کوئٹہ (ویب ڈیسک) — پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ریاست کو پشتونوں کی آواز اور ان کے بنیادی، آئینی، سیاسی، معاشی اور قومی حقوق کے مطالبات سننا ہوں گے، عوام کے حقوق کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔
جنوبی پشتونخوا کے تین روزہ عوامی جرگے سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ریاست کو عوام کو اس امر پر مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا مقدمہ بین الاقوامی فورمز پر لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بندوق کے زور پر ریاستی نظام چلایا جاسکتا ہے، تاہم عوام کے سیاسی شعور، آئینی حقوق اور وسائل پر مستقل قبضہ نہیں کیا جاسکتا۔
عوامی جرگہ نواب ایاز خان جوگیزئی کی صدارت میں کوئٹہ گرینڈ کبابش بینکوئٹ ہال میں منعقد ہوا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون آج اپنی تاریخ کے ایک غیر معمولی دور سے گزر رہے ہیں۔ سیاسی بے یقینی، معاشی بدحالی، امن و امان کی سنگین صورتحال اور وسائل و اختیارات سے محرومی نے پشتون معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے عوامی جرگے کا مقصد سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی رائے، اجتماعی دانش اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی بات براہ راست پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پشتونوں کی صدیوں پرانی روایت ہے کہ غیر معمولی حالات اور اجتماعی مسائل کے وقت جرگے منعقد کیے جاتے رہے ہیں اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کی راہیں تلاش کی جاتی رہی ہیں۔ آج بھی اسی اجتماعی دانش، سیاسی شعور اور باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو وجود میں آئے 79 برس گزر چکے ہیں جبکہ پشتون بحیثیت قوم اپنی موجودہ سرزمین پر ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کو کسی قوم کی قسمت یا تقدیر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ان کے مطابق یہ مسائل انسان کے تشکیل کردہ سیاسی، معاشی اور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں، جنہیں سیاسی جدوجہد، دانش اور بہتر نظام کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ بحیثیت قوم اپنی غفلت، کوتاہیوں اور داخلی کمزوریوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پشتونخوا کے وسائل عوام کی خوشحالی کے لیے استعمال ہونے چاہئیں
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قدرت نے پشتونخوا کی سرزمین کو قدرتی وسائل، معدنیات اور دیگر نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد نے صدیوں تک اس سرزمین اور اس کے وسائل کا دفاع کیا، لیکن آج یہی وسائل اور خطے کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت عوام کی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی جرگہ کسی قوم، نسل یا قومیت کے خلاف نہیں۔ پشتون کسی دوسرے انسان، قوم یا مذہب سے نفرت اور امتیاز کے قائل نہیں، تاہم پشتونوں کی سرزمین کو دوسروں کی جنگوں، پراکسیز اور طاقتوں کے باہمی مفادات کا میدان بنانے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ رنگ، نسل، زبان یا عقیدے کی بنیاد پر کسی سے نفرت، بغض یا امتیاز غیر انسانی فعل ہے۔ پشتون معاشرہ اپنی تاریخی ساخت میں برابری، مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری کی اقدار کا حامل رہا ہے۔
جنوبی پشتونخوا میں بدامنی پر تشویش
محمود خان اچکزئی نے جنوبی پشتونخوا میں بدامنی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پشتونوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔
انہوں نے سرانان میں پولیس تھانے پر حملے اور مزدوروں کے قتل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر ریاست یہ ذمہ داری پوری نہیں کرے گی تو عوام میں عدم تحفظ، بے اعتمادی اور محرومی مزید گہری ہوگی۔
قائد حزب اختلاف نے الزام عائد کیا کہ مقامی اقوام اور قبائل کی زمینیں غیر مقامی افراد، اداروں اور نام نہاد کمپنیوں کو الاٹ کرکے منظم انداز میں تقسیم کی جارہی ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے وسائل اور زمینوں پر بندوق کے زور پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا، نہ عوام کے سیاسی و شہری حقوق کو مستقل طور پر دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی آئینی حقوق کو طاقت کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔
بلوچ ہمارے بھائی ہیں، برابری اور انصاف چاہتے ہیں: اچکزئی
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچ ہمارے بھائی ہیں اور ہم بلوچستان کو بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان برابری، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر چلانے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا منصفانہ انتظامی و سیاسی فارمولہ تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں تمام اقوام اور شہریوں کو برابری اور انصاف کی بنیاد پر حقوق حاصل ہوں۔
افغانستان کو صرف سکیورٹی مسئلہ نہ سمجھا جائے
علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں افغانستان کو سکیورٹی مسئلے کے طور پر زیر بحث لایا جارہا ہے، تاہم افسوسناک امر ہے کہ افغانستان کے عوام اور ان کی حقیقی نمائندگی اس بحث میں موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور سکیورٹی کے موجودہ چیلنجز کو صرف افغانستان کے کھاتے میں ڈالنا تاریخی حقائق سے انحراف ہے۔ ان کے مطابق سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک خطے میں ہونے والی بدامنی بڑی طاقتوں اور علاقائی قوتوں کی اسٹریٹجک پالیسیوں، مفادات اور باہمی کشمکش کا نتیجہ بھی رہی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ افغانستان اور اس کے عوام کو محض سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ انسانی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام طویل عرصے سے جنگ، مداخلت اور تباہی کا شکار ہیں اور انہیں امن، استحکام، انسانی وقار اور ترقی کا حق دیا جانا چاہیے۔
پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے عوام اپنے سیاسی، آئینی، معاشی اور قومی حقوق کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں، کسی کی زمین یا حق نہیں چاہتے، لیکن اپنی سرزمین، وسائل، شناخت اور آئینی حقوق سے دستبردار بھی نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ریاست طاقت اور جبر کے بجائے آئین، پارلیمان، جمہوریت، عوامی مینڈیٹ اور قومی برابری کے اصولوں کو بنیاد بنائے۔
محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ریاست کو عوام کی آواز سننا اور آئینی و جمہوری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ عوام کے بنیادی حقوق کو مسلسل نظرانداز کرکے ملک کو پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی طرف نہیں لے جایا جاسکتا۔
پمز واقعے پر تحقیقات کا مطالبہ
محمود خان اچکزئی نے پمز اسلام آباد کے دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے اصل ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے نیپال اور تبت میں سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ بھی یکجہتی اور گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔



