بلاگپاکستانتازہ ترینصحتکالم

پی آئی سی اورمریضوں کا مسیحاڈاکٹر عامر رفیق بٹ

 

انسانی تاریخ میں صحت کا شعبہ ہمیشہ سے معاشرت کی بقا، ترقی اور فلاح کا سب سے بڑا ضامن رہا ہے۔ جب بات قلبی امراض (Cardiovascular Diseases) جیسی پیچیدہ اور جان لیوا بیماریوں کی ہو، تو طبی اداروں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں اکثریت آبادی علاج کی بھاری لاگت برداشت کرنے سے قاصر ہے، سرکاری ہسپتال غریب اور متوسط طبقے کے لیے امید کی آخری کرن ہوتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) اسی امید کا سب سے بڑا اور روشن مرکز ہے، جو طویل عرصے سے لاکھوں دل کے مریضوں کو زندگی کی نئی نوید عطا کر رہا ہے۔

صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا اور جدید ترین قلبی امراض کا یہ ہسپتال محض ایک طبی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی خدمت، پیشہ ورانہ عزم اور انتظامی حسنِ کارکردگی کی ایک ایسی درخشاں مثال ہے جس نے سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں پائے جانے والے روایتی منفی تاثرات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ لاہور سمیت پورے پنجاب کے کونے کونے سے روزانہ ہزاروں مریض اپنے دل کی بیماریوں کے علاج کی امید لے کر اس ادارے کا رخ کرتے ہیں۔ مریضوں کے اس سمندر کو سنبھالنا، ہر ایک کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا، اور ہسپتال کے نظام کو گھڑی کے کانٹوں کی طرح درست رکھنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اس گراں قدر کامیابی کے پس پردہ ایک فعال، بیدار مغز اور متحرک انتظامی ڈھانچہ کارفرما ہے۔

کسی بھی ادارے کی شاندار کارکردگی اور زوال کا انحصار اس کی قیادت پر ہوتا ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ کی انتھک محنت، شب و روز کی جدوجہد اور گراؤنڈ لیول پر موجود رہ کر امور کی نگرانی کرنے کی صلاحیت نے اس ہسپتال کو دیگر تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ممتاز کر دیا ہے۔ ہسپتال کے انتظامی امور کو ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ کی زیرِ قیادت جس خوش اسلوبی اور نظم و ضبط کے ساتھ چلایا جا رہا ہے، اس کی نظیر معاصر طبی اداروں میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک طرف جہاں مریضوں کا بوجھ حد سے زیادہ ہے، وہیں دوسری طرف انتظامیہ کی مستعدی یہ یقینی بناتی ہے کہ وسائل کی کم علمی یا دباؤ کے باوجود علاج کے معیار پر کوئی آنچ نہ آئے۔

طبی خدمات کی فراہمی میں محض دوائیاں یا آلات ہی کافی نہیں ہوتے، بلکہ مریض کے ساتھ رویہ اور اس کی نفسیاتی تسکین بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جاتا ہے، وہ انسانیت کی حقیقی خدمت کا مظہر ہے۔ یہاں آنے والے ہر مریض کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا درد اور تکلیف صرف ایک کیس نہیں ہے، بلکہ ایک انسان کی قیمتی جان ہے جسے بچانا سب سے مقدم ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ کی ہدایت پر ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی طرف سے مریضوں کے ساتھ ہمدردی، شفقت اور خلوص کا رویہ مریض کی نصف بیماری کو ویسے ہی ختم کر دیتا ہے۔ انتظامیہ اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ ہر غریب اور لاوارث مریض کو بھی وہی توجہ اور سہولیات میسر آئیں جو کسی صاحبِ حیثیت کو ملتی ہیں۔

اس ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اس ادارے کا سب سے زیادہ حساس اور مصروف ترین شعبہ ہے۔ ایمرجنسی میں داخل ہونے والا ہر مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے۔ دل کا دورہ (Heart Attack) یا دیگر ہنگامی قلبی کیفیات میں ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔ اس انتہائی مصروف اور دباؤ سے بھرپور ماحول میں بھی، جہاں چاروں طرف مریضوں اور ان کے غم زدہ لواحقین کا ہجوم ہوتا ہے، PIC کا طبی عملہ جس مستعدی اور پھرتی کے ساتھ فرائض انجام دیتا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایمرجنسی دروازے پر قدم رکھتے ہی مریض کو فوری طبی امداد (Emergency Treatment) فراہم کرنے کا جو تسلسل یہاں پایا جاتا ہے، وہ اس ادارے کے اعلیٰ ترین پروفیشنلزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹرز بغیر کسی تاخیر کے فوری فیصلے کرتے ہیں اور ای سی جی، اینجیوگرافی یا دیگر ضروری ابتدائی اقدامات بروقت اٹھائے جاتے ہیں، جس سے ان گنت قیمتی جانیں بچ جاتی ہیں۔

ایک بہترین انتظامی نظام کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ عملی میدان میں نظر آتا ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ اور ان کی ٹیم کا باقاعدگی سے وارڈز کا دورہ کرنا، خود جا کر صفائی، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں کی حاضری اور مریضوں کے مسائل کا جائزہ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں غفلت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ہسپتال کے تمام شعبہ جات میں روزانہ کی بنیاد پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی بھی سطح پر کوتاہی یا سستی کا عنصر پیدا نہ ہونے پائے۔ مریضوں سے براہِ راست ملاقاتیں کرنا، ان کے مسائل سننا اور موقع پر ہی ان کا ازالہ کرنا اس انتظامیہ کا شیوہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نہ تو عملے میں کوئی لاپرواہی نظر آتی ہے اور نہ ہی مریضوں کو طویل انتظار یا غیر ضروری مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحت کے شعبے میں کرپشن، بے ضابطگیوں اور نظام کی سستی کی شکایات عام معاشرت کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے ان تمام فرسودہ روایات کو توڑ کر ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ یہاں شفافیت، فرض شناسی اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنایا گیا ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ کی سخت نگرانی اور زیرو ٹالیرنس پالیسی کی وجہ سے ہر ملازم اپنے فرائض سے پوری طرح آگاہ ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھا رہا ہے۔ اگر کسی مقام پر کوئی خامی سر اٹھانے کی کوشش بھی کرے، تو فوری انتظامی مداخلت سے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہسپتال کی کارکردگی کا گراف دن بدن بلندی کی طرف گامزن ہے اور عوام کا اعتماد اس ادارے پر روز بروز پختہ ہو رہا ہے۔

مستقبل کے تناظر میں، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اداروں کو مزید سہولیات سے آراستہ کرنے اور ان کی سرپرستی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک فلیگ شپ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے طور پر اپنی خدمات کا دائرہ کار مزید وسیع کر سکیں۔ حکومت اور معاشرے کے با اثر طبقات کو بھی چاہیے کہ وہ ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ جیسے مخلص اور محنتی منتظمین کی حوصلہ افزائی کریں جو دن رات ایک کر کے غریب عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور محض اینٹوں اور گارے کی عمارت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ہمدردی، اخلاص، اور فرض شناسی کا ایک ایسا استعارہ ہے جو ہر روز سینکڑوں بیمار دلوں کو دھڑکنے کا نیا حوصلہ دیتا ہے۔ اس ادارے کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو، نیت صاف ہو اور قیادت دردِ دل رکھنے والی ہو، تو محدود وسائل میں بھی فلاحِ عامہ کے ایسے کارنامے سر انجام دیے جا سکتے ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو جاتے ہیں۔ PIC کا یہ سفرِ خدمت آنے والے وقتوں میں بھی یونہی جاری رہے گا اور یہ ادارہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مینارِ نور بن کر چمکتا رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button