27ستمبر ، گولیاں چلیں گی یا سیاسی راستہ کھلے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27ستمبر کو احتجاج اور ممکنہ طورپر سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی شدید سیاسی تقسیم، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی اور ریاستی اداروں کے کردار کے حوالے سے مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ 27 ستمبر کو کتنے لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، کتنی گاڑیاں روک دی جائیں گی یا کتنے مقامات پر پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے ہوں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس احتجاج کے ذریعے پی ٹی آئی اپنی سیاسی طاقت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگی اور کیا حکومت اس احتجاج کو طاقت کے بجائے سیاسی حکمت، مذاکرات اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے سنبھال سکے گی؟
پی ٹی آئی کیلئے 27 ستمبر محض ایک احتجاجی تاریخ نہیں بلکہ سیاسی امتحان بھی ہے پارٹی گزشتہ کئی برس سے اپنے کارکنوں اور ووٹرز کو یہ پیغام دیتی رہی ہے کہ سیاسی جدوجہد کا مقصد اپنے قائد عمران خان کی رہائی، سیاسی حقوق کا حصول اور موجودہ سیاسی بندوبست کے خلاف مزاحمت ہے ایسے میں اگر 27 ستمبر کو بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلتے ہیں تو یہ حکومت کیلئے ایک واضح سیاسی پیغام ہوگا کہ اختلاف رائے کو انتظامی اقدامات، گرفتاریوں یا پابندیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن دوسری طرف اگر احتجاج محدود رہتا ہے تو حکومت اسے پی ٹی آئی کی سیاسی کمزوری کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گی،تاہم اس احتجاج کی کامیابی کا فیصلہ صرف تعداد سے نہیں ہوگا سیاسی تحریکیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب ان کے پاس واضح مقصد، منظم قیادت، مستقل مزاج کارکن اور عوام کے سامنے قابلِ قبول سیاسی بیانیہ موجود ہو پی ٹی آئی کے پاس ایک بڑی عوامی حمایت ضرور موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس حمایت کو ایک منظم، پُرامن اور طویل المدتی سیاسی تحریک میں کس حد تک تبدیل کر پاتی ہے ۔
اگر احتجاج صرف چند گھنٹوں کی نعرے بازی، سڑکوں کی بندش اور تصادم تک محدود ہوگیا تو اس کا سیاسی فائدہ محدود ہوسکتا ہےدوسری جانب حکومت کیلئے بھی 27 ستمبر ایک بڑا امتحان ہے حکومت اگر احتجاج کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وقتی طور پر سڑکیں خالی ضرور ہوسکتی ہیں لیکن سیاسی مسئلہ ختم نہیں ہوگا ۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے لوگوں کو وقتی طور پر خاموش کرایا جاسکتا ہے ان کے سیاسی خیالات ختم نہیں کئے جاسکتے اگر حکومت کا جواب گرفتاریوں، راستوں کی بندش، موبائل یا انٹرنیٹ سروس کی پابندی اور طاقت کے استعمال تک محدود رہا تو اس سے حکومت کے خلاف سیاسی بیانیہ مزید مضبوط ہوسکتا ہےسب سے خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوگی جب احتجاج کرنیوالے شہری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں پاکستان پہلے بھی سیاسی احتجاجوں کے دوران ایسے مناظر دیکھ چکا ہے جہاں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور بعض اوقات فائرنگ جیسے واقعات نے حالات کو مزید خراب کیا ۔
کسی بھی حکومت اور ریاستی ادارے کیلئے اس سے زیادہ نقصان دہ صورت حال کوئی نہیں کہ سیاسی اختلاف کا جواب انسانی جان کے نقصان کی صورت میں سامنے آئے اگر خدانخواستہ 27 ستمبر کو گولیاں چلتی ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو مسئلہ صرف احتجاج ختم ہونے کا نہیں رہے گا بلکہ اس کے سیاسی اثرات کئی سال تک محسوس کئے جاسکتے ہیں یہاں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں، سیاسی جماعتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں لیکن سیاسی معاملات میں غیر سیاسی قوتوں کے کردار سے متعلق سوال ختم نہیں ہوا اگر 27 ستمبر کے احتجاج کو بھی سیاسی مسئلے کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ ملک میں سیاسی فیصلے پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے بجائے طاقت کے مراکز طے کرتے ہیں یہ تاثر نہ حکومت کے لیے اچھا ہے اور نہ ریاستی اداروں کیلئے،اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف کو ختم کرنا اور سیاسی مخالف کو ختم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔
ایک سیاسی جماعت کو انتخابی میدان میں شکست دی جاسکتی ہے اس کے بیانیے کا جواب دیا جاسکتا ہے عوام کو متبادل پروگرام دیا جاسکتا ہے لیکن اگر سیاسی اختلاف کو انتظامی طاقت کے ذریعے دبایا جائے تو وہ ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرسکتا ہےریاستی اداروں کی اصل طاقت سیاسی جماعتوں کو خاموش کرانے میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور ریاستی استحکام کی غیر جانب دارانہ حفاظت میں ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے بھی 27 ستمبر کو ایک سنجیدہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے احتجاج کا حق جمہوری حق ہے لیکن احتجاج کے دوران قانون ہاتھ میں لینا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا یا پولیس اور شہریوں سے تصادم پیدا کرنا کسی بھی سیاسی تحریک کو اخلاقی اور عوامی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگر پی ٹی آئی واقعی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ ایک بڑی سیاسی قوت ہے تو اسے اپنے کارکنوں کو پُرامن رہنے، اشتعال سے بچنے اور سیاسی مطالبات کو واضح انداز میں پیش کرنے کی ہدایت دینا ہوگی ایک منظم اور پُرامن احتجاج حکومت کیلئے زیادہ بڑا سیاسی چیلنج ہوتا ہے کیونکہ اسے طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرنا مشکل ہوجاتا ہےحکومت کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ 27 ستمبر کو ایک سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے یا صرف ایک انتظامی مسئلہ سمجھتی ہے اگر حکومت سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی حمایت کم ہوچکی ہے تو پھر اسے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اسے احتجاج کی اجازت دے کر قانون کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور سیاسی میدان میں اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
اگر حکومت واقعی عوامی حمایت رکھتی ہے تو وہ سڑکوں پر نکلنے والے چند ہزار یا چند لاکھ افراد سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی کارکردگی سے عوام کو جواب دے سکتی ہےاصل طاقت ریاستی طاقت نہیں بلکہ عوامی اعتماد ہے حکومت اگر معیشت بہتر کرتی ہے، مہنگائی کم کرتی ہے، روزگار پیدا کرتی ہے، انصاف کی فراہمی یقینی بناتی ہے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ آئینی حدود میں رہ کر معاملات طے کرتی ہے تو احتجاجی سیاست کی شدت خود بخود کم ہوسکتی ہے لیکن اگر سیاسی کشیدگی بڑھتی رہے، اپوزیشن کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش ہو، گرفتاریاں اور پابندیاں معمول بن جائیں اور عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی تو سڑکیں ہی سیاسی اظہار کا سب سے بڑا میدان بن جاتی ہیں۔
27 ستمبر کا احتجاج اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو آئینہ دکھا سکتا ہے اگر پی ٹی آئی بڑی تعداد میں لوگوں کو پُرامن انداز میں متحرک کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی مسئلہ موجود ہے اگر احتجاج ناکام رہتا ہے تو پی ٹی آئی کو بھی اپنے سیاسی طریقہ کار، تنظیم اور بیانیے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ لیکن کسی بھی صورت میں اس دن کا اختتام تشدد، فائرنگ یا انسانی جانوں کے ضیاع پر نہیں ہونا چاہیےپاکستان اس وقت مزید سیاسی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ایک طرف معاشی مشکلات ہیں دوسری طرف امن و امان کے مسائل ہیں اور تیسری طرف سیاسی عدم استحکام نے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو متاثر کیا ہے ایسے ماحول میں 27 ستمبر کو طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوگا حکومت اگر احتجاج کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے تو ممکن ہے سڑکیں وقتی طور پر خاموش ہوجائیں مگر سیاسی بے چینی مزید گہری ہوجائے اسی طرح اگر احتجاج تشدد میں تبدیل ہوتا ہے تو پی ٹی آئی بھی اپنی اخلاقی برتری کھو سکتی ہےضرورت اس بات کی ہے کہ 27 ستمبر کو تصادم کا دن بنانے کے بجائے سیاسی مکالمے کا نقطۂ آغاز بنایا جائے ۔
حکومت کو اپوزیشن سے بات کرنی چاہیے پی ٹی آئی کو بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں اور سٹیبلشمنٹ کو سیاسی معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ کردار کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب آئینی بالادستی اور غیر جانب داری کے عملی مظاہرے سے دینا چاہیےپاکستان کو ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جہاں حکومتیں احتجاج سے خوفزدہ نہ ہوں، اپوزیشن کو ریاست دشمن سمجھنے کے بجائے سیاسی حریف سمجھا جائے، اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کیلئے سڑکوں پر خون بہانے کی ضرورت نہ پڑے 27 ستمبر کامیاب ہوتا ہے یا ناکام، اس کا فیصلہ آنے والے دن کریں گے لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب اس دن پاکستان میں ایک بھی شہری سیاسی اختلاف کی وجہ سے اپنی جان نہ گنوائے۔
حکومت اگر گولی کو دلیل اور طاقت کو سیاست کا متبادل بنائے گی تو شاید ایک احتجاج ختم ہوجائے مگر سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا اور اگر پی ٹی آئی بھی احتجاج کو تصادم کے بجائے پُرامن سیاسی قوت کے اظہار میں تبدیل کرتی ہے تو وہ اپنے مقصد کو زیادہ مؤثر انداز میں عوام کے سامنے رکھ سکتی ہےآخرکار سوال عمران خان، پی ٹی آئی یا حکومت سے آگے بڑھ کر پاکستان کا ہے کیا ہم اختلاف کو دشمنی، احتجاج کو بغاوت اور سیاسی مخالف کو ریاست کا دشمن سمجھتے رہیں گے یا یہ تسلیم کریں گے کہ جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک ہی ریاست کا حصہ ہوتے ہیں؟ 27 ستمبر کا دن شاید اسی سوال کا ایک اور امتحان ہوگا۔



