
کراچی (وی او این): پاکستان جاپان بزنس فورم کی سالانہ جنرل کونسل میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں کراچی میں تعینات جاپان کے قونصل جنرل ہتوری مسارو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی تلاش اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔
میٹنگ میں پاکستان جاپان بزنس فورم کے چیئرمین مرتضیٰ مانڈوی والا، سینئر وائس چیئرمین اکی ہیرو یوشیمورا، وائس چیئرمین سید فیروز شاہ، سیکرٹری جنرل حمزہ بن طارق، خزانچی معین الرحمان، سابق چیئرمین کلیم فاروقی، فورم کے بانی اور سابق سیکرٹری جنرل مجید عزیز سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور جاپان کے کاروباری تعلقات کو نئی جہتیں دینے، سرمایہ کاروں کے لیے سازگار مواقع پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
جاپان کے قونصل جنرل ہتوری مسارو نے پاکستان جاپان بزنس فورم کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورم دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو قریب لانے، تجارتی روابط کے فروغ اور مشترکہ اقتصادی مواقع کی نشاندہی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ ان کے مطابق یہ فورم پاکستان اور جاپان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
میٹنگ میں پاکستان اور جاپان کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے اور کاروباری برادری کے مابین روابط کو وسعت دینے سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس میں شریک شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کاروباری اداروں اور متعلقہ حکومتی حلقوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے۔
پاکستان جاپان بزنس فورم کے چیئرمین مرتضیٰ مانڈوی والا نے کہا کہ جاپان اپنی جدید ٹیکنالوجی، صنعتی مہارت اور سرمایہ کاری کے تجربے کی بدولت پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان کاروباری تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے فورم کی کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔


