
آج کے کالم کا آغاز گزشتہ دنوں پنجاب حکومت کی ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی جانب سے جاری ہونے والی ایک خبر سے کررہا ہوں۔جس کا متن کچھ یوں تھا کہ 13 دنوں میں کرپشن پر پنجاب پولیس کے 791 افسران و اہلکاروں کے خلاف ایکشن عمل میں لاتے ہوئے 78 اہلکار نوکری سے برخاست، 60 معطل، 230 افسران اور اہلکاروں کو لائن حاضر کردیا گیا
اسی خبر میں مزید بتایا گیا کہ 79 اہلکاروں کے رینک میں تنزلی اور گرفتاریاں کی گئی جبکہ 274 کے خلاف انکوائری جاری ہیں، مذکورہ خبر اور اسکے اعدادوشمار یقینا انتہائی حوصلہ افزا بھی ہے اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کی سوفیصد تائید بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ انکے دور اقتدار میں کرپشن اور کرپٹ عناصر کی پنجاب میں کوئی جگہ نہیں، کرپشن سے پاک پنجاب کا مشن ہر صورت کامیاب ہوگا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کو کامیاب ہونا بھی چاہئے،کیونکہ اب کرپشن ایک ایسے ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔جس کا خاتمہ انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے۔

لیکن یہاں سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ کیا پنجاب بھر میں کرپشن کا ناسور صرف محکمہ پولیس میں ہی ہیں؟کیا دیگر سرکاری محکموں میں کرپشن ختم ہو چکی ہیں؟کیا محکمہ مال، ریونیو، ہیلتھ،واسا۔پی ایچ اے، لیسکو،تعلیم،سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ،ایکسائز، فوڈ اتھارٹی، والڈ سٹی اتھارٹی اور جیل خانہ جات وغیرہ ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہوچکے ہیں؟ ان تمام سوالات کے جواب بھی یقینا نہیں ہی ہیں کیونکہ ان تمام سرکاری محکموں میں بھی صورتحال انتہائی ناگفتہ بے ہوچکی ہیں۔
جہاں پولیس میں کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائیوں کے اعدادوشمار سرکاری سطح پر جاری کئے گئے ہیں تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہی دیگر محکموں میں بھی کرپشن مکاو آپریشن کی تفصیلات منظرعام پر آنی چاہیے۔تاکہ عوام کو ان محکموں کے کرپٹ سرکاری افسران کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں کا پتہ چلتا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر دیکھا جائے تو حرف تنقید کا شکار ہمیں محکمہ پولیس ہی نظر آتا ہے۔
شاید اس لئے بھی کہ اس محکمے کو ہر وقت ہر جگہ تنقید برائے تنقید کا سامنا رہتا ہیں۔یہ وہ محکمہ ہیں جس کی 2لاکھ 25 ہزار کی فورس کو اقتدار کی اعلی ترین مسند سے لیکر محلے کے کونسلر تک کا ہر سیاسی لیڈر اپنےتئیں(فتح)کرنے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف نظر آتا ہے۔صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ اس کے اپنے (اعلی ترین)افسران بھی تھانہ کلچر کی تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کا چورن بیچ کر من پسند پوسٹنگ کے حصول میں رہتے ہیں۔
قارئین کرام:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پولیس کی ویلفیئر اور جدید سہولتوں کی فراہمی کیلئے دیئے جانے والے اربوں روپے کے فنڈز بھی صوبے سے ریجن اور ضلع سے ڈویژن کی سطح پر تعینات اعلیٰ افسران اور ان کے ماتحت عملے کی سوچ نہ بدل سکے ہیں۔اب یہاں یہ سوال بھی قابل ذکر ہے کہ کیا تمام تر کرپشن تھانے کی سطح پر ہورہی ہیں؟کیا کرپشن کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل ،اے ایس آئی، سب انسپکٹر، انسپکٹر اور ڈی ایس پی عہدہ تک ہی ہیں؟ اور اگر یہ تمام عہدے کرپٹ ہوچکے ہیں تو کیوں نہ ان عہدوں کو ہی ختم کردیا جائے؟کیا ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی تک کے عہدوں پر کرپشن نہیں ہوتی؟اس وقت یہ تمام سوالات انتہائی زوروشور سےاپنے جوابات کی تلاش میں ہیں۔
قارئین کرام بحیثیت کرائم جرنلسٹ میں اڑھائی دہائیوں سے محکمہ پولیس کی تھانہ سطح سے سنٹرل پولیس آفس تک کی رپورٹنگ کررہا ہوں۔اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس وقت 2 لاکھ 25 ہزار کی اس فورس میں موجود کرپٹ افسران و اہلکاروں کی تعداد انتہائی کم ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر یہی کرپٹ افسران و اہلکار ہر دور اقتدار میں سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے یا سفارشوں سے میرٹ کی دھجیاں بکھیر کر من پسند پوسٹنگ حاصل کر لیتے ہیں۔کیسے حاصل کرلیتے ہے۔
یہ سوال بھی ہنوز جواب طلب ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محکمہ پولیس میں آئے روز کئے جانیوالے تجربوں، تبادلوں اور تعیناتیوں نے اس محکمے کی ساخت کو بھی تقریباً تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اب جو آفیسر سیاسی بنیادوں پر پوسٹنگ حاصل کر کے آیا ہے بھلا وہ خود کیسے میرٹ، اپنے ماتحت افسران و اہلکاروں کی تعیناتیوں کے عمل کو یقینی بنائے گا؟سچ تو یہ ہے کہ اسی پولیس کلچر کی تبدیلی کی آڑ میں صرف چند افسران اپنے مفادات اور ریٹائرمنٹ کے بعد مستقبل کو محفوظ رکھنے کیلئے صرف تھانہ یونٹ کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں،جس کا آنیوالے دنوں میں ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
ایک پولیس آفیسر کے مطابق پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی سو سال کا چلہ کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر افسران حقیقی معنوں میں کوشش کریں تو یہ کلچر تبدیل ہو سکتا ہے مگر اس کیلئے پہلے محکمہ پولیس کے اندر تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہیں، تھانے کی سطح پر کرپشن کو روکنے کیلئے پہلے اپنے دفاتر میں ہونے والی کرپشن کو روکے،شوکاز نوٹس، اپیل،چھٹی ،انکوائری،ٹرانسفر پوسٹنگ، پیشی،اور دیگر معاملات میں ہونیوالی( محکمانہ کرپشن ) کو عملی طور پر ختم کروائے۔
اسی طرح دیگر محکموں کی طرح پولیس کو حقیقی معنوں میں وسائل دیئے جائیں اس کے علاوہ ان کو بہتر تنخواہ و مراعات فراہم کی جائیں، ہر تفتیشی افسر کو بہتر انویسٹی گیشن فنڈ اور ایک لیپ ٹاپ بمعہ نیٹ فراہم کیا جائے جس کی مدد سے وہ نادرا اور موبائل لوکیشن تک رسائی آسانی سے حاصل کر سکے اور موبائل لوکیشن کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کا سراغ لگا سکے اور اگر ان تمام مراعات کے حصول کے بعد بھی کوئی کرپشن کرے تو اس کو بغیر کسی حیل و حجت کے نوکری سے برخاست کر دیا جائے۔
میں اس پولیس آفیسر کی باتوں سے سو فیصد متفق ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھا ہوا کوئی سیاستدان اور پولیس افسر تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں کیونکہ اگر وہ تھانہ کلچر کو تبدیل کریں گے تو وہ سو فیصد خسارے میں چلے جائیں گے، سیاست دانوں کی اپنے علاقے میں بادشاہت ختم ہو جائے گی جبکہ پولیس افسران کی اپنی بادشاہت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، جس سے بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ محکمہ پولیس میں ہونیوالے اس بگاڑ کا ذمہ دار کوئی نہیں بلکہ یہ خود ہیں۔



