بھارت میں طلبہ پر پولیس تشدد، کانگریس کا مودی ہاؤس کے باہر احتجاج، راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی گرفتار
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی، رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی اور کانگریس کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
احتجاج میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے بھی شریک تھے۔ مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
راہول گاندھی کی پولیس کارروائی پر تنقید
راہول گاندھی نے طلبہ اور کارکنوں پر پولیس کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں ہزاروں نوجوان اپنے بہتر مستقبل اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے لیے جمع ہوئے تھے، لیکن ان پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں سنگین مسائل موجود ہیں اور پرامن مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج غیر جمہوری طرزِ عمل ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کر دیا
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں عدالت کو غیر ضروری طور پر شامل نہ کیا جائے۔
احتجاج کیوں شروع ہوا؟
رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ اور نوجوان امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے لیے جمع ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔
180 سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 118 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔
پولیس نے مظاہرین پر تشدد کا الزام عائد کیا، جبکہ احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔
احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان
احتجاجی تحریک کے رہنما آشوتوش رانکا نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔ منگل کو بھی سیکڑوں مظاہرین جنتر منتر میں موجود رہے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ احتجاجی تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا سے شروع ہوئی تھی اور حالیہ امتحانی اسکینڈلز کے بعد اسے وسیع عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ مبصرین کے مطابق یہ مودی حکومت کو درپیش اہم عوامی چیلنجز میں شمار کی جا رہی ہے۔
امتحانی اسکینڈلز نے بحران کو بڑھا دیا
حالیہ مہینوں میں بھارت میں مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق لاکھوں میڈیکل امیدواروں کو پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ ہائی اسکول کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی اعتراضات سامنے آئے، جس کے باعث طلبہ میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
FAQs
راہول گاندھی کو کیوں گرفتار کیا گیا؟
راہول گاندھی کو نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں، مبینہ پرچہ لیک، تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے؟
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔


