
استنبول کے تقسیم اسکوائر میں دنیا بھر کے لوگ صرف یہ دیکھنے کہ آخر استنبول کی وہ مشہور رات ہے کیسی جس کے قصے سیاحوں کے سفری بروشرز سے لے کر دوستوں کی محفلوں تک سنائی دیتے ہیں۔میں بھی ایک رات اپنے کمرے سے نکل کر اسی تجسس میں تقسیم جا پہنچا۔

استقلال اسٹریٹ کی روشنیوں میں چلتے ہوئے ہر چند قدم بعد کوئی نیا بار کیفے یا کلب نظر آتا۔ کہیں دروازے پر موسیقی سنائی دے رہی تھی کہیں اندر روشنیوں کا کھیل جاری تھا ایسا لگتا تھا جیسے ہر دروازہ کہہ رہا ہو اندر آؤ اصل استنبول تو یہاں ہےاور سیاح کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دروازے کی بات پر یقین کر لیتا ہے جہاں پہلے مشروب پر پہلا مالی جھٹکا لگتا ہے۔
میں نے بھی رات کا آغاز ایک بار سے کیا ماحول خوشگوار تھا موسیقی اتنی تیز نہیں تھی کہ آدمی اپنے خیالات سے محروم ہو جائے اور اتنی دھیمی بھی نہیں کہ پڑوسی کی گفتگو سنائی دینے لگےمینو سامنے آیا۔میں نے قیمت دیکھی پھر ویٹر کو دیکھا پھر دوبارہ قیمت دیکھی دل نے کہا پانی پی لو دماغ نے کہا تم استنبول آئے ہو منرل واٹر کے لیے نہیں بالآخر ایک کوک منگوایا گیا گلاس خوبصورت تھا برف نفیس تھی ماحول لاجواب تھا۔

چند منٹ بعد مجھے خیال آیا کہ اتنی خوبصورت چیز پینے کے بعد بل بھی یقیناً خوبصورت ہوگا اور واقعی تھا۔ یہیں سے رات کا وہ معاشی سفر شروع ہوا جس میں ہر اگلا آرڈر پچھلے فیصلے کو غلط ثابت کر رہا تھا پھر موسیقی نے قدم آگے بڑھایا رات کچھ اور جوان ہوئی تو ایک ڈانس کلب کا رخ کیا یہاں داخل ہوتے ہی معلوم ہوا کہ بار اور کلب میں وہی فرق ہے جو چائے کی محفل اور شادی کی تقریب میں ہوتا ہے۔
ڈی جے موسیقی بجا رہا تھا روشنیوں کی شعاعیں ڈانس فلور پر گھوم رہی تھیں اور لوگ اپنے اپنے انداز میں رقص کر رہے تھے کچھ لوگ واقعی موسیقی میں ڈوبے ہوئے تھے کچھ شاید صرف یہ ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ انہیں رقص آتا ہے ڈانس پرفارمرز نے بھی ماحول کو مزید رنگین بنا رکھا تھا۔ نائٹ کلب کے اندر موسیقی اپنی پوری لے میں تھی مدھم نیون لائٹس بدلتے رنگ اور ڈانس فلور کی مسلسل حرکت ماحول کو خاصا پرجوش بنا رہے تھے۔ میں بھی اسی رنگین ہجوم کا حصہ تھا اور چند لڑکیاں میرے ساتھ موسیقی کی دھن پر ڈانس کر رہی تھیں۔

ڈانس کے دوران ان کی بے تکلفی نمایاں تھی کبھی وہ خوشی سے مجھے گلے لگا لیتیں اور کبھی دوستانہ انداز میں میرے گال پر بوسہ دے کر دوبارہ رقص میں شامل ہو جاتیں یہ لمحات بار بار دہرائے جاتے رہے جس سے پورے منظر میں اپنائیت اور بے فکری کا احساس پیدا ہوتا رہا۔موسیقی کی ہر نئی دھن کے ساتھ رقص کا انداز بدلتا رہا۔ کبھی ہم ایک ساتھ دائرے میں حرکت کرتے کبھی ایک دوسرے کے قریب آ کر چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتے۔
رنگین روشنیوں کے درمیان بار بار ہونے والے گلے ملنے اور مختصر بوسوں نے اس رات کے ماحول کو مزید یادگار بنا دیا۔ پورا نائٹ کلب موسیقی روشنی اور رقص کی متحرک دنیا بن چکا تھا جہاں چند گھنٹوں کے لیے باہر کی دنیا کی مصروفیات بالکل بھلا دی گئی تھیں۔ تقسیم کا اصل کمال یہ ہے کہ ہر گلی ایک نئی دنیا ہے اسک ساتھ ساتھ تقسیم کی نائٹ لائف کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کو ایک ہی طرح کا ماحول ہر جگہ نہیں ملتا۔
ایک جگہ پاپ میوزک دوسری جگہ الیکٹرانک موسیقی کہیں لائیو بینڈ کہیں روف ٹاپ کہیں نسبتاً پرسکون بار اور کہیں ایسا ڈانس فلور کہ آپ کو اپنے جوتوں کی قسمت پر بھی تشویش ہونے لگے یہی تنوع اس علاقے کو خاص بناتا ہے۔ کچھ مقامات پر سیاح زیادہ نظر آتے ہیں کچھ میں مقامی نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
کہیں لوگ مہنگے لباس میں آتے ہیں اور کہیں جینز اور ٹی شرٹ میں کسی کے لیے یہ رات پارٹی ہے کسی کیلیےدوستوں کے ساتھ تفریح اور کسی کے لیے صرف استنبول کو رات میں دیکھنے کا تجربہ جہاں ٹیبل سروس بھی وی آئی پی ہو جائے۔ نائٹ کلب میں جب ٹیبل سروس کا ذکر ہوا تو میں نے ویٹر سے پوچھا ٹیبل وہی ہے جس پر ہم بیٹھے ہیں توجواب ملا جی میں نے سوچا پھر اس میں وی آئی پی کیا ہے؟ بعد میں معلوم ہوا کہ وی آئی پی صرف میز نہیں بلکہ اس کے ساتھ آنے والی سروس مشروبات اور مخصوص سہولتوں کا پورا پیکیج ہو سکتا ہے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں انسان نے میز کو بھی اتنی اہمیت دے دی ہے کہ بعض میزیں کرسی سے زیادہ قیمتی ہو گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص کلب میں ٹیبل یا خصوصی پیکیج لینا چاہے تو پہلے سے معلوم کرنا چاہیے کہ اس میں کیا شامل ہے تاکہ کم از کم خرچ کیا جائے۔
یہ سوال رات کے اختتام پر بہت کام آتا ہے۔ کھانے کی باری آئی تو بجٹ نے آنکھیں بند کر لیں رات کے ایک بجے بھوک نے اعلان کیا کہ موسیقی اپنی جگہ انسان کو کھانا بھی چاہیے۔ استنبول میں کھانے کی خوشبو سے بچنا ویسے ہی مشکل ہے جیسے تقسیم میں کسی کلب کے باہر سے گزرتے ہوئے موسیقی کونظرانداز کرنا۔
میں نے سوچا کہ رات کے خرچ میں کھانے کے چند سو لیرا اور سہی۔ یہ چند سو بھی آخرکار بجٹ کی ایک بڑی شاخ بن گئے۔اس رات ایک بات پکی سمجھ میں آ گئی کہ سفر میں اصل خطرہ مہنگی چیز نہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بار بار خریدنا ہے۔ایک مشروب پھر دوسرا تھوڑا کھانا پھر ٹیکسی پھر داخلہ پھر کوئی اضافی سروس اور آخر میں آدمی حساب لگا کر سوچتا ہے کہ یہ سب میں نے کب کیا؟ اسی طرح جب رات ختم ہونے کو آئی اور میں نے خرچ کا حساب لگایا تو میری ابتدائی پیش گوئی جس کے مطابق آج تو بہت کم خرچ ہوگا تاریخ کے ناکام معاشی منصوبوں میں شامل ہو چکی تھی۔

ایک عام رات میں مشروبات کھانا داخلہ اور مختلف تفریحی اخراجات ملا کر تقریباً پانچ ہزار سے سات ہزار ترک لیرا خرچ ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم میں رات گزارنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ پہلے بجٹ طے کریں پھر کلب منتخب کریں کلب منتخب کرکے بجٹ بنائیں ورنہ بجٹ آخر میں صرف ایک یاد رہ جاتا ہے۔ لیکن تقسیم کی رات نے مجھے ایک اور سبق بھی دیا کہ رات جتنی ہی رنگین کیوں نہ ہو رسید اتنی ہی غور سے پڑھنی چاہیے کیونکہ موسیقی ختم ہو جاتی ہے روشنیوں کا رنگ بدل جاتا ہے ڈانس فلور خالی ہو جاتا ہے کلب کے دروازے بند ہو جاتے ہیں مگر کریڈٹ کارڈ کا بل اگلی صبح پوری توانائی کے ساتھ جاگتا ہے اور شاید یہی تقسیم کی رات کا سب سے بڑا مزاح ہے کہ استنبول سو رہا ہوتا ہے مگر سیاح کا بجٹ جاگ رہا ہوتا ہے۔



