بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

دہشت گردی ختم کرنے کا فارمولا

تحریر:حافظ محمد صالح

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی ایسی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس نے ریاست، معاشرے اور معیشت تینوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ بلوچستان اورخیبر پختونخوادہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جبکہ شہری آبادی، سکیورٹی اہلکار، تعلیمی ادارے اور معاشی منصوبے بھی دہشت گردوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر دہشت گردی کی اس آگ کو بجھایا کیسے جائے؟۔

اس کا جواب صرف ایک آپریشنیا ایک تقریرمیں نہیں۔ دہشت گردی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کا مقابلہ بھی ایک جامع قومی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی صرف بندوق اٹھانے والے شخص کا نام نہیں،اس کے پیچھے نظریہ، مالی معاونت، بھرتی کا نظام، سہولت کار، پروپیگنڈا، اسلحے کی ترسیل، خفیہ نیٹ ورک اور سرحد پارقائم پناہ گاہیں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں ٹی ٹی پی کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور افغانستان میں اس کے نیٹ ورک سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا پہلی ضرورت موثر انٹیلی جنس ہے پاکستان کو پولیس، انٹیلی جنس اداروں، ایف سی، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے حقیقی اور فوری تبادلے کا ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں کسی مشتبہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی واقعہ ہونے کے بعد نہیںبلکہ اس سے پہلے ممکن ہو۔

دہشت گردی کے خلاف جدید جنگ میں کامیابی کا پیمانہ صرف گرفتاریاں یا ہلاکتیں نہیں، بلکہ وہ حملے ہیں جو ہونے سے پہلے روک دیے جائیں۔پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد کو مو¿ثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، قانونی آمدورفت اور منظم سرحدی نظام کی ضرورت ہے۔ اگر کسی دہشت گرد گروہ کو سرحد کے دوسری جانب محفوظ ماحول، تربیتی سہولت یا نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہو تو اندرون ملک صرف کارروائیوں کے ذریعے مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا مشکل ہوگا۔

پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سفارتی رابطے، علاقائی ممالک کے تعاون اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مسلسل دبائو اور مذاکرات، دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنے چاہئیں۔ دہشت گردی کے مسئلے کو محض دوطرفہ تنازع بنانے کے بجائے اسے علاقائی سلامتی کا مسئلہ بنانا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ کوئی بھی مسلح گروہ مسلسل کارروائیاں اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک اسے پیسہ، اسلحہ، نقل و حرکت اور انسانی وسائل دستیاب نہ ہوں۔ اس لیے مشکوک مالی لین دین، غیر قانونی تجارت، بھتہ خوری، اسمگلنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ صرف پہاڑوں، سرحدوں اور شہروں میں نہیں لڑی جا رہی، اب یہ موبائل فون اور سوشل میڈیا پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں اپنے بیانیے، ویڈیوز اور جذباتی پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی دہشت گرد تنظیموں کی آن لائن پروپیگنڈا اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت میں اضافے کی نشاندہی کی ہے لہٰذا ہمیں ایسا متبادل بیانیہ دینا ہوگا جو نوجوان کو عزت، تعلیم، روزگار، شناخت اور مستقبل کی امید دے، سکول، کالج، یونیورسٹی، مسجد، میڈیا اور خاندان سب کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں تشدد کو بہادری نہیں بلکہ تباہی سمجھا جائے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کا اعتماد جیتنا بھی بے حد ضروری ہے۔

ریاست کی رٹ صرف سکیورٹی چیک پوسٹ سے قائم نہیں ہوتی، ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری کو انصاف ملے، روزگار ملے، اس کی جان محفوظ ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ ریاست اسے اپنا شہری سمجھتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مقامی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کے لیے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ یہاں ایک اہم اصول بھی یاد رکھنا ہوگاکہ دہشت گرد اور عام شہری کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔دہشت گردی کے خلاف کارروائی سخت ضرور ہومگر قانون کے مطابق ہو،بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔

دہشت گردی کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں اگر ریاست کے اندر سیاسی کشمکش اتنی شدید ہو جائے کہ قومی سلامتی کے بنیادی معاملات بھی باہمی الزام تراشی کا شکار ہوجائیں تو دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حکومت، اپوزیشن، فوج، عدلیہ، پارلیمان، میڈیا اور سول سوسائٹی کو کم از کم اس ایک نکتے پر اتفاق کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سرزمین کسی مسلح گروہ کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان نے ماضی میں متعدد انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیے اور کئی خطرناک نیٹ ورک توڑے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک کامیاب آپریشن کے بعد ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جنگ ختم ہوگئی۔ حقیقت میں آپریشن صرف ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد پولیسنگ، عدالتی نظام، سرحدی نگرانی، ڈی ریڈیکلائزیشن، معاشی بحالی اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی کا طویل عمل ضروری ہوتا ہے۔دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہمیں صرف دہشت گردوں کو شکست نہیں دینی، ہمیں اس ماحول کوبھی شکست دینا ہوگا جس میں دہشت گردی جنم لیتی، پھیلتی اور نئی نسل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

بندوق دہشت گرد کو مار سکتی ہے، لیکن دہشت گردی کے نظریے کو تعلیم شکست دیتی ہے۔انٹیلی جنس حملہ روک سکتی ہے، لیکن عوام کا اعتماد دہشت گرد کا سہولت کار ختم کرتا ہے۔سرحدی نگرانی دراندازی روک سکتی ہے، لیکن مضبوط سفارت کاری سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دیتی ہےاور آپریشن علاقے کو صاف کر سکتا ہے، مگر انصاف، روزگار اور قانون کی حکمرانی اس علاقے کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف جانے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاکستان کو آج اسی جامع سوچ کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسی جنگ لڑنی ہے جس میں ریاست دہشت گرد سے زیادہ منظم، قانون دہشت گردی سے زیادہ طاقتور، دلیل نفرت سے زیادہ موثر اور امید خوف سے زیادہ بڑی ہو، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے، مگر اس کے لیے بندوق کے ساتھ عقل، طاقت کے ساتھ قانون، سکیورٹی کے ساتھ ترقی اور آپریشن کے ساتھ قومی اتفا ق رائے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button