
وہ ہرصبح آئینے کے سامنے کھڑا ہوکراپنا چہرہ پہچان لیتا تھا، مگراپنا نام نہیں پہچان پاتا تھا،یہ عجیب بات تھی،اتنی عجیب کہ محلے کے لوگ پہلے اس پرہنستے تھے، پھرحیران ہوئے، پھرڈرنے لگے۔۔۔۔وہ صبح اٹھتا، وضوکرتا، کمرے کی کھڑکی کھولتا، باہرگلی میں جھانکتا اورچند لمحے خاموش کھڑا رہتا،پھرہمیشہ کی طرح آئینے کے سامنے جاتا،اپنے بال سنوارتا، چہرے پرہاتھ پھیرتا اوربڑے غور سے خود کو دیکھتا۔
’’ میں کون ہوں۔۔۔۔؟ ‘‘
یہ سوال وہ آئینے سے نہیں، اپنے آپ سے کرتا تھا۔۔۔۔۔اورپھرایک اورسوال۔۔۔
’’میرا نام کیا ہے ۔۔۔۔؟ ‘‘
کبھی جواب نہیں ملتا تھا،عجیب بات یہ تھی کہ اسے باقی سب کچھ یاد رہتا تھا،اسے یاد تھا کہ اس کے گھر کا دروازہ نیلا ہے،اسے یاد تھا کہ اس کی بیوی صبح چائے میں چینی کم ڈالتی ہے۔۔۔۔اسے یاد تھا کہ اس کا چھوٹا بیٹا اسکول جاتے ہوئے ہمیشہ ایک جوتا جلدی پہنتا ہے اور دوسرا دیر سے۔۔۔۔اسے یہ بھی یاد تھا کہ گلی کے کونے پردودھ والا ہرصبح دودھ میں پانی ملاتا ہے۔۔۔۔اسے لوگوں کے چہرے یاد تھے،باتیں یاد تھیں،رشتے یاد تھے،حتیٰ کہ اسے اپنے بچپن کا وہ درخت بھی یاد تھا جس پرچڑھ کروہ محلے کے لڑکوں سے چھپ جایا کرتا تھا،صرف ایک چیزیاد نہیں تھی۔۔۔ ’’ اپنا نام ‘‘۔۔۔۔پہلے پہل اس کی بیوی نے سمجھا کہ شاید مذاق کررہا ہے۔۔۔۔اچھا، بتائیں آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔؟وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھرمسکرا دیا۔۔۔۔ تمہیں توپتا ہے۔۔۔۔ مجھے پتا ہے، آپ کوکیوں نہیں پتا۔۔۔۔؟ وہ خاموش ہوگیا۔۔۔۔
پھربیوی نے اس کا نام بتایا، وہ کچھ دیراس لفظ کودہراتا رہا، جیسے کوئی بچہ پہلی بارکوئی مشکل لفظ یاد کررہا ہو۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ یہی ہے میرا نام۔۔۔۔ لیکن اگلی صبح وہ پھربھول چکا تھا، یہ سلسلہ کئی دن چلتا رہا۔۔۔ پھر ہفتے گزرگئے۔۔۔ محلے میں خبر پھیل گئی۔۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔۔ وہی آدمی جسے اپنا نام یاد نہیں رہتا۔ بچے اسے دیکھ کرہنستے۔ کچھ لوگ راستہ روک کرپوچھتے، اوئے، اپنا نام تو بتاؤ !!۔۔۔ وہ ان کی طرف دیکھتا اورمسکرا دیتا۔ کبھی جواب دیتا، کبھی نہیں دیتا، لیکن ایک بات عجیب تھی، وہ کبھی پریشان نہیں ہوتا تھا۔۔۔ ایک دن محلے کے بزرگ نے اس سے پوچھ ہی لیا، بیٹا، تمہیں اپنا نام یاد کیوں نہیں رہتا۔۔۔؟ وہ کافی دیرخاموش رہا،پھراس نے بزرگ کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیرے سے کہا،
بابا جی۔۔۔۔ شاید میں اپنا نام بھولا نہیں ہوں۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔؟ اس نے نظریں جھکا لیں، شاید میں نے اپنا نام کبھی رکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ بزرگ نے اسے حیرت سے دیکھا، یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔؟ ہر انسان کا نام ہوتا ہے، وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔ نام تو ہوتا ہے بابا جی۔۔۔۔ مگرہرنام انسان کا اپنا نہیں ہوتا۔۔۔ یہ کہہ کروہ وہاں سے چلا گیا۔ بزرگ دیرتک اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ انہیں پہلی بارمحسوس ہوا کہ شاید مسئلہ اس آدمی کی یادداشت میں نہیں، کہیں مسئلہ ہم سب کی یادداشت میں تو نہیں۔۔۔۔؟
صبح اس آدمی نے آنکھ کھولی تو اسے یقین تھا کہ آج اسے اپنا نام ضرور یاد آ جائے گا،وہ بستر سے اٹھا، آئینے کے سامنے گیا اورکافی دیر تک اپنے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھراس نے آنکھیں بند کیں، جیسے ذہن کے کسی بند دروازے کو کھولنے کی کوشش کررہا ہو،اچانک اسے ایک نام یاد آیا،وہ خوشی سے چونک پڑا۔۔۔۔ ’’ ہاں،ہاں،یہی ہے۔۔۔۔‘‘وہ تقریباً بھاگتا ہوا کمرے سے باہرنکلا، اس کی بیوی باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی۔۔۔۔ سنیں !!۔۔۔۔جی۔۔۔!!۔۔۔۔مجھےاپنا نام یاد آگیاہے۔۔۔۔ بیوی کے چہرے پرکئی دن بعد خوشی آئی۔۔۔۔ سچ۔۔۔۔؟ کیا نام ہے۔۔۔؟
وہ رک گیا، اس کے ہونٹ ہلے، مگرآوازنہ نکلی، اسے وہ نام یاد تھا۔۔۔۔۔ مگریقین نہیں تھا کہ وہ اس کا نام ہے، وہ واپس کمرے میں چلا گیا، اس دن پہلی بار اسے اپنا نام بھولنے پرخوف محسوس ہوا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے بہت سے سوال کیے۔۔۔۔ آپ کو اپنی بیوی یاد ہے؟۔۔۔۔جی۔۔۔۔ بچے ؟جی یاد ہیں۔۔۔۔ گھر ؟ یاد ہے۔۔۔۔ اپنا بچپن؟ وہ بھی یاد ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر نے قلم میز پررکھا۔۔۔پھرمسئلہ کیا ہے۔۔۔؟ وہ کچھ دیر خاموش رہا۔۔۔۔ مجھے صرف اپنا نام یاد نہیں رہتا۔ ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا، آپ کومعلوم ہے، نام صرف شناخت نہیں ہوتا،کبھی کبھی انسان اپنی شناخت کے ساتھ اپنے اندرکی کوئی پوری کہانی بھی بھول جاتا ہے۔۔۔۔ وہ گھرواپس آ گیا۔ رات کو اس نے پہلی باراپنی بیوی سے پوچھا،آپ مجھے میرے نام سے کیوں بلاتی ہو۔۔۔۔؟ بیوی نے حیرت سے کہا، کیونکہ یہی آپ کا نام ہے۔۔۔۔ یہ نام کس نے رکھا تھا۔۔۔۔؟
بیوی خاموش ہوگئی۔۔۔۔ اس نے دوبارہ پوچھا، کس نے رکھا تھا۔۔۔۔؟ بیوی نے نظریں جھکا لیں،آپ کےوالد نے۔۔۔ اورمیرے والد نے مجھے یہ نام کیوں دیا تھا۔۔۔۔؟ اس باربیوی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔۔۔ وہ کرسی سے اٹھی، الماری کھولی اورایک پرانا صندوق باہرنکالا، صندوق میں کپڑے، چند تصویریں اورایک پرانی ڈائری تھی، بیوی نے ڈائری اس کے سامنے رکھ دی، یہ آپکے والد کی ہے۔۔۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کھولی، پہلے چند صفحات خالی تھے، پھرایک صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا، ’’ جس دن میرا بیٹا اپنا نام بھول جائے، اسے اس کا نام مت بتانا ‘‘۔۔۔
۔اس آدمی کے ہاتھ وہیں رک گئے، اس نے بیوی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔۔؟ بیوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔؟۔۔۔۔تمہیں معلوم ہے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ تمہیں سب معلوم ہے۔۔۔۔ کمرے میں اچانک خاموشی پھیل گئی۔ وہ دوبارہ ڈائری کی طرف جھکا، اگلے صفحے پرصرف ایک تاریخ لکھی تھی، وہ تاریخ دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، کیونکہ وہ تاریخ اس کی پیدائش کی تاریخ نہیں تھی، وہ تاریخ اس دن کی تھی جب وہ پہلی باراپنے گھر سے غائب ہوا تھا۔۔۔۔
اگلے صفحے پرصرف تین سطریں لکھی تھیں،تمہارا نام وہ نہیں جو تمہیں لوگوں نے دیا،تمہارا نام وہ ہے جو تم نے اپنی پہلی قربانی کے دن کھو دیا تھا۔۔۔۔اوراگرکبھی تم اسے یاد کرلو تو سمجھ لینا، تمہیں اپنی پوری زندگی یاد آ گئی،وہ دیرتک ان سطروں کو دیکھتا رہا۔ پھراچانک اس کے ذہن میں ایک منظرروشن ہوا۔ ایک چھوٹا سا گھر۔۔۔ باہر شور۔۔ دروازے پرکچھ لوگ۔۔۔ ایک بچہ اپنی ماں کے پیچھے چھپا ہوا۔۔۔ اوراس کا باپ اسے بازو سے پکڑکرکہہ رہا تھا، بیٹا، آج سے تمہیں اپنے نام سے نہیں، اپنے کام سے پہچانا جائے گا۔ پھرایک دھماکہ ہوا۔ ماں چیخی، باپ زمین پرگرگیا۔۔۔۔
اور وہ بچہ بھاگتا ہوا گلی میں نکل گیا، اس نے سرپکڑ لیا۔۔۔۔مجھے یاد آگیا۔۔۔۔ اس کی بیوی اس کے قریب آگئی۔۔۔۔کیا۔۔۔؟ اس نے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔ میں اپنا نام نہیں بھولا تھا۔۔۔۔ میں نے وہ دن بھلا دیا تھا، اسے سب یاد آچکا تھا۔ وہ بچپن میں اپنے باپ کو کھو چکا تھا۔ ماں اسے لے کرشہر آگئی تھی۔ غربت، خوف اور لوگوں کی باتوں سے بچانے کے لیے اس کی شناخت بدل دی گئی تھی۔ نیا نام دیا گیا، نئی زندگی دی گئی۔ وقت گزرتا رہا۔ وہ بڑا ہوگیا۔ شادی ہوئی۔ بچے ہوئے۔ مگراصل نام کہیں اندردفن رہا۔۔۔ اورشاید انسان اپنے اندردفن چیزوں کو ہمیشہ نہیں بھولتا۔۔۔
کبھی کبھی وہ روزتھوڑا تھوڑا کر کے انہیں یاد کرنے سے انکار کرتا رہتا ہے۔ اس نے بیوی سے پوچھا، میرا اصل نام کیا تھا۔۔۔۔؟ بیوی نے اس بارجواب نہیں دیا۔ اس نے ڈائری کا آخری صفحہ اس کے سامنے کردیا۔ وہاں اس کے والد نے صرف ایک نام لکھا تھا، وہ نام پڑھتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ مسکرایا۔ پھر بولا، آج مجھے اپنا نام یاد آگیا ہے۔۔۔۔ اوراگلی صبح جب وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو پہلی باراس نے خود کوغور سے دیکھا۔۔۔۔
چہرہ وہی تھا۔ آنکھیں وہی تھیں۔ زندگی بھی وہی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ آج اسے معلوم تھا، وہ کون ہے۔ شاید ہم سب بھی کبھی نہ کبھی اپنا نام بھول جاتے ہیں۔ ہمیں لوگ باپ، بیٹا، افسر، مزدور، امیر، غریب، کامیاب اورناکام کہتے رہتے ہیں۔ اور ہم انہی ناموں میں کہیں اپنے اصل وجود کو کھو دیتے ہیں۔ پھرایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھتے ہیں۔۔۔۔’’ میں آخرہوں کون ۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔۔شاید اصل المیہ نام بھول جانا نہیں، خود کوبھول جانا ہے۔



