
گزشتہ دنوں میرا کالم ”جیلوں کی دیواروں میں قید کرپشن“ شائع ہوا توچند جیل افسران اور ملازمین کے فون آئے۔ان کی آوازوں میں ناراضی بھی تھی، غصہ بھی اور شاید وہ کچھ بھی جو عرصے سے دل میں دبا کر بیٹھے ہوئے تھے۔کسی نے شکوہ کیا، کسی نے اپنے حالات بتائے اور کہا ہماری طرف بھی دیکھیں، ہم بھی اسی نظام کا حصہ ہیں مگر ہر خرابی کا بوجھ ہمارے سر کیوں۔۔؟
ان کی باتیں سن کر محسوس ہوا کہ شاید گزشتہ کالم میں جیل کے نظام کا ایک رخ زیادہ نمایاں ہوگیا تھا جبکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کرپشن جہاں ہو کارروائی ہونی چاہئے لیکن چند افراد کی غلطی کو پورے محکمے کا کردار بنا دینا بھی انصاف نہیں۔
جیل کی چار دیواری کے اندر صرف قیدی اور حوالاتی نہیں ہوتے، وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو روزانہ دوسروں کی سزا، غصے، دباؤ اور خطرات کے درمیان اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں۔
پنجاب کی جیلیں اس وقت ایک غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جیلوں کی گنجائش کے مقابلے میں قیدیوں اور حوالاتیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایک طرف محدود جگہ، دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی، اور تیسری طرف وسائل اور عملے کی کمی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جیل افسران اور ملازمین کو اپنی معمول کی ذمہ داری سے کہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
اور یہاں ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر شاید ہی کبھی بات ہوتی ہے۔جب جیل اپنی گنجائش سے کئی گنازائد بوجھ اٹھا رہی ہو تو سوال صرف جگہ کا نہیں، وسائل کا بھی ہوتا ہے۔ ہر قیدی اور حوالاتی کے لیے خوراک، راشن، صفائی، علاج اور بنیادی سہولتوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً کھانے کا انتظام سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ جیلوں میں بند قیدی اور حوالاتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ پر دباؤ بڑھ جائے تو مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کی معاونت بھی کئی مواقع پر اس نظام کو سہارا دیتی ہے۔ اگر یہ انسانی تعاون بھی نہ ہو تو پہلے سے دباؤ میں چلنے والے کئی بنیادی معاملات مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
جیل افسران اور ملازمین صرف راشن اور رجسٹر نہیں سنبھالتے، وہ خطرناک مجرموں کے درمیان بھی ڈیوٹی دیتے ہیں۔قتل، دہشت گردی، سنگین جرائم اور دیگر حساس مقدمات میں گرفتار افراد جیل پہنچتے ہیں۔ ان کی نگرانی، عدالتوں میں پیشی، سکیورٹی اور روزمرہ انتظام کی ذمہ داری بھی اسی نظام پر آتی ہے۔ یہ ایسا کام ہے جہاں ایک معمولی غفلت بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔اور خطرہ صرف جیل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا۔
بعض قیدیوں اور حوالاتیوں کے باہربااثر حلقوں سے روابط ہوتے ہیں۔ فون آتے ہیں، سفارشیں آتی ہیں، دباؤ آتا ہے۔ کبھی سیاسی دباؤ، کبھی ادارہ جاتی دباؤ اور کبھی کسی بااثر شخص کی مداخلت۔ جیل افسر کو ایک طرف قانون دیکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ان لاوارث یا بے سہارا قیدیوں کا ہے جن کے گھر سے کوئی ملاقات کے لیے نہیں آتا۔ جنہیں کوئی کپڑے، جوتے، صابن یا روزمرہ ضرورت کی دوسری اشیاء پہنچانے والا نہیں ہوتا۔
بعض کے گھر والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ان کا پیارا کس حال میں ہے۔ ایسے لوگوں کی ضروریات کا بوجھ بھی بالآخر جیل کے نظام پر ہی آتا ہے یعنی جیلیں صرف حوالاتیوں اور قیدیوں کو بند نہیں رکھتیں بلکہ کئی بے سہارا انسانوں کو اپنے محدود وسائل سے سنبھال بھی رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لیے کھانے سے لے کر بنیادی ضرورت کی چیزوں تک کا انتظام کرنا ایک اضافی انسانی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بات بالکل واضح سمجھنے کی ضرورت ہے:جیل کے اندر کرپشن ہونا ایک الگ جرم ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں ہونے والی کرپشن کے ملزمان کا جیل پہنچنا ایک الگ حقیقت۔جیل کا عملہ کرپشن کے مقدمات درج نہیں کرتا، نہ وہ کسی افسر کو گرفتار کرتا ہے اور نہ ہی تفتیش کرتا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے وہ افسران اور ملازمین جن پر کروڑوں یا اربوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات ہوں، بالآخر حوالاتی بن کر جیل کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ جیل کا عملہ انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے آتے، عدالتوں میں جاتے، ضمانت پر باہر نکلتے اور بعض اوقات دوبارہ واپس آتے دیکھتا ہے۔
اسی لیے بدعنوانی کی پوری تصویر کو صرف جیل کے محکمے تک محدود کر دینا درست نہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں سامنے آنے والے بڑے کرپشن کیسز کا حجم خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ احتساب کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔اور پھر اس وردی کے پیچھے ایک انسان بھی ہے۔جب ہم عید مناتے ہیں، جیل کا ملازم ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ جب شبِ برات آتی ہے، اس کے بچے بھی اپنے باپ کے منتظر ہوتے ہیں۔
’کبھی عید گزر جاتی ہے، کبھی تہوار، کبھی گھر کی کوئی خوشی اور غمی مگر ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی۔ان کی قربانی کسی اخبار کی سرخی نہیں بنتی، مگر ان کے بچوں کی آنکھوں میں اپنے باپ کا انتظار ضرور نظر آتا ہے۔اس لیے احتساب ضرور ہونا چاہیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ جو کرپٹ ہے اسے سزا ملنی چاہیے، مگر جو ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہے اسے بھی معاشرے میں عزت ملنی چاہیے۔کیونکہ جیل کی دیواریں صرف قیدیوں کو نہیں گھیرتیں، ان دیواروں کے سائے میں ہزاروں خاندانوں کی خوشیاں بھی ڈیوٹی کی نذر ہوتی ہیں۔



