
پانی زندگی کی اساس ہے اور اس کی فراوانی ہی سے تہذیبیں پروان چڑھتی، معیشتیں مضبوط ہوتی اور معاشرے خوش حال ہوتے ہیں۔ قدرت نے پانی کے بے شمار ذخائر عطا کیے ہیں، مگر دریا اپنی قدرتی روانی کے باعث انسانی زندگی کے لیے سب سے اہم آبی وسیلہ ہیں۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی دریائی پانی کا تحفظ ایک بنیادی مسئلہ بن گیا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بالائی اور زیریں علاقوں میں پانی کی تقسیم ایک حساس معاملہ بن چکی تھی۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 ستمبر 1960ء کو سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں تھا بلکہ دو متخاصم ممالک کے درمیان تعاون، پیش بینی اور باہمی ذمہ داری کی ایک غیر معمولی مثال تھا۔ آج چھیاسٹھ برس بعد اس کی بنیادیں ایک بار پھر سیاسی کشمکش کی زد میں ہیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام محض پانی کا ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔ زراعت، آب پاشی، پن بجلی، غذائی تحفظ، دیہی معیشت اور لاکھوں لوگوں کا روزگار اسی نظام سے وابستہ ہے۔ چنانچہ دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کا اثر سفارتی تعلقات سے کہیں آگے، براہِ راست انسانی زندگی اور قومی معیشت پر پڑتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی نے سندھ طاس میں پہلے ہی پانی کے نظام کو غیر معمولی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، شدید بارشوں، خشک سالی اور بدلتے ہوئے دریائی بہاؤ کے باعث مستقبل کی آبی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
ایسے حالات میں مشترکہ دریائی نظام کو سیاسی دباؤ کا میدان بنانے کے بجائے تعاون اور قانون کے دائرے میں رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ بالائی اور زیریں کنارے کی ریاستوں کے مفادات ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ایک طرف بالائی ریاست کے ترقیاتی اور توانائی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تو دوسری طرف زیریں ریاست کے پانی، زراعت اور انسانی زندگی سے وابستہ حقوق بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ پائیدار آبی انتظام کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں کو طے شدہ قانونی اصولوں کے تحت متوازن رکھا جائے۔
سندھ طاس معاہدے کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہی تھی کہ اس نے شدید سیاسی اختلافات کے باوجود پانی کے معاملے کو قانون کے تابع رکھا۔ جنگیں ہوئیں، فوجی تصادم ہوئے، سفارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا، مگر معاہدہ قائم رہا۔ یہی اس کی اصل طاقت تھی۔ اس نے ثابت کیا کہ سیاسی دشمنی کے باوجود زندگی سے متعلق بنیادی معاملات کو ادارہ جاتی اور قانونی نظام کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا فیصلہ اسی تاریخی اصول کو چیلنج کرتا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد اس اعتماد پر قائم ہوتی ہے کہ فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور انہیں نیک نیتی سے نافذ کریں گے۔ یہی اصول ‘پیکٹا سنٹ سروانڈا’ کے نام سے بین الاقوامی قانون کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک ریاست محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی پابند معاہدے کو یک طرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کا راستہ اختیار کرے تو اس کے اثرات کسی ایک معاہدے یا خطے تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے پوری دنیا میں سرحد پار آبی معاہدوں کی پیش بینی اور اعتبار متاثر ہو سکتا ہے۔
یہاں سندھ طاس معاہدے کے تنازعہ حل کرنے کے طریقۂ کار کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ معاہدے نے مختلف نوعیت کے اختلافات کے لیے غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت جیسے ادارہ جاتی راستے فراہم کیے ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھ کر طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان اداروں کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے کے فریقین نے اختلافات کے باوجود قانون اور ادارہ جاتی عمل پر اعتماد کیا تھا۔
ہیگ میں ثالثی عدالت کے حالیہ ایوارڈ نے اس بحث کو ایک اہم قانونی سمت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے یک طرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا تصور معاہدے کے قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں۔ اس فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دی کہ معاہدے کی حیثیت کسی ایک فریق کے سیاسی اعلان سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ یوں ایک بنیادی قانونی اصول دوبارہ نمایاں ہوا کہ بین الاقوامی معاہدے سیاسی حالات کی تبدیلی کے باوجود اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہیں، جب تک ان کے خاتمے یا تبدیلی کا کوئی جائز اور باہمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
بھارت نے اس مرحلے میں عدالتی کارروائی میں شرکت سے گریز کیا، حالاں کہ اسے تحریری موقف پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم کسی کارروائی میں عدم شرکت بذاتِ خود معاہدے کے تحت موجود ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتی۔ اسی طرح بین الاقوامی تنازعہ حل کرنے کے کسی قائم شدہ طریقۂ کار سے الگ رہنے کا فیصلہ اس طریقۂ کار کی قانونی حیثیت کو خود بخود ختم نہیں کر دیتا۔
ایوارڈ نے مغربی دریاؤں، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق ایک اور اہم پہلو واضح کیا۔ بھارت کو معاہدے کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق بہتے پانی پر مبنی پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کے حقوق حاصل ہیں، لیکن ان منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن پر معاہدے کی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ اس طرح بالائی ریاست کے ترقیاتی حقوق اور زیریں ریاست کے آبی مفادات کے درمیان وہ قانونی توازن برقرار رہتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی بنیادی روح ہے۔
رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری حکم بھی اسی قانونی نگرانی کی عملی مثال ہے۔ ثالثی عدالت نے غیر جانب دار ماہر کے فیصلے تک ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ حدود سے زیادہ کنکریٹ ڈالنے سے متعلق عبوری پابندیاں عائد کیں اور تعمیراتی شیڈول میں تبدیلیوں کی رپورٹنگ کا تقاضا کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں محض کاغذی اصول نہیں بلکہ جاری منصوبوں پر عملی اثرات رکھنے والی قانونی ذمہ داریاں ہیں۔
اس معاملے کی اہمیت پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں۔ دنیا کے کئی خطوں میں دریا ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں اور کروڑوں انسان سرحد پار آبی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی کے دوران بالائی ریاستیں یک طرفہ طور پر پانی کے معاہدوں کو غیر مؤثر بنانے لگیں تو زیریں ریاستوں کے لیے آبی تحفظ مسلسل سیاسی غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سندھ طاس کا تجربہ عالمی سطح پر اس وسیع اصول سے جڑا ہوا ہے کہ مشترکہ قدرتی وسائل کو طاقت کے بجائے قانون کے ذریعے منظم کیا جانا چاہیے۔
موسمیاتی تبدیلی اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
آنے والے برسوں میں پانی کی دستیابی، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے محض معاہدے کافی نہیں ہوں گے؛ شفاف اعداد و شمار کا تبادلہ، بروقت معلومات، سیلابی رابطہ کاری، خشک سالی سے پیشگی تیاری اور پورے دریائی نظام کی مشترکہ سائنسی نگرانی بھی ناگزیر ہوگی۔ جنوبی ایشیا کے لیے اصل ضرورت پانی کو تنازعے کا ایندھن بنانے کی نہیں بلکہ اسے تعاون کا وسیلہ بنانے کی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس حقیقت کی علامت رہا کہ دریا سیاسی سرحدوں سے بلند ایک مشترکہ انسانی ضرورت ہیں۔ اس نے جنگ کے زمانے میں بھی قانون کے لیے ایک راستہ محفوظ رکھا۔ آج اس تاریخی معاہدے کا مستقبل صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کا سوال نہیں بلکہ اس وسیع اصول کا امتحان بھی ہے کہ کیا سیاسی اختلافات کے باوجود بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت برقرار رہ سکتی ہے۔
پانی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کے بجائے زندگی کی امانت سمجھنا ہوگا۔ دریاؤں کا بہاؤ روکا جا سکتا ہے، موڑا جا سکتا ہے، مگر ان سے وابستہ انسانی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس کے پانیوں سے کروڑوں زندگیوں کی امید وابستہ ہے۔ اس لیے اس نظام کا تحفظ کسی ایک حکومت، ایک دور یا ایک سیاسی موقف کا مسئلہ نہیں؛ یہ آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی ساکھ کا سوال ہے۔
چھیاسٹھ برس پہلے ایک معاہدے نے یہ ثابت کیا تھا کہ کشیدگی کے بیچ بھی قانون کے لیے جگہ نکالی جا سکتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخی سبق کو فراموش نہ کیا جائے۔ دریا اگر زندگی کی علامت ہیں تو ان کے درمیان قائم معاہدے بھی امن، ذمہ داری اور باہمی احترام کی علامت ہونے چاہئیں۔ پانی کو پل ہی رہنے دیا جائے، دیوار نہ بننے دیا جائے۔



