لاہور (بیورو چیف) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے، کیونکہ امن و امان کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ آخری راستہ تھا اور اس کی گنجائش آئین میں موجود ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس لاہور میں سندھ حکومت کے پہلے کامن ٹریننگ پروگرام کے زیرِ تربیت افسران کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد نے ڈائریکٹر جنرل عیسیٰ میمن کی قیادت میں گورنر پنجاب سے ملاقات کی۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور پاک فوج کے جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ آخری آپشن تھا اور یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں، کیونکہ آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آخری وقت تک کوشش کی کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی مفاد ہر چیز پر مقدم ہونا چاہیے اور ملک کی ترقی کے لیے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
گورنر پنجاب نے گڈ گورننس کے حوالے سے کہا کہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے بیوروکریسی اور سول افسران کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب تک نظام چلانے والے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کریں گے، اس وقت تک نظام میں بہتری لانا مشکل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام صوبے کو مختلف یونٹس میں تقسیم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ملکی استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان تعاون اور مثبت سوچ ضروری ہے۔



