
عالمی سفارتی اور مذہبی منظر نامے پر پاکستان کا سر ایک بار پھر فخر سے بلند ہوا ہے جب پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور ممتاز مذہبی و سفارتی شخصیت، سفیرِ امن حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو بین الاقوامی سطح کے انتہائی باوقار "ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن” سے نوازا گیا ہے۔

عالمی سطح پر امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل جرات مندانہ اور بصیرت افروز کاوشوں کا یہ بین الاقوامی اعتراف نہ صرف ان کی ذات بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک تاریخ ساز اور ناقابلِ فراموش اعزاز ہے۔ آرچ بشپ آف کینٹربری کی جانب سے دیا جانے والا "ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ” دنیا بھر میں بین المذاہب مکالمے، ترویجِ امن اور بین العقائد مفاہمت کا سب سے معتبر اور سرفہرست اعزاز مانا جاتا ہے۔ بارہویں صدی کے معروف آرچ بشپ ہیوبرٹ والٹر کی یادگار کے طور پر قائم کیا جانے والا یہ ایوارڈ ان تاریخ ساز شخصیات کو دیا جاتا ہے جو تشدد کے خاتمے، کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف فکر و عمل کے حامل طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کرتی ہیں۔
لیمبتھ پیلس کی مسند سے یہ اعزاز کسی مسلم عالم دین اور پاکستانی شخصیت کو ملنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ سچی جذبہِ خیر سگالی اور مکالمے کی قوت سے جغرافیائی اور مذہبی حدود کو عبور کیا جا سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی علمی و عملی کاوشوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہو۔ اس سے قبل مسلم دنیا کی نمائندہ تنظیم ‘اسلامی تعاون تنظیم’ (OIC) نے بھی انہیں ان کی گرانقدر خدمات پر "امن ایوارڈ” سے سرفراز کیا تھا۔ عالمی اور اسلامی دنیا کے ان اعلیٰ ترین ایوانوں سے یکے بعد دیگرے ملنے والے یہ اعترافات اس حقیقت کا روشن ثبوت ہیں کہ حافظ محمد طاہر اشرفی کی کاوشیں عالمِ اسلام اور مغربی دنیا دونوں جگہ یکساں احترام اور وقار کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔

ان عالمی اعزازات کی درخشندہ زنجیر میں ایک اور اہم اور شاندار کڑی کا اضافہ اس وقت ہوا جب حکومتِ پاکستان کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی، ترویجِ امن اور ملکی و قومی خدمات کے اعتراف میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو اعلیٰ ترین قومی شہری اعزاز "تمغۂ امتیاز” کے لیے نامزد کیا گیا۔ یہ نامزدگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ریاستِ پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر اپنے اس عظیم سپوت کی خدمات کی پزیرائی پر نازاں ہے، بلکہ ملکی سطح پر بھی ان کی امن پرور اور مصالحتی کاوشوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کی خدمات کی جہتیں بے حد وسیع اور اثر انگیز ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی روک تھام اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے لیے ہر سطح پر ٹھوس اور جرات مندانہ اقدامات کیے۔ ہر مشکل موڑ پر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام سلامتی اور عدل کا مذہب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دنیا بھر کے بین الاقوامی فورمز پر اسلام کا مقدمہ انتہائی مؤثر اور مدلل انداز میں لڑا، اور اسلاموفوبیا اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی اور مکالمے کو اپنا شعار بنایا۔
ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تعصب اور فرقہ واریت کی لہریں اٹھ رہی ہیں، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک جلیل القدر شخصیت کا عالمی اور قومی سطح پر یوں سرفراز ہونا اس بات کا روشن بیانیہ ہے کہ پاکستان امن کا گوہر اور رواداری کا مرکز ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو ملنے والے یہ تمغے اور اعزازات بلاشبہ پوری قوم، بالخصوص مذہبی و سفارتی حلقوں کے لیے ایک عظیم افتخار اور نیکی، اعتدال اور حب الوطنی کی راہ پر گامزن رہنے کا حوصلہ افزا پیغام ہیں۔



