پاکستانتازہ ترین

پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کی کزن نہیں، ملک میں نظام چلانے کے لیے ساتھ ہیں: سردار سلیم حیدر

لاہور (بیوروچیف) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے منشور میں روٹی، کپڑا اور مکان شامل ہے، عوام کا جو درد پیپلز پارٹی کو ہے وہ کسی دوسری جماعت کو نہیں۔ حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر غریب اور سیلاب متاثرین کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔

وہ پی پی 96 چنیوٹ کے مستحق سیلاب متاثرین میں تعمیر شدہ گھروں کی چابیاں تقسیم کرنے کے سلسلے میں علی فاطمہ ہائوسنگ سوسائٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ کی جانب سے 8 کنال اراضی پر تعمیر کیے گئے 26 گھروں کی چابیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کی گئیں، جبکہ ہلال احمر کی جانب سے گھروں کی تعمیر کے لیے 4 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کی گئی۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے فلاحی منصوبے کی تکمیل پر اہل علاقہ اور سید حسن مرتضیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہلال احمر ملک کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں مستحق خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب اور محروم طبقات کے حقوق کی بات کی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ حکومتوں کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

عوام شخصیت نہیں، منشور اور سیاست دیکھیں

سردار سلیم حیدر خان نے سیاسی حوالے سے کہا کہ عوام کو خان، چودھری اور ملک دیکھنے کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست اور منشور کو دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مقصد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیراعظم بنانا ہے تاکہ بھٹوز کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی کزن نہیں بلکہ ملک میں نظام چلانے اور ریاستی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابھی تک عوامی توقعات کے مطابق ڈیلیور نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تشکیل عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی اور اس حوالے سے عوام کی خواہشات اور رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button