انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینفن اور فنکارکالم

عوام اور آئی ایس پی آر کا 77 سالہ تعلق

عقیل انجم اعوان

 

کسی جنگ کا اعلان ہو، سرحد پر کشیدگی بڑھ جائے، دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش آئے، فوجی آپریشن شروع ہو یا ملک کو کسی سنگین قومی سلامتی کے چیلنج کا سامنا ہو، پاکستان میں ایک ادارے کی طرف سب کی نظریں اٹھ جاتی ہیں۔ یہ ادارہ ہے آئی ایس پی آر۔
پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جس نے اس نام کو نہ سنا ہو۔ کئی دہائیوں سے آئی ایس پی آر پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لیکن 1949ء میں قائم ہونے والے اس ادارے اور 2026ء کے آئی ایس پی آر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ابتدا میں جس ادارے کا بنیادی کام اخبارات، ریڈیو اور سرکاری بیانات کے ذریعے فوجی سرگرمیوں کی معلومات عوام تک پہنچانا تھا، آج وہ ایک مکمل جدید میڈیا نظام بن چکا ہے۔

اس کے پاس پریس بریفنگز ہیں۔ ویڈیو پروڈکشن ہے۔ سوشل میڈیا ہے۔ ڈیجیٹل مواد ہے۔ فوجی مشقوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تشہیر ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کا نظام ہے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا مرکزی عسکری ترجمان موجود ہے جو ملکی اور عالمی میڈیا کے سامنے فوج کا مؤقف پیش کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ سفر کیسے طے ہوا؟
پاکستان 1947ء میں آزاد ہوا تو ایک نیا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بے شمار سکیورٹی چیلنجز کا بھی سامنا تھا۔ نئی ریاست کو ایک ایسے ادارے کی ضرورت تھی جو مسلح افواج اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکے۔ چنانچہ مئی 1949ء میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز یعنی آئی ایس پی آر قائم کیا گیا۔

اس وقت دنیا آج جیسی نہیں تھی۔ نہ نجی ٹیلی ویژن چینلز تھے، نہ سوشل میڈیا تھا، نہ یوٹیوب اور نہ ہی چند سیکنڈ میں خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی۔ اخبارات اور ریڈیو ہی معلومات کے بڑے ذرائع تھے۔ چنانچہ آئی ایس پی آر کا ابتدائی کردار بھی اسی ماحول کے مطابق تھا۔

پھر 1965ء کی جنگ آئی اور آئی ایس پی آر کے کردار میں نمایاں وسعت پیدا ہوئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی۔ اس کا ایک محاذ اطلاعات کا بھی ہوتا ہے۔عوام محاذ جنگ کی صورتحال جاننا چاہتے تھے۔ ریاست کو اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھنا تھا۔ فوج کو اپنی کارروائیوں سے متعلق معلومات پہنچانی تھیں اور دشمن کے دعووں کا جواب بھی دینا تھا۔ جنگی بیانات، تصاویر، فوجی کامیابیوں کی اطلاعات، شہداء کی خبریں اور قومی حوصلے کو برقرار رکھنے والا مواد اسی اطلاعاتی جنگ کا حصہ بن گیا۔

لیکن اگر 1965ء نے آئی ایس پی آر کو جنگی اطلاعات کا تجربہ دیا تو 1971ء نے اسے ریاستی بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلے کا تلخ سبق دیا۔اگلی بڑی تبدیلی 1980ء کی دہائی میں آئی۔ 1979ء میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان عالمی سیاست کے ایک اہم مرکز میں تبدیل ہوگیا۔ امریکا، سوویت یونین، افغانستان اور پاکستان کے مفادات ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ سرد جنگ نے خطے کی سیاست ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی سلامتی کے تصور کو بھی تبدیل کردیا۔افغانستان، سرحد، دفاع، بین الاقوامی میڈیا اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑنے لگے اور آئی ایس پی آر کا کام بھی اسی تناسب سے وسیع ہوتا گیا۔

پھر 1990ء کی دہائی میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کا اثر بڑھنے لگا۔ فوجی تعلقات عامہ اب صرف پریس ریلیز اور اخباری بیانات تک محدود نہیں رہ سکتے تھے۔ آئی ایس پی آر نے میڈیا کی طاقت کو ایک نئے انداز میں استعمال کرنا شروع کیا۔ڈرامے، فلمیں، قومی نغمے اور دستاویزی پروگرام فوجی زندگی کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ بنے۔1998ء میں آنے والا ڈرامہ ’’الفا براوو چارلی‘‘ اس حوالے سے ایک اہم مثال تھا۔ فوجی افسران کی زندگی، دوستی، محبت، جنگ، قربانی اور وطن سے وفاداری کو ایک ڈرامائی کہانی میں پیش کیا گیا۔ یہ ڈرامہ غیر معمولی طور پر مقبول ہوا اور اس نے یہ ثابت کیا کہ فوج کے بارے میں عوامی تاثر صرف پریس کانفرنس سے نہیں بلکہ کہانی کے ذریعے بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

یہ آئی ایس پی آر کی میڈیا حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی تھی۔ فوج اب صرف خبر کا موضوع نہیں رہی تھی بلکہ خود ایک میڈیا اسٹوری بن چکی تھی۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد فوج اور سیاست کا تعلق ایک مرتبہ پھر براہ راست ملکی اقتدار کے مرکز میں آگیا۔ اس دور میں قومی سلامتی، ریاستی پالیسی، فوجی قیادت اور سیاسی معاملات کے حوالے سے ابلاغ کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی۔ چنانچہ آئی ایس پی آر کی اہمیت بھی مزید نمایاں ہوئی۔پھر 11 ستمبر 2001ء کے حملوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔

امریکا افغانستان میں داخل ہوا اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اہم فریق بن گیا۔ اس کے بعد خود پاکستان دہشت گردی کی ایک طویل جنگ میں داخل ہوگیا۔ وزیرستان سے سوات تک، بازاروں سے مساجد تک اور فوجی تنصیبات سے اسکولوں تک دہشت گردی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔یہ وہ مرحلہ تھا جب آئی ایس پی آر کے کردار میں بنیادی تبدیلی آئی۔

اب سوال صرف یہ نہیں تھا کہ فوج کہاں آپریشن کر رہی ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ عوام کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیوں ضروری ہے؟ فوجی جوانوں کی قربانیوں کو کیسے سامنے لایا جائے؟ دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا جواب کیسے دیا جائے؟ اور عالمی میڈیا کو پاکستان کا مؤقف کیسے سمجھایا جائے؟

راہِ راست، راہِ نجات، ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے دوران آئی ایس پی آر نے مسلسل میڈیا بریفنگز، اعداد و شمار، تصاویر، ویڈیوز اور صحافیوں کے لیے آپریشن والے علاقوں کے دوروں کے ذریعے فوجی کارروائیوں کا مؤقف عوام تک پہنچایا۔یوں آئی ایس پی آر محض پریس آفس نہیں رہا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکزی ابلاغی ترجمان بن گیا۔پھر سوشل میڈیا آیا اور اس نے سب کچھ بدل دیا۔فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اطلاعات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ اب خبر کے لیے اگلے دن کے اخبار کا انتظار ضروری نہیں تھا۔ ایک بیان، ایک ویڈیو یا ایک پوسٹ چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی تھی۔
آئی ایس پی آر نے بھی اس تبدیلی کو قبول کیا اور روایتی تعلقات عامہ سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف تیزی سے سفر کیا۔

2019ء کا پاک بھارت بحران اس سفر کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ بھارتی فضائی کارروائی، پاکستان کا جواب، فضائی جھڑپ اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری جیسے واقعات عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔اس بحران نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جدید جنگ صرف توپ، ٹینک اور میزائل سے نہیں لڑی جاتی۔ اطلاعات بھی جنگ کا ایک میدان ہیں۔2022ء کے بعد آئی ایس پی آر کے کردار پر ایک نئی بحث شروع ہوئی۔ پریس کانفرنسوں میں دہشت گردی اور قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات، ریاستی اداروں کے کردار اور فوج پر ہونے والی تنقید بھی زیر بحث آنے لگی۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا۔کیا فوجی ترجمان کا دائرہ کار صرف دفاع اور سکیورٹی تک محدود ہونا چاہیے یا قومی سلامتی سے جڑے سیاسی معاملات پر بھی عسکری ادارے کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے؟یہ سوال آج بھی پاکستان کی سیاسی اور صحافتی بحث کا حصہ ہے۔2023ء اور اس کے بعد آئی ایس پی آر ایک جدید ڈیجیٹل میڈیا ادارے کے طور پر مزید نمایاں ہوا۔ پریس کانفرنسوں کے ساتھ ویڈیوز، انفوگرافکس، سوشل میڈیا پوسٹس، فوجی مشقوں کی فوٹیج، شہداء کے حوالے سے مواد اور دفاعی صلاحیتوں کی نمائش ایک منظم ابلاغی حکمت عملی کا حصہ بنتی گئی۔

2024ء میں دہشت گردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر آئی ایس پی آر کے کردار کو نمایاں کیا۔ سکیورٹی صورتحال، انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونے والے آپریشنز اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار مسلسل میڈیا کے سامنے رکھے گئے۔پھر 2025ء آیا اور پاکستان بھارت کشیدگی نے آئی ایس پی آر کے لیے ایک نیا امتحان پیدا کردیا۔پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی بڑھی اور اپریل اور مئی میں براہ راست فوجی تصادم ہوا۔ پاکستان نے اپنی فوجی کارروائی کو ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کا نام دیا۔
اس مرحلے میں آئی ایس پی آر کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں تھا۔ تینوں مسلح افواج کے نمائندوں کی مشترکہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے پاکستان کا عسکری مؤقف ملک اور دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

یہ جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی جا رہی تھی۔ اس کا ایک محاذ فضا میں تھا، ایک زمین پر، ایک سمندر میں اور ایک اطلاعات کے میدان میں۔2026ء میں افغانستان کے ساتھ کشیدگی نے آئی ایس پی آر کے دائرہ کار میں ایک اور اہم پہلو شامل کردیا۔ پاکستان افغانستان سرحد، دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے فوجی مؤقف مسلسل سامنے آتا رہا۔اسی سال بلوچستان کی صورتحال بھی آئی ایس پی آر کی اہم بریفنگز کا موضوع بنی۔

یوں 1949ء میں قائم ہونے والا ایک چھوٹا سا فوجی تعلقات عامہ کا ادارہ 77 سال بعد ایک ایسے وسیع ابلاغی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جو ملکی دفاع، دہشت گردی، سرحدی تنازعات، علاقائی سلامتی، فوجی آپریشنز اور دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں ریاستی عسکری مؤقف عوام تک پہنچاتا ہے۔لیکن اس کامیابی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ناقدین کے نزدیک آئی ایس پی آر کا کردار روایتی تعلقات عامہ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ ڈرامے، فلمیں، قومی نغمے، سوشل میڈیا، پریس کانفرنسیں اور سیاسی نوعیت کے معاملات پر بیانات اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ان کے نزدیک سوال یہ ہے کہ ریاستی ادارے کی اطلاعات اور آزاد صحافت کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟

دوسری طرف آئی ایس پی آر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ آج کا زمانہ اطلاعاتی جنگ کا زمانہ ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں۔ مخالف ریاستیں اپنے بیانیے دنیا بھر میں پھیلاتی ہیں۔ جعلی معلومات چند منٹ میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہیں۔ ایسے میں اگر فوج اپنا مؤقف خود پیش نہ کرے تو اطلاعاتی خلا کون پُر کرے گا؟یہ دونوں مؤقف اپنی جگہ اہم ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ 1949ء کا آئی ایس پی آر اور 2026ء کا آئی ایس پی آر ایک ہی نام کے دو مختلف ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔1949ء میں ریڈیو اور اخبارات تھے۔1965ء میں جنگی اطلاعات کا محاذ سامنے آیا۔1971ء نے ریاستی بیانیے اور زمینی حقیقت کے فاصلے کا سبق دیا۔
1980ء کی دہائی نے افغانستان اور عالمی میڈیا کو اہم بنا دیا۔1990ء کی دہائی نے ڈرامے اور فلم کو فوجی تعلقات عامہ کا ذریعہ بنایا۔
1998ء میں ’’الفا براوو چارلی‘‘ نے فوجی زندگی کو ایک مقبول عوامی کہانی بنا دیا۔

2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے آئی ایس پی آر کو قومی سلامتی کے سب سے اہم ابلاغی اداروں میں شامل کردیا۔
2019ء نے پاک بھارت اطلاعاتی جنگ کی اہمیت واضح کی۔2022ء کے بعد سیاسی معاملات نے اس کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی۔
اور 2025ء اور 2026ء نے اسے ایک ایسے دور میں داخل کردیا جہاں جنگ اور اطلاعات ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں۔آج سوال یہ نہیں کہ آئی ایس پی آر صرف فوج کا ترجمان ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ جدید ریاست میں اطلاعات کی طاقت کہاں تک استعمال ہونی چاہیے اور اس طاقت کے سامنے جواب دہی، شفافیت اور آزاد صحافت کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟کیونکہ آج جنگ صرف سرحد پر نہیں ہوتی۔جنگ ٹیلی ویژن کی اسکرین پر بھی ہوتی ہے۔جنگ موبائل فون پر بھی ہوتی ہے۔جنگ سوشل میڈیا پر بھی ہوتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر جنگ لوگوں کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔اسی لیے 1949ء میں ریڈیو کے مائیک سے شروع ہونے والا آئی ایس پی آر کا سفر 2026ء میں کروڑوں موبائل فونز کی اسکرین تک پہنچ چکا ہے۔

77 سال میں ایک فوجی تعلقات عامہ کے ادارے نے خود کو وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے میڈیا کے ہر بڑے دور سے گزارا ہے۔
اور شاید آئی ایس پی آر کی 77 سالہ تاریخ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جنگ کے میدان بدلتے رہتے ہیں۔کبھی میدان سرحد ہوتی ہے۔کبھی آسمان۔کبھی سمندر۔اور کبھی انسان کا ذہن۔آج کے دور میں جس ریاست کے پاس معلومات کی رفتار، سمت اور اثر کو سمجھنے کی صلاحیت ہو، وہ صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ اطلاعات کے میدان میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط رکھ سکتی ہے۔

آئی ایس پی آر اسی بدلتی ہوئی دنیا کی ایک نمایاں مثال ہے۔1949ء میں قائم ہونے والا ادارہ آج 2026ء میں پاکستان کی عسکری اطلاعاتی مشینری کا مرکزی چہرہ بن چکا ہے۔اور ریڈیو کے ایک مائیک سے شروع ہونے والا یہ سفر اب کروڑوں موبائل اسکرینوں تک پہنچ چکا ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button