لاہور (بیوروچیف) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نئے صوبے بنانے کے خلاف نہیں، تاہم وقت اور حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی یکطرفہ فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، اس معاملے پر باقاعدہ بحث ہونی چاہیے۔ طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی۔
لاہور میں وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا ہے، عوام ہیں تو ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نئے یونٹس یا صوبے بنانے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے وقت اور حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فیصلے کو یکطرفہ طور پر مسلط کرنے کے بجائے اس پر تفصیلی بحث اور مشاورت ہونی چاہیے۔
صوبوں کے معدنی ذخائر پر سیاسی جماعتیں کردار ادا کریں: فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں میں معدنی ذخائر موجود ہیں اور آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبے ان کے مالک ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے لیکن صرف سندھ کی حد تک، جبکہ مسلم لیگ ن خاموش ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ ن کی موجودہ حیثیت غلام سے زیادہ نہیں ہے۔
بیرونی قرضوں پر ملکی اساس قائم کردی گئی
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک قوم نہیں بنا سکے اور ملک میں لسانیت کی بنیاد پر فسادات کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اساس بیرونی قرضوں پر رکھ دی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام بظاہر ختم ہوچکا ہے لیکن بین الاقوامی ادارے آج بھی ہمارے ملک کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔
اشرافیہ اور جابرانہ سیاست نہیں چلے گی
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اشرافیہ کی سیاست اور جابرانہ طرزِ سیاست نہیں چلے گی۔ طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کی سیاست بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف ہونے والی تمام تحریکوں کو ناکام بنانا ہوگا اور اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح اور مضبوط رکھنا ہوگا۔



