بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

خوبصورت اداسی

بے لگام / ستارچوہدری

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے انسان محبت کی وجہ سے اداس نہیں ہوتا، شاید وہ پہلے ہی اداس ہوتا ہے۔ محبت تو بعد میں آتی ہے اوراس اداسی کو ایک نام دے دیتی ہے۔محبت سے پہلے بھی آدمی شام کو گھرلوٹتا ہے، مگرنہ جانے کیوں دل بجھا بجھا سا ہوتا ہے۔ اردگرد لوگ ہوتے ہیں، بازارروشن ہوتے ہیں، دوست ہنستے ہیں، موبائل پ پیغامات آتے رہتے ہیں، مگردل کسی چیزمیں نہیں لگتا۔

دنیا اپنی جگہ موجود ہوتی ہے، بس اس کے رنگ کہیں گم ہو جاتے ہیں۔وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اسے کیا چاہیے۔کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھ کرباہردیکھتا ہے، کبھی بے مقصد سڑکوں پرچلتا رہتا ہے، کبھی کوئی گانا سنتا ہے اوراچانک دل مزید اداس ہو جاتا ہے۔ کوئی پوچھے، کیا ہوا۔۔۔۔؟ تواس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔۔وہ کہتا ہے، کچھ نہیں۔۔۔۔حالانکہ اس کے اندر بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔۔شاید انسان کے اندرایک خالی جگہ ہوتی ہے۔ ایک ایسا کمرہ جس میں کوئی رہتا نہیں، مگرآدمی ساری عمراس کے دروازے کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔

کبھی اسے لگتا ہے کوئی دوست آ کریہ کمرہ بھر دے گا، کبھی کوئی خواب، کبھی کوئی کامیابی، کبھی دولت، کبھی شہرت،مگرکمرہ خالی رہتا ہے۔۔۔۔پھرایک دن زندگی میں کوئی آتا ہے،وہ شخص جس سے بات کرتے ہوئے وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا،جس کا ایک پیغام پورا دن بدل دیتا ہے،جس کی ناراضی دل پربوجھ بن جاتی ہے اورجس کی ایک مسکراہٹ دنیا کو خوبصورت بنا دیتی ہے،تب انسان کو لگتا ہے کہ شاید وہ خالی کمرہ بھرگیا،مگرعجیب بات یہ ہے کہ اداسی ختم نہیں ہوتی،اب آدمی کسی اور وجہ سے اداس رہتا ہے۔اب اسے محبوب کی آواز سننے کی خواہش ہوتی ہے، ملنے کی بے قراری ہوتی ہے، جواب کا انتظار ہوتا ہے، جدائی کا خوف ہوتا ہے۔

محبوب سامنے بیٹھا ہو تو بھی دل میں یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں یہ لمحہ ختم نہ ہو جائے۔۔۔۔یعنی محبت نے اداسی ختم نہیں کی،اس نے صرف اداسی کوایک چہرہ دے دیا۔۔۔۔محبت شاید دنیا کی واحد ایسی چیزہے جوانسان کو خوش بھی کرتی ہے اوربے چین بھی۔ محبوب کا ایک پیغام چہرے پرمسکراہٹ لے آتا ہے، مگراسی پیغام کے بعد اگلے پیغام کا انتظارشروع ہوجاتا ہے۔ ایک ملاقات دل کو سکون دیتی ہے، مگررخصت ہوتے ہی اگلی ملاقات کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔۔۔۔

محبت میں آدمی عجیب ہوجاتا ہے،وہ ہنستے ہنستے اچانک خاموش ہوجاتا ہے، محفل میں بیٹھا ہوتا ہے مگر دھیان کہیں اورہوتا ہے۔ سامنے دوست بات کررہے ہوتے ہیں اوروہ موبائل کی اسکرین دیکھ رہا ہوتا ہے، جیسے وہاں کسی ایک نام کے نمودارہونے سے پوری دنیا بدل جانی ہو۔۔۔۔اورکبھی محبوب ناراض ہو جائے تو دنیا کی ساری آوازیں بے معنی لگنے لگتی ہیں۔یہ کیسی کیفیت ہے۔۔۔۔؟جس شخص کے آنے سے زندگی میں رنگ بھرے، اسی کے نہ ملنے سے وہی زندگی بے رنگ بھی ہو جائے۔

شاید محبت کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ انسان کو اپنے علاوہ کسی دوسرے انسان سے جوڑ دیتی ہے، پھراس دوسرے شخص کی خوشی اپنی خوشی لگتی ہے، اس کی پریشانی اپنی پریشانی، اس کی خاموشی اپنی بے چینی اور اس کی دوری اپنی تنہائی بن جاتی ہے،لیکن سوال پھر بھی وہیں کھڑا رہتا ہے،اگرمحبت میں بھی آدمی اداس ہے اورمحبت کے بغیر بھی، تو آخر فرق کیا ہے۔۔۔۔؟فرق شاید صرف اتنا ہے کہ محبت سے پہلے آدمی اپنی اداسی کو سمجھ نہیں پاتا، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ دل کیوں بجھا ہوا ہے، کس چیزکی کمی ہے، کس کا انتظار ہے،محبت کے بعد اسے کم از کم یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دل کس کے لیے دھڑک رہا ہے،پہلے وہ بے نام اداسی تھی۔

اب اس کا نام ہے ’’ محبوب ‘‘اورشاید اسی لیے محبت کی اداسی بھی عجیب ہوتی ہے،اس میں دکھ ہوتا ہے، مگراسی دکھ میں ایک میٹھی سی لذت بھی چھپی ہوتی ہے،آدمی جانتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے، اسی کی وجہ سے بے قرار ہے، پھر بھی اس بے قراری سے نجات نہیں چاہتا۔۔۔۔کیونکہ بعض اداسیاں انسان کو توڑتی نہیں، اسے زندہ رکھتی ہیں۔۔۔۔

شاید اسی لیے انسان ساری عمرکسی نہ کسی کی تلاش میں رہتا ہے۔ کبھی اسے لگتا ہے کہ اسے دولت چاہیے، کبھی کامیابی، کبھی شہرت، کبھی ایک خوبصورت گھر، کبھی ایک آرام دہ زندگی۔ مگر ان سب چیزوں کے درمیان بھی دل کے کسی کونے میں ایک سوال خاموش بیٹھا رہتا ہے۔۔۔۔’’ کیا کوئی ہے جو مجھے سمجھتا ہو۔۔۔۔؟ ‘‘شاید انسان کو محبت سے زیادہ سمجھا جانے کی ضرورت ہوتی ہے،کوئی ایسا شخص جس کے سامنے اسے اپنے آپ کو اچھا ثابت نہ کرنا پڑے،جس کے سامنے وہ اپنی کمزوریاں چھپا نہ سکے، جس کے سامنے خاموش بیٹھا رہے تو بھی دوسرا اس کی خاموشی پڑھ لے،پھرسمجھ آتا ہے کہ محبت صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں، محبت تو یہ یقین ہے کہ دنیا میں کہیں ایک دل ایسا بھی ہے جس میں ہماری جگہ ہے۔۔۔۔اورجسے یہ جگہ مل جائے، وہ بھی مکمل طور پربے فکر نہیں ہوتا، اسے پھراس جگہ کے چھن جانے کا خوف رہتا ہے۔

وہ محبوب کی آواز کا انتظارکرتا ہے، اس کے قدموں کی چاپ سنتا ہے، اس کی ناراضی سے گھبراتا ہے، اس کی خوشی میں خوش ہوتا ہے،یعنی انسان آخرکاروہاں بھی اداس رہتا ہے جہاں اسے محبت مل جاتی ہے،شاید اس لیے کہ دل کو سکون صرف محبت سے نہیں ملتا،دل کو سکون تب ملتا ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ جسے وہ چاہتا ہے، وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔۔۔اورشاید یہی انسانی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔۔۔۔ہم محبت نہ ملنے پربھی اداس رہتے ہیں، محبت ملنے کے بعد بھی اسے کھونے کے خوف میں اداس رہتے ہیں۔۔۔۔تو پھرکیا کیا جائے۔۔۔۔؟۔۔۔۔شاید کچھ نہیں۔۔۔۔

بس جسے چاہیں، اسے بتا دیں کہ آپ اسے چاہتے ہیں، جس سے محبت ہے، اس سے محبت کا اظہارکردیں،کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔۔۔۔ نہ جانے کس لمحے زندگی کی شام ہوجائے ، بس اتنا یاد رکھیں، محبت اداسی ختم نہیں کرتی، محبت ہمیں یہ بتا دیتی ہے کہ ہم کس کیلئے اداس ہیں۔۔۔۔ اورشاید انسان کی سب سے خوبصورت اداسی وہی ہے، جس کے آخرمیں کسی کا نام آتا ہو۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button