اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی کسی بچے کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ قائداعظمؒ کے پاکستان میں ہر بچے کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں، خواہ اس کا تعلق امیر خاندان سے ہو یا غریب گھرانے سے، وہ یتیم ہو یا کسی مزدور کا بیٹا یا بیٹی۔ جب تک تمام بچوں کو تعلیم اور علاج کی یکساں سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، پاکستان کو قائداعظمؒ کے تصور کے مطابق ملک نہیں بنایا جا سکتا۔
دانش سکول اسلام آباد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں کا منصوبہ پنجاب سے نکل کر پورے پاکستان میں علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ ان اداروں میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں دانش سکول زیر تعمیر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔ غریب خاندانوں کے ذہین بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لیے ضروری ہے کہ مالی مشکلات کے باعث کوئی بھی باصلاحیت بچہ معیاری تعلیم سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے دانش سکولوں سے متعلق دستاویزی فلموں، طلبہ کے تاثرات اور کامیابیوں کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کی جدوجہد اور کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مناسب مواقع ملنے پر محروم طبقات کے بچے بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی ایک باصلاحیت بچی کی جدوجہد کو امید، حوصلے اور کامیابی کی مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی صلاحیتوں کی حامل اس بچی کی داستان غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح بہاولپور کی ایک ہونہار بچی نے مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کی اور آج ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ محنت کش والدین شدید گرمی اور سردی میں حلال روزی کماتے ہیں، لیکن محدود آمدن کے باعث بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ غریب خاندانوں کے بچے ایچی سن جیسے معروف اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی احساس کے تحت 2010ء میں دانش سکولوں کی بنیاد رکھی گئی تاکہ ذہین اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان غیر معمولی ذہانت، جذبے اور صلاحیتوں کے مالک ہیں اور اپنی محنت سے ملک کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔ ہمارا عزم ہے کہ دانش سکول معروف تعلیمی اداروں سے بھی بہتر ثابت ہوں۔ انصاف، میرٹ اور مساوی مواقع پر مبنی معاشرے کا قیام ہی پاکستان کے بنیادی نظریے کی روح ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے 1947ء میں ایک خوشحال اور بہتر مستقبل کے خواب کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم ان کے خوابوں کی تعبیر کے کتنے قریب پہنچے ہیں۔ دور دراز علاقوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ذہین بچوں کو بھی معیاری تعلیم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دانش سکول اسلام آباد میں 360 طلبہ زیر تعلیم
افتتاحی تقریب کے دوران وزیراعظم کو دانش سکول اسلام آباد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ سکول 30 ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے، جہاں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت سے تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق مختلف علاقوں سے 360 ذہین طلبہ و طالبات کو سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا ہے۔ ہر کلاس میں 120 طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر 38 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ طلبہ کی ضروریات کے مطابق تدریسی عملے میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
سکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اکیڈمک بلاکس قائم کیے گئے ہیں۔ ہر بلاک میں 24 کلاس رومز کے علاوہ آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبارٹریز بھی موجود ہیں۔ طلبہ کی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ای لائبریری اور آرٹ روم کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
افتتاحی تقریب میں شرکت کے موقع پر وزیراعظم نے کلاس رومز، سائنس، آئی ٹی اور روبوٹکس لیبارٹریز سمیت آرٹ روم کا دورہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے زیر تعلیم بچوں سے ملاقات کی، شفقت بھری گفتگو کی اور مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے جذبے کو سراہا۔ طلبہ نے وزیراعظم کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔
چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور مقامی سطح پر متعلقہ اداروں کے تعاون سے سرطان کے خصوصی علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خواتین کو درپیش صحت کے سنگین مسائل، بالخصوص چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی اجاگر کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ابتدائی تشخیص، بروقت طبی جانچ، معیاری علاج اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق خواتین کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں سماجی آگاہی، سازگار ماحول اور صحت کی خدمات تک آسان رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی محدود ہونے کے باعث وہاں رہنے والی خواتین خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی پاکستانی بیٹی کو اس کے علاقے یا مالی استطاعت کی وجہ سے بروقت اور معیاری علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ حکومت چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور مؤثر علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔



