بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

بچوں سےجنسی ہراسگی کی تشہیر پر قانون سازی ناگزیر

تحریر: راحیلہ رحمان(اسلام آباد)

معاشرے کی اخلاقی پستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی ہراسگی یا زیادتی کا افسوس ناک واقعہ پیش آتا ہے تو ہماری اولین ترجیح متاثرہ بچے کو تحفظ، انصاف اور نفسیاتی سہارا فراہم کرنا ہوتی ہے یا اس واقعے کو سوشل میڈیا پر وائرل کرکے زیادہ سے زیادہ ویوز، لائکس اور ریٹنگ حاصل کرنا؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات انسانی دکھ کو بھی کاروبار بنا دیا جاتا ہے۔

ایک معصوم بچے کی زندگی پر گزرنے والی قیامت بعض افراد کے لیے سنسنی خیز خبر، یوٹیوب ویڈیو اور سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس کے خلاف مو¿ثر قانونی اور اخلاقی اقدامات بھی ناگزیر ہو چکے ہیں۔بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی اور زیادتی کے واقعات بلاشبہ انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات میں متاثرہ بچے کو جسمانی نقصان کے ساتھ شدید ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی صدمے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس صورتِ حال میں بچے کو سب سے زیادہ ضرورت تحفظ، ہمدردی، رازداری اور ایسے ماحول کی ہوتی ہے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔ لیکن جب یہی واقعہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آتا ہے، یوٹیوب چینلز پر اس کی تفصیلات نشر کی جاتی ہیں، متاثرہ بچے یا بچی کی شناخت ظاہر کی جاتی ہے یا ان سے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جو ان کے زخموں کو دوبارہ تازہ کر دیں، تو انصاف کی تلاش ایک نئی اذیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کسی معصوم بچی سے کیمرے کے سامنے بار بار یہ پوچھنا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، کیسے ہوا اور کہاں ہوا، صحافت ہے؟ کیا متاثرہ بچے کے جذبات، اس کی عزتِ نفس اور مستقبل کو نظر انداز کرکے واقعے کی تفصیلات نشر کرنا عوامی خدمت کے زمرے میں آتا ہے؟ اور کیا کسی بچے کے دکھ کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا معاشرے کو آگاہی فراہم کرتا ہے یا محض چند افراد کی شہرت اور آمدنی میں اضافے کا سبب بنتا ہے؟

بلاشبہ صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر رکھنا، ظلم کو بے نقاب کرنا اور مظلوم کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن صحافت اور سنسنی خیزی کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے۔ ذمہ دار صحافی کسی جرم کی نشاندہی ضرور کرتا ہے، مگر مظلوم کی عزت و آبرو کو داو¿ پر نہیں لگاتا۔ وہ مجرم کو بے نقاب کرنے اور نظام کی خامیوں کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ متاثرہ بچے کی نجی زندگی کو عوامی تماشا بنا دیتا ہے۔

آج سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ اور ہر ویڈیو کو وائرل کرنے کے ذرائع موجود ہیں۔ یوٹیوب پر زیادہ ویوز حاصل کرنے کی دوڑ، بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی غیر ذمہ دارانہ روش اور بعض اینکرز کی سنسنی خیز اندازِ گفتگو نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بعض اوقات متاثرہ بچیوں سے ایسے غیر ضروری، نامناسب اور تکلیف دہ سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا مقصد حقیقت تک پہنچنا کم اور ناظرین کے جذبات کو ابھارنا زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ بچے کے وقار اور تحفظ کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی زیادتی یا ہراسگی کا شکار ہونے والا بچہ کسی جرم کا ذمہ دار نہیں ہوتا، اس کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس کی عزت، کردار یا مستقبل کا پیمانہ نہیں بننا چاہیے۔ لیکن جب اس کی شناخت، تصویر، آواز، رہائش، خاندان یا اسکول سے متعلق معلومات عام کر دی جاتی ہیں تو اسے معاشرتی رویوں، طنز، سوالات، بدنامی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،متاثرہ بچے کے بہن بھائیوں، والدین اور دیگر اہل خانہ کی زندگی بھی اس تشہیر سے متاثر ہوتی ہے۔ یوں ایک مجرمانہ واقعے کے بعد خاندان کو ایک دوسری آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ خود جرم نہیںبلکہ غیر ذمہ دارانہ تشہیر بن جاتی ہے۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو بچوں کی ذہنی صحت اور ان کے مستقبل کا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک ویڈیو چند گھنٹوں یا دنوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جائے، لیکن انٹرنیٹ پر موجود مواد کو مکمل طور پر ختم کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ بچے کے بچپن کا ایک تکلیف دہ واقعہ اس کی شناخت کے ساتھ برسوں تک منسلک رہ سکتا ہے۔

جب وہ بڑا ہو کر تعلیم، ملازمت یا ازدواجی زندگی کے مراحل میں داخل ہوتا ہے تو ماضی کی یہی غیر ضروری تشہیر اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے متاثرہ بچے کی رازداری کا تحفظ محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے تحفظ کا معاملہ بھی ہے۔اس مسئلے کا ایک اور پہلو معاشرے پر پڑنے والے اثرات سے متعلق ہے۔ جنسی جرائم کی خبریں دینا بذاتِ خود فحاشی یا عریانی کا فروغ نہیں، کیونکہ ایسے جرائم پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ عوامی آگاہی اور احتساب کے لیے ضروری ہے تاہم جب ان واقعات کو غیر ضروری تفصیلات ،نامناسب سوالات سنسنی خیز عنوانات،قابل اعتراض تصاویر اور توجہ حاصل کرنے والے انداز میں پیش کیا جائے تو یہ صحافت کے اصل مقصد سے انحراف بن جاتا ہے۔

اس سے نہ صرف متاثرین کی تذلیل ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں غیر صحت مند تجسس، غیر ضروری جنسی گفتگو اور انسانی المیے کو تفریح سمجھنے کا رجحان بھی پروان چڑھ سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا محض سوشل میڈیا پر مذمت کرنے، چند روز بحث چلانے اور پھر کسی نئے واقعے کی طرف متوجہ ہو جانے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اس کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت، پارلیمان، متعلقہ ریگولیٹری اداروں، عدلیہ، میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کو مشترکہ اور سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بچوں کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین کا جامع جائزہ لے اور جہاں ضروری ہو وہاں واضح، مو¿ثر اور قا بل نفاذ قانون سازی کرے۔ ایسے قانونی ضابطے وضع کیے جائیں جن کے تحت جنسی تشدد یا ہراسگی سے متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنے، ان کی اجازت اور تحفظ کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے انٹرویوز نشر کرنے، ان سے غیر ضروری یا تکلیف دہ سوالات پوچھنے اور ان کی نجی معلومات کو سنسنی خیز انداز میں پھیلانے کے خلاف کارروائی ممکن ہو۔

قانون سازی کرتے وقت یہ بھی ضروری ہے کہ جرم کی رپورٹنگ، عدالتی کارروائی اور عوامی مفاد میں معلومات کی فراہمی کو غیر ضروری طور پر محدود نہ کیا جائے، بلکہ اصل توجہ متاثرہ بچے کے تحفظ اور ذمہ دارانہ صحافت پر ہو۔اس ضمن میں ایک جامع قانونی فریم ورک میں چند بنیادی اصول شامل ہونے چاہیں۔ اول، متاثرہ بچے کی شناخت، تصویر، آواز اور ایسی معلومات کے افشا پر مو¿ثر پابندیاں ہوں جن سے اس کی شناخت ممکن ہو سکے۔ دوم، بچوں سے متعلق جنسی جرائم کی رپورٹنگ کے لیے واضح ضابط اخلاق بنایا جائے، جس میں غیر ضروری تفصیلات اور متاثرہ بچے کے بار بار انٹرویو لینے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

سوم، خلاف ورزی کرنے والے میڈیا اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور متعلقہ افراد کے لیے متناسب سزاو¿ں، جرمانوں اور شکایات کے مو¿ثر نظام کا تعین کیا جائے۔ چہارم، متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو مواد ہٹوانے، قانونی مدد حاصل کرنے اور نفسیاتی معاونت تک رسائی کے لیے آسان طریقہ کار فراہم کیا جائے۔یہاں ایک اہم قانونی نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا، پریس، سائبر جرائم اور بچوں کے حقوق سے متعلق مختلف قوانین اور ضابطے پہلے ہی موجود ہیں۔

لہٰذا نئی قانون سازی سے پہلے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی کا ہے، موجودہ قوانین میں خامیوں کا ہے یا ان پر مو¿ثر عمل درآمد نہ ہونے کا۔ وفاقی حکومت کو متعلقہ صوبائی حکومتوں اور اداروں کے ساتھ مشاورت کرکے ایسا مربوط نظام تشکیل دینا چاہیے جو عملی طور پر بچوں کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں کو بھی اپنے اپنے قانونی اختیارات کے مطابق فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ نیوز چینلز، ٹاک شوز، یوٹیوب چینلز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے بچوں سے متعلق حساس معاملات کی رپورٹنگ کے واضح رہنما اصول متعارف کرائے جائیں۔ میڈیا اداروں میں بچوں کے حقوق اور جنسی جرائم کی رپورٹنگ سے متعلق تربیت لازمی بنانے پر بھی غور ہونا چاہیے۔ تاہم یہ اقدامات قانون کے مطابق، شفاف اور آزادیِ اظہار کے جائز حق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیے جانے چاہیں۔

اس سارے معاملے میں میڈیا مالکان اور اینکرز کی اخلاقی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو عوام کی توجہ حاصل کر سکتی ہے، نشر کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خبر کی سب سے اہم تفصیل وہ ہوتی ہے جسے متاثرہ بچے کے تحفظ کے لیے نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ کسی بچے کی شناخت چھپانا، غیر ضروری سوالات سے گریز کرنا اور اس کے خاندان کی رازداری کا احترام کرنا صحافت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی پیشہ ورانہ پختگی کی علامت ہے۔

اسی طرح عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ جب ہم کسی متاثرہ بچے سے متعلق ویڈیو دیکھتے ہیں، اسے آگے شیئر کرتے ہیں، اس پر نامناسب تبصرے کرتے ہیں یا اس کی شناخت جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو غیر ارادی طور پر اس کی اذیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں ایسی ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے، متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنے والے مواد کی نشاندہی کرنی چاہیے اور متعلقہ پلیٹ فارم پر اس کے خلاف شکایت درج کرانی چاہیے۔

بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی اور زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لیے مجرموں کو سزا دینا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ متاثرہ بچوں کو معاشرتی اذیت سے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ جرم کی ہر تفصیل دنیا کے سامنے رکھ دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ جرم کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور متاثرہ بچے کی عزت، رازداری اور مستقبل محفوظ رہیں۔آخر میں وفاقی حکومت سے یہی مطالبہ ہے کہ وہ اس حساس معاملے کو محض وقتی عوامی ردِعمل یا میڈیا کی بحث سمجھ کر نظر انداز نہ کرے،پارلیمان میں بچوں کے تحفظ، متاثرہ افراد کی شناخت کی رازداری اور ڈیجیٹل میڈیا کی ذمہ داریوں پر سنجیدہ بحث کی جائے۔

موجودہ قوانین میں موجود خلا دور کیے جائیں، خلاف ورزیوں کے خلاف مو¿ثر کارروائی کا نظام بنایا جائے اور بچوں کے حقوق کو ہر قسم کی تشہیر، ریٹنگ اور کاروباری مفاد پر ترجیح دی جائے۔یاد رکھیے، کسی مظلوم بچے کو انصاف دلانے کے نام پر اس کی زندگی کو مزید مشکل بنا دینا انصاف نہیں۔ بچے کی خاموشی کا احترام، اس کی شناخت کا تحفظ اور اس کے زخموں کو تماشا بننے سے بچانا ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔

ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں مظلوم بچے کو انصاف کے لیے اپنی نجی زندگی قربان نہ کرنا پڑے، جہاں صحافت سچائی کی ترجمان ہو، سنسنی کی اسیر نہ ہو، اور جہاں کسی معصوم کی تکلیف کسی دوسرے شخص کے لیے شہرت اور آمدنی کا ذریعہ نہ بن سکے۔بچوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری، میڈیا کا اخلاقی فریضہ اور پورے معاشرے کا اجتماعی امتحان ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس امتحان میں محض مذمت نہیں، بلکہ قانون، عمل درآمد اور ذمہ دارانہ رویے کے ذریعے کامیابی حاصل کی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button