بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

قوم کا مستقبل

بے لگام / ستارچوہدری

ایک ریاست تھی، جسے دنیا خوش حال ریاستوں میں شمارکرتی تھی۔ وہاں زمینیں بھی تھیں، دریا بھی،بندرگاہیں بھی، کارخانے بھی، معدنیات بھی، زرخیزمیدان بھی اورمحنت کرنے والے لوگ بھی۔۔۔ریاست پرایک طاقتوراشرافیہ کی حکمرانی تھی۔ اس اشرافیہ کے پاس طاقت تھی، اقتدارتھا، دولت بھی اور فیصلے کرنے کا اختیار بھی،وہ جب چاہتی قانون بدل دیتی، جب چاہتی کسی ادارے کا سربراہ تبدیل کردیتی اورجب چاہتی کسی کاروبارکا مستقبل طے کردیتی۔

عام لوگ کھیتوں میں محنت کرتے، کارخانوں میں پسینہ بہاتے، دکانیں کھولتے اوراپنے بچوں کے لیے بہترزندگی کے خواب دیکھتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کی محنت ایک دن ان کے بچوں کا مستقبل بدل دے گی۔۔۔۔پھرایک دن ریاست کے بڑے ایوان میں ایک اجلاس ہوا۔ اشرافیہ کے سربراہ نے میزپرہاتھ مارتے ہوئے کہا،ہماری زراعت تباہ ہو رہی ہے۔ کسان جدید طریقوں سے واقف نہیں، پیداوارکم ہے، پانی ضائع ہوتا ہے اورزمینیں اپنی پوری صلاحیت کے مطابق فصل نہیں دے رہیں،اب یہ نظام نہیں چل سکتا۔۔۔
نائب نے پوچھا، توحل کیا ہے۔۔۔۔؟

سربراہ مسکرائے،حل بہت آسان ہے۔ زمینیں ہمیں دے دی جائیں۔ ہم جدید مشینری لائیں گے، نئی ٹیکنالوجی استعمال کریں گے اور ریاست کو زرعی پیداوارمیں دنیا کا رہنما بنا دیں گے۔

تجویزسننے میں بری نہیں تھی۔ اخبارات میں سرخیاں لگیں، ماہرین نے بحث کی اور سرکاری ترجمانوں نے اعلان کیا کہ کسانوں کی خوش حالی کیلئے ایک تاریخی منصوبہ تیارکرلیا گیا ہے۔ ابتدا میں بڑے زمینداروں نے اپنی زمینیں نئے منصوبے میں شامل کیں۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ انہیں مناسب معاوضہ ملے گا اور پیداوارمیں حصہ بھی دیا جائے گا،پھرچھوٹے کسانوں کی باری آئی۔۔۔جس نے انکار کیا،زبردستی زمین چھین لی گئی۔۔۔زیادہ ترکسان جدید مشینوں، اونچی باڑوں اور حفاظتی چوکیوں کے درمیان زرعی منصوبے کا حصہ بن گئے۔۔۔۔کچھ عرصے بعد ریاست نے اعلان کیا کہ زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ حکمرانوں نے کامیابی کے جشن منائے۔ غیر ملکی وفود کو جدید کھیت دکھائے گئے اوراخبارات میں تصاویر شائع ہوئیں۔۔۔۔

پھر یہی تجربہ صنعت کے ساتھ کیا گیا۔۔۔اشرافیہ نے اعلان کیا کہ نجی کارخانے پرانے طریقوں سے چل رہے ہیں، مالکان نااہل ہیں اورمزدوروں کی صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ریاست کو جدید صنعت کاری کی ضرورت ہے، اس لیے اہم کارخانوں کو ایک نئے انتظامی نظام کے تحت لانا ضروری ہے۔۔۔ پہلے بیمار صنعتیں سنبھالی گئیں، پھرکامیاب صنعتوں کی باری آگئی۔

کہیں قرضوں کا بوجھ دکھایا گیا، کہیں قومی مفاد کا حوالہ دیا گیا اور کہیں مالکان کو اتنا دباؤ دیا گیا کہ انہیں اپنے کاروبار سے دست بردار ہونا پڑا۔ جو انکار کرتا، اس کیلئے قوانین کی ایسی بھول بھلیاں تیار ہوتیں کہ کاروبار بچانا ناممکن ہوجاتا۔۔اشرافیہ کا ہر نیا منصوبہ ایک ہی وعدے کے ساتھ آتا تھا، اب حالات بدل جائیں گے۔۔۔اورحالات واقعی بدل رہے تھے،ہر نئے منصوبے کے بعد ریاست کے خزانے میں دولت بڑھتی، اشرافیہ کے محلات وسیع ہورہے تھے۔۔۔

زراعت اورصنعت کے بعد اشرافیہ کی نظریں ریاست کے باقی اداروں پر جم گئیں۔ بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، اسپتال، تعلیمی ادارے، حتیٰ کہ چھوٹے کاروبار بھی اس کے منصوبوں کا حصہ بننے لگے۔۔۔پہلے ادارے کو کمزور کیا جاتا، اس کی بدانتظامی کے چرچے ہوتے، عوام کو بتایا جاتا کہ یہ ادارہ قومی خزانے پر بوجھ ہے، پھر اسے بچانے کے نام پر اشرافیہ اپنے قبضے میں لے لیتی۔۔۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھائے، مگر انہیں ناکام، نااہل،ترقی دشمن اورملک دشمن قرار دے دیا گیا۔ آہستہ آہستہ اختلاف کی آوازیں کم ہونے لگیں۔ لوگ اپنے مسائل بیان کرنے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ کہیں ان کی عزت، نوکری، مکان یا کاروبار خطرے میں نہ پڑ جائے۔۔۔۔پھرایک صبح ریاست کے سربراہ نے قوم سے خطاب کیا۔۔۔

میرے عزیزہم وطنو !!
ہم نے عوام کے تمام بنیادی مسائل حل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا، کسی مریض کا علاج نہیں رکے گا اور کسی خاندان کو بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔۔۔۔اگلے ہی ہفتے راشن کارڈ اور صحت کارڈ تقسیم ہونا شروع ہوگئے۔ ہر شہری کو ایک کارڈ دیا گیا جس کے ذریعے وہ مقررہ دکان سے راشن لے سکتا تھا اور مخصوص اسپتال میں علاج کروا سکتا تھا۔

سرکاری تشہیری مہم میں بتایا گیا کہ ریاست نے فلاح و بہبود کے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے،مگران کارڈوں کے ساتھ کچھ شرائط بھی تھیں۔ راشن اتنا ہی ملتا جتنا حکومت مقررکرتی، علاج صرف منظور شدہ اسپتالوں میں ہوسکتا تھا اور کارڈ کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے شہری کو ریاست کے مقرر کردہ قواعد پرعمل کرنا پڑتا تھا۔ کسی نے احتجاج کیا تو اس کا کارڈ معطل کردیا جاتا۔۔۔۔ریاست میں تعلیم حاصل کرنے کا حق صرف اشرافیہ کے بچوں کیلئے تھا، عام شہریوں کے بچوں کو اتنا ہی پڑھایا جاتا کہ وہ ہدایات سمجھ سکیں، حساب کرسکیں اور اپنے کام میں غلطی نہ کریں۔۔۔۔

وقت گزرتا گیا۔ نئی نسل جوان ہوگئی۔ ان بچوں نے کبھی اپنے باپ دادا کی زمینیں نہیں دیکھیں، نہ کسی آزاد کارخانے کا تصورکیا، نہ یہ جانا کہ تعلیم انسان کو اپنی قسمت بدلنے کا اختیار بھی دیتی ہے۔ ان کے لیے زندگی کا مطلب صبح کام پرجانا، شام کو راشن کارڈ دکھا کر کھانا لینا اور بیمار ہونے پر صحت کارڈ کے ذریعے علاج کروانا تھا۔۔۔۔

اشرافیہ نے ریاست کے تمام وسائل پرقبضہ کرنے کے بعد ایک نیا اعلان کیا۔ دنیا بھرکے ماہرین کو بلایا گیا اورانہیں بتایا گیا کہ یہ دنیا کا پہلا ایسا نظام ہے جہاں ہرشہری کو خوراک، علاج اور روزگار کی ضمانت حاصل ہے۔ غیر ملکی وفود آئے، بڑے بڑے ہوٹلوں میں تقریبات ہوئیں، اعداد و شمار پیش کیے گئے اور ریاست کو ایک ’’ مثالی فلاحی معاشرہ ‘‘ قرار دے دیا گیا۔۔۔

اسی شام ریاست کے سب سے بڑے شہرمیں ایک بوڑھا کسان اپنے پوتے کا ہاتھ پکڑے سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ سامنے دور تک پھیلے کھیتوں میں جدید مشینیں چل رہی تھیں۔ ان کھیتوں کے گرد اونچی دیواریں تھیں اور ہر دروازے پر مسلح محافظ تعینات تھے۔۔۔بچے نے کھیتوں کی طرف دیکھ کر پوچھا، دادا۔۔۔!! یہ زمین کس کی ہے۔۔۔؟ بوڑھے نے جواب دیا، اشرافیہ کی۔۔۔۔بچے نے کچھ دور کھڑے کارخانوں کی طرف اشارہ کیا۔ اور وہ۔۔۔۔؟ وہ بھی اشرافیہ کے ہیں۔۔۔۔ اسکول، اسپتال اور یہ سڑکیں۔۔۔۔؟ بوڑھا خاموش رہا۔ بچے نے اس کا ہاتھ ہلایا۔۔۔۔ دادا۔۔۔۔!! ہمارا کیا ہے۔۔۔؟ بوڑھے نے جیب سے اپنا راشن کارڈ نکالا، اسے دیکھا اوراس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button