بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے شہداء سے بیوفائی

شاہد جاوید ڈسکوی /دستک

ہر سال 6 ستمبر کا دن تاریخ کے افق پر ابھرتے ہی ہمیں ان عظیم معرکوں، لازوال داستانوں اور بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہماری پاک افواج کے سربکف مجاہدوں نے اس وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے پیش کیں۔ یومِ دفاعِ پاکستان محض ایک تاریخ یا روایتی سالانہ تقریب کا نام نہیں بلکہ یہ اس ابدی عہد کی تجدید کا دن ہے جو 6 ستمبر 1965ء کو شہدا اور غازیوں نے اپنے خون سے لکھا تھا کہ جب تک اس مٹی کے جری بیٹوں کی رگوں میں خون کا آخری قطرہ بھی موجود ہے تب تک کوئی غاصب دشمن اس پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

6 ستمبر 1965ء کا وہی روح پرور جذبہ و عزیمت آج بھی سیاچن کے منجمد، بے رحم اور دشتِ وحشت جیسے برفانی محاذ پر جلوہ گر نظر آتا ہے۔ سمندر کی سطح سے بیس ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر، جہاں منفی پچاس ڈگری کی حیات سوز سردی میں ہوا بھی جم جاتی ہے اور آکسیجن کی کمی سے انسان کا سانس لینا ایک باقاعدہ معرکہ بن جاتا ہے، وہاں بھی وطن کے پاسبان اپنے خونِ گرم سے شجاعت کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔

اسی برفانی اور خطرناک ترین محاذ پر پاک فوج کے ایک ایسے ہی عظیم سپوت نے جامِ شہادت نوش کیا، جس کی یادیں آج بھی ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں اور جس کی بے قدری ہمارے ضمیر پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ کہانی ہے ڈسکہ کی زرخیز مٹی سے تعلق رکھنے والے غیرت مند راجپوت، میجر حوالدار بشیر احمد شہید کی، جنہوں نے وطن کی حرمت، پاسبانی اور دفاع پر اپنی زندگی کے بہترین اور سنہرے 22 سال قربان کر دیے۔

پاک فوج کی نامور اور غازیوں سے سجھی نائن بلوچ رجمنٹ کے اس جری جوان نے اپنی پیشہ ورانہ اور عسکری سروس کا باقاعدہ آغاز کوئٹہ کے تاریخی و سخت کوش ماحول سے کیا۔ کوئٹہ کے بعد متعدد علاقوں میں خدمات انجام دیں ، وہ کھاریاں کینٹ میں بھی تعینات رہے، جہاں انہوں نے اپنی بہترین تربیت اور عسکری صلاحیتیوں کا لوہا منوایا مگر جب وقت کا تقاضا اور حبِ وطن کا مقدس بلاوا آیا تو ان کا انتخاب دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن گلیشیئر کے لیے ہوا۔

میجر حوالدار بشیر احمد شہید نے اپنی 22 سالہ بے داغ عسکری سروس کے دوران جن پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بے باکی، جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، اس کے اعتراف میں افواجِ پاکستان کی جانب سے انہیں اعلیٰ عسکری و قومی اعزازات ستارۂ حرب اور تمغۂ قائد اعظم سے نوازا گیا۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں محض تین سال باقی رہ گئے تھے اور وہ جلد ہی اپنے اہل خانہ اور اہل شہر کے درمیان لوٹنے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ کو ان سے وہ اعلیٰ ترین کام لینا تھا جو صرف اس کے محبوب اور چنیدہ بندوں کے حصے میں آتا ہے یعنی شہادت کا لازوال منصب! بالآخر 25 اگست 1989ء کو سیاچن کے سخت ترین، برفانی اور خون جما دینے والے محاذ پر اپنے مورچے کا دفاع کرتے ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہتے ہوئے انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زمرۂ شہدا میں شامل ہو کر ابدی حیات پا گئے۔

میرے شہر سے تعلق رکھنے والے افواجِ پاکستان کے پانچ عظیم المرتبت جوان اور شاہین ہیں جنہوں نے پاک سرزمین کی خاطر اپنی جوانیاں اور جانیں نچھاور کیں، ان میں میجر حوالدار بشیر احمد شہید کا نامِ نامی سرِ فہرست اور تابندہ ہے۔ مگر یہاں لمحۂ فکریہ، ماتم اور تازیانۂ عبرت یہ ہے کہ جس ڈسکہ کی مٹی کے ان پانچ سپوتوں نے وطن پر اپنے تمام خواب قربان کر دیے، اسی شہر کی انتظامیہ، بے حس اشرافیہ اور اربابِ اختیار نے ان کی یادوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟۔

ہر سال چھ ستمبر یعنی یومِ دفاع آتا ہے اور ڈسکہ کی مقامی انتظامیہ، سیاسی رہنما، سول سوسائٹی کے نمائندے، تاجر اور مذہبی پیشوا اکھٹے ہوتے ہیں مگر افسوس کہ ان کا آنا محض ایک خشک، رسمی اور خانہ پری پر مبنی کارروائی تک محدود ہوتا ہے۔ چند گھسی پٹی تقاریر، کچھ تصاویر، چند اخبارات کی سرخیاں اور بس! اس کے بعد پھر وہی سال بھر کی خاموشی اور بے وفائی۔

ان شہدا کو جس شایانِ شان، پروقار اور عظیم انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے تھا، وہ اس شہر میں کبھی نہ ہو سکا۔ کیا ڈسکہ کی انتظامیہ اور حکمرانوں کے پاس اتنی توفیق بھی نہیں تھی کہ وہ شہدا والے قبرستان میں یا شہر کے مرکزی چوراہوں پر ان پانچوں شہدا کی یادگاریں قائم کر دیتے؟ کیا اس شہر کی مرکزی شاہراہوں، چوکوں، یا ہسپتالوں و تعلیمی اداروں کو میجر حوالدار بشیر احمد شہید اور ان کے دیگر شہید ساتھیوں کے نام سے منسوب نہیں کیا جا سکتا تھا؟ یہ سرد مہری اور غفلت محض ایک انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ اپنے ہی محسنوں اور شہدا کے پاکیزہ خون کے ساتھ ایک بہت بڑی بے وفائی اور بدعہدی ہے۔

جہاں حکومتی ایوانوں، سیاست دانوں اور مقامی انتظامی افسران کو اس کی توفیق نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنے فرض سے آنکھیں چرائیں، وہاں خلق محمدی فاؤنڈیشن الحاج بابا جی خالد محمود مکی مدنی، اور ان کے صاحبزادگان صاحبزادہ عثمان خالد اور ڈاکٹر حسان خالد کی کاوشیں اور خدمات ایک روشن مینار بن کر سامنے آتی ہیں۔

انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ ڈسکہ کے ان پانچوں شہدا اور ان کے سوگوار، عزتمند اہل خانہ کو بھول جانا بیدار مغز اور زندہ قوموں کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ان کا کوئی سرکاری فرض یا ڈیوٹی نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی طرف سے اپنے شہر کے ان عظیم جانبازوں کی قربانیوں کا ایک خالص، مخلصانہ اور پرخلوص اعترافِ خدمت ہے، جنہوں نے ملک و ملت کا پرچم بلند رکھنے کی خاطر اپنی سانسوں کا نذرانہ پیش کیا۔

میجر حوالدار بشیر احمد شہید اور پاک فوج سے تعلق رکھنے والے دیگر چاروں شہید کسی سرکاری تحسین، تمغے یا نوکر شاہی کے رسمی خراجِ تحسین کے محتاج نہیں ہیں وہ تو خالقِ کائنات کی بارگاہ میں زندہ ہیں اور ابدی عزّت و تکریم پا چکے ہیں۔ مگر بطورِ قوم، بطورِ شہری اور بالخصوص بطورِ اہل ڈسکہ یہ سوال ہمارے ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان اور تازیانہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کی یاد کو کب تک صرف ایک دن کے خشک و رسمی فوٹو سیشن تک محدود رکھیں گے؟

وقت آ گیا ہے کہ ڈسکہ کی انتظامیہ، حکمران اور اربابِ اختیار اپنی ماضی کی غفلت کا ازالہ کریں۔ شہدا کے نام پر یادگاریں اور شاہراہیں تعمیر کی جائیں تاکہ ڈسکہ کی آنے والی نسلیں جب ان چوراہوں سے گزریں تو ان کا سر اپنے ان قومی ہیروز کی قربانیوں پر فخر سے بلند ہو سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button