
ہزارہ ڈویژن کے مختلف شہروں اور خصوصا پر فضا مقام ایبٹ آباد میں چند ماہ سے ادبی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں جن میں ادبی تقریبات، ایوارڈز، کانفرنسیں اور ادبی میلے شامل ہیں۔
پہلے بزمِ مصنفین ہزارہ کے زیرِ اہتمام بابا سجاول ایوارڈ کی پر وقار تقریب جلال بابا آڈیٹوریم، اباسین آرٹس کونسل ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی پھر دیگر تنظیموں کے زیرِ اہتمام تقریبات منعقد ہوتی رہیں جن میں تیسری ہندکو کانفرنس مانسہرہ میں منعقد کی گئی اس کے بعد قومی ادبی کانفرنس کا میلہ ہریس کلب ابیٹ آباد میں سجایا گیا بعد ازاں ملک شیر محمد تنولی ایوارڈ کی خوب صورت تقریب گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول ایبٹ آباد میں کرائی گئی ۔
اب ماڈرن ایج سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد کے زیرِ اہتمام چوتھا ادبی میلہ اپنی تمام تر توانائیوں اور رعانائیوں کے ساتھ خوب رنگ جمائے ہوئے ہے جس میں پاکستان بھر سے نامور ادبی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے ادبی میلے کی رونق کو دوبالا کر دیا ہے اس ادبی ماحول اور رنگ و بو کی فضا میں ہزارہ کی کئی ادبی تنظیمیں علم و ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں اور اپنی اپنی جگہ سب ہی ادب کی ترقی و ترویج کے لیے نمایاں خدمات انجام دیتی آ رہی ہیں ان ہی میں ایک منظم، فحال اور ہزارہ کی بڑی نمائندہ ادبی تنظیم "بزمِ مصنفین ہزارہ” ہے۔
اس کی مرکزی تنظیم کے علاوہ ہزارہ کے آٹھ اضلاع میں ضلعی تنظیمیں بھی قائم ہیں۔ ضلعی تنظیموں میں بزمِ مصنفین ایبٹ آباد، بزم مصنفین ضلع ہری پور، بزمِ مصنفین ضلع مانسہرہ، بزمِ مصنفین ضلع تورغر، بزمِ مصنفین ضلع بٹ گرام، بزمِ مصنفین ضلع کوہستان شامل ہیں اس کے علاوہ بزم مصنفین ہزارہ کا ایک یوتھ ونگ بھی ہے جو جوش و جذبے سے علم و ادب کے حصول کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔
علاوہ ازیں اور سیز پاکستانیوں کا الگ ونگ ہے جو بزمِ مصنفین کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ہماری خواتین بھی علم و آگہی اور تحریر و تحقیق میں کسی سے کم نہیں۔ خواتین ممبران کا بھی ایک علیحدہ ونگ ہے ہماری قابلِ احترام خواتین بھی بزم کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس ونگ میں خواتین مصنفین کی تعداد 57 ہے اور مرد صاحبان کی تعداد 200 کے قریب ہے اس طرح خواتین اور مرد حضرات کا الگ الگ واٹس ایپ گروپ بھی موجود ہے۔
اس کے علاوہ بزمِ مصنفین تناول بھی بزم مصنفین ہزارہ کی زیلی شاخ ہے پاکستان بھر سے نمائندگی کے لیے اعزازی ونگ موجود ہے جس میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر شہروں کے مصنفین کو اعزازی ممبر بنا کر بزم کی زینت کو بڑھایا جاتا ہے۔ یہ ہزارہ کی واحد تنظیم ہے جس کے زیرِ اہتمام 6 سال کی قلیل مدت میں سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں بل کہ اس تنظیم کی شان دار کارکردگی پر بھی دو کتب شائع ہو کر داد تحسین پا چکی ہیں جب کہ تیسری کتاب کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔
شاعرات کے پہلے دونوں انگریزی شعری مجموعے شائع کرنے کا سہرا بھی بزمِ مصنفین ہزارہ کے سر ہے اس کے علاوہ ہندکو کی دس کتب بھی بزم کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکی ہیں۔ یہی نہیں ہندکو زبان کی پہلی دونوں آپ بیتیاں بھی بزم کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہیں۔
ہزارہ بھر کے مصنفین کی تصنیفی و تحقیقی خدمات پر ایک ضخیم کتاب”تذکرہ بزمِ مصنفین ہزارہ” کی ناشر بھی بزمِ ہی ہے۔ 12 زبانوں میں شاعری کی کتاب "گلدستہ شعرائے ہزارہ” کی اشاعت بھی بزم کی مرہون منت رہی۔ ہزارہ میں خواتین شاعرات کا پہلا باقاعدہ مشاعرہ منعقد کرنے کا اعزاز بھی تنظیم کے پاس ہی ہے۔
ڈاکٹر پروین سیف صدر خواتین ونگ علمی و ادبی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی مصنفات و شاعرات کی ادبی خدمات پر پر ایک کتاب لکھ رہی ہیں۔ اس لحاظ سے بھی بزم مصنفین ہزارہ کو فضیلت حاصل ہے کہ روزنامہ ندائے خلق جس کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر چن مبارک ہزاروی ہیں ان کی خصوصی محبت اور تعاون سے ہر ماہ دو ادبی ایڈیشن شائع کیے جا رہے ہیں جن میں بزمِ مصنفین ہزارہ کے شعرا اور شاعرات کی شاعری کالم نگاروں کے کالم اور مضامین تقریبات کی رپورٹ اور دیگر خدمات شامل کی جاتی ہیں۔
دسمبر 2020 میں بزمِ مصنفین ہزارہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اسی لیے ہر سال دسمبر میں باقاعدگی کے ساتھ اس کی سالگرہ بھی شایان شان طریقے سے منائی جاتی ہے۔ اس کا اپنا ایک میڈیا گروپ ہے جو تنظیم کے ممبران اور خصوصا نئے لکھاریوں کی تحریروں کو شائع کرتا رہتا ہے نوجوان لکھاریوں کی کتب کی اشاعت میں مدد فراہم کرتا ہے اور نئی کتب کی تقریب رونمائی کے لیے بھی انتظام و اہتمام کیا جاتا ہے۔
نئے لکھنے والوں اور خصوصا مقالہ نگاروں کی تحقیق کے لیے ہزارہ علم و ادب لائبریری کے دروازے ہمیشہ وا رہتے ہیں اور ہر ممبر کی کتاب کو بھی اس لائبریری کی زینت بنایا جاتا ہے اب تک اس لائبریری سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے 24 سکالرز استفادہ کر چکے ہیں۔ سال کے دوران بزمِ مصنفین ہزارہ کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتب کو ہر سال بابا سجاول ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ بزم پاکستان میں ہونے والی ایوارڈ تقریبات میں مصنفین کی کتب بھیج کر ممبران کی ایوارڈ کے لیے رسائی ممکن بنائی جاتی ہے۔
بزم خود بھی تقریب رونمائی میں مصنفین اور خصوصا نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شیلڈز اور تعریفی اسناد کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ اب تک بزمِ مصنفین ہزارہ کے ممبران کو مصنفین کی دو ہزار سے زائد کتب گفٹ کی گئیں ہیں۔ بزمِ مصنفین ہزارہ کے مصنفین کی سب سے زیادہ 142 کتب کی تقریب رونمائی و پذیرائی کروانے کا منفرد اعزاز بھی بزم کو ہی حاصل ہے۔
ممبران کی سہولت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہزارہ کے بڑے اضلاع ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ترجیح بنیادوں پر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ بزمِ نے ہزارہ کے تمام اضلاع کی تاریخ لکھنے کا عزم بھی کر رکھا ہے۔ ضلع ہری پور اور تورغر کی تاریخ پر کتب شائع ہو چکی ہیں جب کہ باقی اضلاع پر تحقیق جاری ہے۔
اوپر تحریر کی گئی بزمِ مصنفین ہزارہ کی خدمات اور کار ہائے نمایاں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے یہ تنظیم اپنے محدود وسائل کے باوجود مصنفین ہزارہ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے اور ادب کی خدمت کے لیے جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ احسن طریقے سے انجام دینے میں مصروف عمل ہے۔ ہزارہ میں علم وادب کے فروغ کا جب بھی ذکر آئے گا تو بزم مصنفین ہزارہ کا نام سب سے پہلے ہو گا!! (صاحب مضمون (ریاض ملک) مرکزی چیئرمین بزمِ مصنفین ہزارہ ہیں)



