انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

تین کردار

بے لگام / ستارچوہدری

دنیا میں بڑے بڑے جنگجو گزرے ہیں، مگراسلامی تاریخ میں تین ایسے سپہ سالار گزرے ہیں جن کے سامنے صرف دشمن ہی نہیں، تاریخ نے بھی سرجھکا دیا۔۔۔۔پہلا نام خالد بن ولیدؓ کا ہے،جنگ موتہ کا میدان تھا۔ یکے بعد دیگرے دو سپہ سالار شہید ہوگئے۔ کمان خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ میں آئی۔ سامنے ایک بڑی فوج تھی، حالات ایسے کہ ذرا سی کمزوری پوری فوج کو پیچھے دھکیل سکتی تھی،مگر خالدؓ پیچھے نہیں ہٹے،مشہورروایت کے مطابق اس معرکے میں ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ تلواریں ختم ہوتی رہیں، مگرحوصلہ قائم رہا۔

وہاں ایک ایسی طاقت موجود تھی جسے دشمن کی تعداد بھی شکست نہ دے سکی۔۔۔۔یہ طاقت تھی ’’ صبر ‘‘۔۔۔۔
پھر تاریخ کا ورق پلٹتا ہے اورایک نوجوان سپہ سالارسامنے آتا ہے۔۔۔۔ طارق بن زیاد ۔۔۔۔سمندرعبور کرکے ایک نئی سرزمین سامنے تھی۔ پیچھے سمندر تھا اورآگے ایک نامعلوم دنیا۔ تاریخ بتاتی ہے انہوں نے اپنی کشتیاں جلا دیں اور سپاہ سے کہا کہ اب پیچھے جانے کا راستہ نہیں، آگے بڑھنا ہے،طارق کی حکمت عملی ہمیں یہ سکھاتی ہےجب انسان اپنے مقصد پرمکمل یقین کرلے تو راستے کی دشواریاں اس کے قدم روک نہیں سکتیں۔۔۔۔ یہ تھا ’’ یقین‘‘۔۔۔۔

اورپھر تاریخ ہمیں ایک ایسے فاتح کے سامنے لے آتی ہے جس نے فتح کے بعد بھی اپنے دل کو شکست نہیں ہونے دی۔۔۔۔۔صلاح الدین ایوبی۔۔۔۔بیت المقدس برسوں سے صلیبی قبضے میں تھا۔ طویل جدوجہد کے بعد وہ دن آیا جب شہر دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا،مگراصل امتحان فتح کے بعد شروع ہوا،فاتح کے پاس اختیارتھا، طاقت تھی، بدلہ لینے کا موقع تھا۔لیکن صلاح الدین ایوبی نے طاقت کے نشے کواپنے فیصلوں پرغالب نہیں آنے دیا۔ یہاں تلوارسے زیادہ بڑا ہتھیار سامنے آیا۔۔۔۔’’ عدل ‘‘۔۔۔۔
تین سپہ سالار۔۔۔۔ تین میدان۔۔۔۔ اورتین لفظ ’’ صبر،یقین،عدل ‘‘۔۔۔۔

آج ہم تلواریں لے کر میدان میں نہیں اترتے، مگرزندگی ہرروز ہمارے سامنے ایک نیا میدان کھول دیتی ہے۔کبھی حالات ہمارے خلاف ہوتے ہیں، کبھی اپنوں کے رویے، کبھی وقت کی رفتاراورکبھی اپنی ہی قسمت سے شکایت ہونے لگتی ہے۔ایسے میں سب سے پہلے ’’ صبر‘‘ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔صبرکا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم دیکھ کرخاموش ہوجائے، یا اپنے حق سے دستبردار ہوجائے۔صبرکا مطلب یہ ہے کہ مشکل وقت میں انسان اپنا توازن نہ کھوئے۔جو شخص غصے میں فیصلہ نہیں کرتا، وہ کئی پچھتاووں سے بچ جاتا ہے۔کبھی ایک لمحے کا صبر برسوں کی زندگی سنواردیتا ہے، اور کبھی ایک لمحے کا غصہ برسوں کے رشتے توڑ دیتا ہے۔۔۔۔

پھر آتا ہے ’’ یقین ‘‘۔۔۔۔زندگی میں کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں دور تک کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ انسان قدم تو اٹھاتا ہے، مگرمنزل نظرنہیں آتی۔ یہاں یقین کام آتا ہے۔ یقین انسان کو یہ طاقت دیتا ہے کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، صبح کہیں نہ کہیں ضرورموجود ہے، جو لوگ ہرمشکل کے سامنے یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوسکتا، وہ اکثراپنی شکست کا فیصلہ خود لکھ دیتے ہیں۔۔۔۔ اورجو شخص یہ کہتا ہے کہ راستہ نہیں ہے تو راستہ بنایا جائے گا، وہی آگے بڑھتا ہے۔۔۔۔ لیکن صبراوریقین کے بعد بھی ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔ انسان کے ہاتھ میں طاقت آجائے تو وہ کیا کرے۔۔۔۔؟ یہاں ’’عدل ‘‘ سامنے آتا ہے۔

طاقت ملنا بڑی بات نہیں، طاقت ملنے کے بعد انصاف کرنا بڑی بات ہے۔ کمزورکے ساتھ انصاف کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ کمزور کے پیچھے کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں فیصلہ اپنے اور پرائے کے درمیان کرنا ہو۔ اپنے آدمی کی غلطی بھی غلط کہنا پڑے، اور مخالف کی بات بھی درست ہو تو اسے درست ماننا پڑے،یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔۔۔۔ کیونکہ صبر انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے، یقین اسے رکنے نہیں دیتا۔۔۔۔اورعدل اسے بگڑنے نہیں دیتا۔۔۔

زندگی آخرکارہمیں انہی تین راستوں پرلا کھڑا کرتی ہے۔۔۔۔ کبھی حالات ہمیں آزماتے ہیں اور پوچھتے ہیں، کتنا صبر ہے۔۔۔۔؟ کبھی منزل دورہوجاتی ہے اورپوچھتی ہے، کتنا یقین ہے۔۔۔۔؟۔۔۔۔ اور کبھی ہاتھ میں اختیارآجاتا ہے اورسوال ہوتا ہے، کتنا عدل ہے۔۔۔۔؟ شاید اسی لیے عظیم لوگ صرف اپنی فتوحات سے عظیم نہیں بنتے، وہ اس بات سے عظیم بنتے ہیں کہ فتح کے بعد ان کے اندر کا انسان زندہ رہتا ہے۔۔۔۔ صبرہو تو مشکل وقت گزرجاتا ہے۔ یقین ہو تو ناممکن راستہ بھی کھل جاتا ہے۔۔۔۔ اورعدل ہو توطاقت انسان کو ظالم نہیں بننے دیتی۔۔۔۔

دنیا میں بڑے بڑے جنگجو ہوگزرے ،لیکن اسلامی تاریخ میں تین ایسے سپہ سالار گزرے ہیں۔۔ جن کے سامنے تاریخ نے بھی سرجھکا دیا ۔۔۔ وہ ہیں ،خالد بن ولید۔۔۔ طارق بن زیاد۔۔ صلاح الدین ایوبی۔۔۔۔تینوں نے ثابت کیا فتوحات صرف تلوار سے نہیں ملتیں۔۔۔فتوعات صبر،یقین اورعدل سے ملتی ہیں۔۔۔۔وقت گزرجاتا ہے، تخت بدل جاتے ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، مگرانسان کا کردار تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button