں سے سوئچ دبا کر مزار پر برقی چراغاں کا افتتاح کیا، تو بین المذاہب رواداری اور انسانی محبت کا ایسا اجالا پھیلا جس کی کرنیں آج بھی تاریخ کے چہرے پر چمکتی ہے۔ 26نومبر 1876ء کو جنم لینے والے رام سرن داس کی پیشانی پر فکر اور جدوجہد کی تحریریں رقم تھیں۔ کم سنی میں ہی والدین کا سایہ اٹھ گیا۔ سینٹرل ماڈل سکول کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور کی تعلیم ادھوری رہ گئی، مگر ان کا زبردست ویژن کسی سند کا محتاج نہ تھا۔
1897ء میں 21 برس کی عمر میں انہوں نے داتا دربار کے قریب پنجاب کی پہلی سپننگ اینڈ ویونگ مل کی بنیاد رکھی۔ وہ کارخانے کی باریکیوں سے واقف ہونے کے لیے خود کلرک، حسابیے اور ڈسپیچر بنے اور سول و مکینیکل انجینیئرنگ میں کمال حاصل کیا۔ان کی مل کے عظیم الشان دروازوں پر منظوم کتبے آویزاں تھے، جو ڈگریوں کے مقابلے میں ہاتھ کے ہنر کی عظمت کا شاعرانہ اعلان تھے۔دوسری جنگِ عظیم تک اس مل میں 150 لومز گونجتے تھے اور نصف سے زائد مسلم محنت کش بغیر کسی دینی تعصب کے یہاں رزقِ حلال کماتے تھے۔ انہوں نے1933ء میں لندن میں فیڈریٹڈ چیمبرز آف دی برٹش ایمپائر، ریزرو بینک کمیٹی اور 1937ء میں ایمپائر پارلیمنٹری کانفرنس میں ہند کے معاشی و سیاسی ویژن کی ترجمانی کی۔ 1937ء میں شاہ جارج ششم اور ملکہ الزبتھ کی ویسٹ منسٹر ایبی میں تاج پوشی کے موقع پر برطانوی حکومت کے معزز ترین مہمان بنے۔ وہ امپیریل بینک آف انڈیا، برٹش انڈیا کارپوریشن اور انڈین نیشنل ایئرویز کے چیئرمین و ڈائریکٹر رہے۔ 21 اکتوبر 1936ء کے لاہور اجلاس میں انہوں نے آل انڈیا ہندو مہاسبھا کا ویژن پیش کرتے ہوئے عدم تعصب، خود انحصاری اور حقوق کے پرامن تحفظ کا منشور دیا۔
رام سرن داس کا انتقال ستمبر 1946ءٰ میں ہوا اوراگست 1947ء کاسورج تقسیم کی ہولناکی لے کر طلوع ہوا۔ لالہ میلا رام اور رام سرن داس کا خاندان اپنی قدیم جڑوں کو لاہور کی مٹی میں چھوڑ کر بوجھل قدموں کے ساتھ بھارت منتقل ہونے پر مجبور ہو گیا۔ یہ ہجرت کسی خاندان کا منتقل ہونا نہیں،بل کہ لاہور کے ایک عہدِ زریں کی دردناک موت تھی۔آج جب ہم لاہور کے گلی کوچوں سے گزرتے ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ سچی معاشی اور سماجی ترقی اپنے شہر کی روح کو فلاح، برداشت اور خوبصورتی سے آراستہ کرنا ہے۔ لالہ میلا رام اور رائے بہادر رام سرن داس کا نام اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر اپنے بانیوں کے محبت بھرے نقوش سے زندہ رہتے ہیں۔پروفیسر شعیب رضا کی یہ کاوش ابواب پر مشتمل ہے جس میں ان کی سیاسی زندگی بھی زیر بحث آئی ہے۔ 200صفحات کی کتاب فکشن ہاؤس مزنگ روڈلاہور سے انتہائی مناسب قیمت پردستیاب ہے۔ یہ علمی کاوش لاہورسے محبت کرنے والوں کیلئے نایاب تحفے سے کم نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button