
ایک وقت تھا جب میری جیب میں پیسے نہیں ہوتے تھے،زندگی کے حالات آسان نہیں تھے،صحافت کا سفر ابھی شروع ہوا تھا، ذمہ داریاں اپنی جگہ تھیں اور وسائل بہت محدود تھے، کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا کہ جیب واقعی خالی ہوتی، مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس خالی جیب میں دو چیزیں ضرور موجود ہوتیں،ایک بال پوائنٹ پین اور چند کورے کاغذ، آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہی دن میری اصل پہچان تھے۔
جیب میں پیسے کم تھے، مگر لکھنے کا حوصلہ بہت بڑا تھا،وسائل محدود تھے، مگر خبر کی تلاش ختم نہیں ہوتی تھی،آج سہولتیں زیادہ ہیں، پلیٹ فارم زیادہ ہیں، کیمرے ہیں، مائیک ہیں، سوشل میڈیا ہے اور اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے بے شمار راستے موجود ہیں،لیکن ایک دن مجھے احساس ہوا کہ جس چیز نے مجھے اس مقام تک پہنچایا، میں نے خود ہی اسے کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
میرا قلم!
وہی قلم جو کبھی میری خالی جیب کی سب سے قیمتی چیز ہوا کرتا تھا،وہی قلم جس نے مجھے خبر لکھنا سکھایا، صحافت کی پہچان دی، عزت دی، مقام دیا اور میری شناخت بنائی اور شاید یہی احساس تھا جس نے مجھے دوبارہ قلم پکڑنے پر مجبور کر دیا۔
آج کل میرے بہت سے دوست مجھ سے ایک سوال کرتے ہیں،آپ نے اچانک دوبارہ کالم لکھنا کیوں شروع کر دیا؟یہ سوال بالکل جائز ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے میری زیادہ تر مصروفیات،ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، وی لاگز اور انٹرویوز کے گرد گھومتی رہی ہیں، مختلف پلیٹ فارمز پر مسلسل موجودگی، گفتگو، تبصرے اور پروگرام میری صحافتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے تھے،پھر اچانک میں پہلے کی نسبت ان پلیٹ فارمز سے کم دکھائی دینے لگااور دوبارہ ”قلم“میرے ہاتھ میں آ گیا،یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ میں نے ڈیجیٹل میڈیا کو چھوڑا نہیں،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جدید دور کی ضرورت اور صحافت کی ایک اہم حقیقت ہیں، وی لاگز بھی جاری رہیں گے، انٹرویوز بھی ہوں گے اور ڈیجیٹل میڈیا پر سرگرمی بھی برقرار رہے گی۔
لیکن میں ایک چیز دوبارہ سمجھ گیا ہوں،بولنے کے لیے مائیک کافی ہو سکتا ہے، مگر صحافت کی اصل بنیاد قلم ہے،میرے پروفیشنل صحافتی کیریئر کا آغاز بطور پروف ریڈر ہوا، جب میں نے روزنامہ”خبریں“ جوائن کیا تو مرحوم ضیا شاہد صاحب کی ایک بات آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے،انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ اخباری دنیا میں ایک اچھا سب ایڈیٹر بننے کے لیے پہلے ایک اچھا پروف ریڈر ہونا چاہیے اور ایک اچھا رپورٹر بننے کے لیے ایک اچھا سب ایڈیٹر ہونا ضروری ہے۔
یہ صرف نصیحت نہیں تھی
یہ صحافت کا بنیادی سبق تھا
انسان ساری زندگی سیکھتا ہے اور میں آج بھی خود کو صحافت کا طالبعلم سمجھتا ہوں، میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے ہمیشہ اپنے سینئرز کی رہنمائی، شفقت اور حوصلہ افزائی حاصل رہی اور آج بھی ان سے سیکھنے کا سلسلہ جاری ہے،پھر وقت بدلتا گیا،میڈیا بدل گیااور صحافت کے انداز بھی بدل گئے،سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ایک نئی دنیا پیدا کر دی، ہم بھی اس تبدیلی کا حصہ بنے، پروگرام کیے، وی لاگز کیے اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی بات لوگوں تک پہنچائی لیکن آہستہ آہستہ ایک عجیب سا لیبل لگنے لگا،لوگ ہمیں صحافی کم اور یوٹیوبر زیادہ کہنے لگے،اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنے آپ سے سوال کیا،میں نے اس سفر کا آغاز کہاں سے کیا تھا؟۔
کیمرے سے؟نہیں،مائیک سے؟نہیں،میں نے صحافت میں اپنی پہلی پہچان ”قلم“سے بنائی تھی،میں کسی کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے خلاف نہیں ہوں، ہرگز نہیں، سوشل میڈیا نے بہت سے لوگوں کواظہار ِرائے کی آزادی کا حق دیا،ایسے لوگ جو مین سٹریم میڈیا تک نہیں پہنچ سکتے، آج اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی بات دنیا تک پہنچا رہے ہیں،یہ ایک مثبت تبدیلی ہے،لیکن میری صرف ایک گزارش ہے،خدارا، صحافتی اصولوں کو ضرور ملحوظِ خاطر رکھیے۔
کیونکہ صحافت صرف کیمرے کے سامنے بولنے کا نام نہیں،صحافت صرف ایک مائیک پکڑ لینے کا نام نہیں،صحافت صرف ویوز اور لائکس کی جنگ نہیں،صحافت خبر کی تلاش کا نام ہے،تحقیق کا نام ہے،تصدیق کا نام ہے،اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری کا نام ہے،ہم نے وہ صحافت دیکھی ہے جہاں خبر ملنے کے بعد اسے بار بار کنفرم کیا جاتا تھا،ہمیں ڈر ہوتا تھا کہ کہیں خبر غلط نہ نکل جائے، کہیں خبر باؤنس نہ ہو جائے۔
کیونکہ ہمارے لیے ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی تھی،وہ ہماری ساکھ ہوتی تھی،ہم نے نامساعد حالات میں رپورٹنگ کی،خبروں کے پیچھے بھاگے،سپاٹ پر پہنچے،گھنٹوں انتظار کیا،ذرائع سے معلومات حاصل کیں اور پھر خبر کو تصدیق کے مرحلے سے گزار کر عوام تک پہنچایا،آج صورتحال بہت مختلف ہے،آج ہر شخص بول رہا ہے،ہر شخص خود کو اینکر کہتا ہے،ہر شخص تجزیہ نگار بنا ہوا ہے،ہر ہاتھ میں موبائل ہے اور ہر موبائل کے ساتھ ایک مائیک،اور پھر شاید ایک نیا اصول بن گیا ہے،ایک موبائل، ایک مائیک اور آپ صحافی بن گئے!۔
میں کسی فرد پر تنقید نہیں کر رہا، ہر شخص کو اظہارِرائے کا حق ہے،لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تحقیق ختم ہو جائے، تصدیق ضروری نہ سمجھی جائے، واقعات کو توڑ مروڑ کر صرف ویوز کے لیے پیش کیا جائے اور صحافت ایک ذمہ داری کے بجائے شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے،یہی چیزیں مجھے اندر سے بہت دلبرداشتہ کرتی رہیں،ہم نے اپنی زندگی کے بہترین سال صحافت کو دیئے،مشکل حالات میں رپورٹنگ کی،خبر کے لیے محنت کی اور اپنی ساکھ کو ہمیشہ اپنی خبر سے جوڑ کر رکھا،اسی لیے شاید مجھے آج بھی اپنے قلم کی سب سے زیادہ قدر ہے،یہ وہی قلم ہے جس نے مجھے عزت دی، مجھے مقام دیا،مجھے میری پہچان دی اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے کچھ عرصے کے لیے اپنے قلم کو نظر انداز کیا،جس زمانے میں میری جیب خالی ہوتی تھی، اس وقت بھی قلم میرے ساتھ ہوتا تھا۔
پھر زندگی آگے بڑھ گئی،پلیٹ فارم بدل گئے،مصروفیات بدل گئیں اور شاید میں بھی بدل گیالیکن اب میں نے دوبارہ اپنے اصل ساتھی کو پہچان لیا ہےاپنے قلم کو۔
اس لیے اب میں نے دوبارہ قلم پکڑ لیا ہے،اور اب یہ قلم صرف میری جیب میں نہیں رہے گا،یہ میرے ہاتھ میں رہے گا،یہ سوال کرے گا،یہ سچ لکھے گا،یہ خبر کی روح کو زندہ رکھنے کی کوشش کرے گاکیونکہ میری نظر میں صحافی کی اصل طاقت نہ اس کا کیمرہ ہے، نہ اس کا مائیک، نہ اس کے فالوورز اور نہ ہی کسی طاقتور شخصیت سے اس کی قربت، صحافی کی اصل طاقت اس کا قلم ہے،کیمرے بند ہو سکتے ہیں،مائیک خاموش ہو سکتے ہیں،سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم بدل سکتے ہیں،ویڈیوز وقت کے ساتھ بھلائی جا سکتی ہیں لیکن ایک سچی اور ذمہ دار تحریراپنا اثر چھوڑ جاتی ہے اور اسی لیے میں نے دوبارہ قلم پکڑا ہے کیونکہ میں نے جان لیا ہے کہ یہ قلم صرف میری طاقت نہیں،میری پہچان،میری صحافت ہے،یہ میری زندگی کا ساتھی ہے،اور اب میں اپنے قلم کو دوبارہ کبھی نظر انداز نہیں کروں گا۔



