انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

لاہور کے رائے بہادر رام سرن داس

’’میرے دادا جن کو میں جانتی نہ تھی‘‘،مترجم: شعیب رضا،تبصرہ نگار: ڈاکٹر وسیم عباس گل

لاہور:(شہزاد فراموش)تاریخی کتب کے تراجم تاریخی واقعات، شخصیات اور تہذیبی حالات کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرتے ہیں۔تاریخی کتب کا ترجمہ ایک حساس اور ذمہ دارانہ کام ہے، کیونکہ مترجم کو صرف الفاظ نہیں بلکہ تاریخی پس منظر، اصطلاحات، ثقافت اور مصنف کے اصل مفہوم کو بھی دوسری زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ تاریخی کتب کے تراجم مختلف قوموں اور زبانوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کی تاریخ اور تہذیب سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے ایسے تاریخی ذخیرے سے بھی استفادہ ممکن ہوتا ہے جو کسی دوسری زبان میں محفوظ ہو۔
Rai Bahadur Ram Saran Das of Lahore:
Thr Grandfather I Did Not Know”
By Nilima Lambah
ایک اہم اور نایاب تاریخی دستاویز ہے جو شہر لاہور کی تاریخی،سیاسی،سماجی اور ثقافتی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔یہ کتاب برطانوی دور کے ایک ممتاز تاجر اور اہم سماجی شخصیت جو قیامِ پاکستان سے پہلے لاہور میں مقیم تھے سے جڑی ان یاد داشتوں کا مجموعہ ہے جنہیں ان کی پڑپوتی نے اپنے پرداد کی یاد میں رقم کیا ہے۔

یہ نوحہ ہے ان یادوں ،رشتوں ، سماجی شناخت اور بے شمار اجڑے ہوئے اور مٹتے ہوئے خاندانوں کی طرح ایک خاندان کا جس کا 1947 کے فسادات نے خاتمہ کر دیا۔ یہ داستان ہے اس خاندان کی جو لاہور میں فسادات سے پہلے انسانی ہمدردی اور سماجی فلاح و بہبود کا علم بردار تھا جن کی باقیات آج بھی لاہور کی تاریخ کے اوراق پر لالہ میلا رام کے لاہور میں بنائے ہوئے چڑیا گھر،واپڈا ہاوس ،میلا رام بلڈنگ،ریلوے اسٹیشن کے قریب مشہورتالاب کی صورت نقش ہیں یہ انسانی تقسیم کے المیے کی ایک کرب ناک چیخ ہے جسے ایک داستان کی صورت نیلیمہ لامبا نے تحریر کیا ہے۔

نیلیمہ لامبا کی یہ کتاب 10 ابواب اور 4 ضمیمہ جات پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا اصل متن انگریزی زبان میں ہے۔یہ کتاب 2020 میں رائے بہادر سرن داس کی شخصیت اور خدمات پر دہلی سے شائع ہوئی۔پروفیسر شعیب رضا نے اس تاریخی اور اہم دستاویز کو بہت احسن انداز میں ’’لاہور کے رائے بہادر رام سرن داس:میرے دادا جن کو میں جانتی نہ تھی‘‘ کے نام سے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔

اس کتاب کے سرِ ورق پر رائے بادر رام سرن داس کی خوبصورت تصویر ہے۔اور کتاب کے بیک فلیپ پر اہم شخصیات جن میں پرناب مکھرجی ،صدرِ ہندوستان ،کے نٹور سنگھ،سابق وزیرِ خارجہ،حکومتِ ہند کی آرا رقم ہیں اور پاکستانی وہندوستانی اخبارات ’’دی انڈین ایکسپرس ‘‘ 7 دسمبر 2008 ’’دی ہندو‘‘ 2نومبر 2008’’دی ہندو‘‘5 اپریل 2009،’’انڈین فارن افیئر جنرل‘‘جنوری تا مارچ 2009،’’دی ڈان ، پاکستان‘‘ 8فروری 2009کےریویو نوٹ درج ہیں ۔اس کتاب کو لاہور شناسی پبلی کیشنز نے 2024 میں لاہور سے شائع کیا ہے۔

تاریخی کتاب کے ترجمے سے پہلے مترجم کو اصل کتاب کا گہرا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ تاریخی واقعات، ناموں، مقامات، سنین اور اصطلاحات کی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔ ترجمہ کرتے وقت اصل عبارت کے مفہوم اور مصنف کے انداز کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ہدف زبان میں رواں اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا پڑتاہے۔ مشکل تاریخی اصطلاحات کے لیے حواشی اور وضاحتیں بھی دی جا تی ہیں۔

اچھے تاریخی ترجمے میں صحت، دیانت، روانی اور وضاحت بنیادی خصوصیات ہیں ان تمام معیارات کو مدِ نطر رکھتے ہوئے میں پروفیسر شعیب رضا کی اس علمی کاوش پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اور ان کے اس کارنامے کو لائقِ تحسین اور قابلِ ستائش سمجھتا ہوں۔
تاریخی تراجم علمی و تحقیقی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سے بین الاقوامی علمی رابطے بڑھتے ہیں، مختلف تہذیبوں میں باہمی فہم پیدا ہوتا ہے اور نئی نسل اپنے ماضی اور دنیا کی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

یوں تاریخی کتب کے معیاری تراجم علمی ورثے کو محفوظ رکھنے اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پروفیسر شعیب رضا کا یہ کارنامہ اردو تحقیق اور اردو ترجمہ نگاری میں ایک اہم باب ہے جو محققین اور قارئین کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا اور علم کے نئے در وا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button