
اسلام آبا:(وی او این)سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں ہمارا ملک کرپشن کے کینسر میں مبتلا ہے۔عدالت نے پشاور سے گرفتار ڈائریکٹر امیگریشن فرخ جمال صدیقی کی ضمانت منظور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈرائیور محمد حکیم کی ضمانت بھی منظور کرلی ۔
کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، ملزم پر مہاجرین سے رشوت لینے کا الزام تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی شفقت عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم فرخ جمال سے موقع سے چھ لاکھ روپے برآمد ہوئے تھے جبکہ ان کی نشان دہی پر گھر سے مزید ایک کروڑ روپے نقد رقم برآمد کی گئی۔
ملزم کے قبضے سے ملنے والی گاڑیاں اور دیگر اشیاء بھی ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ڈائریکٹر اور ڈرائیور کو ایک ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور ڈرائیور رقم لے کر ایک حصہ اپنے پاس رکھتا جبکہ بقیہ رقم ڈائریکٹر کو دی جاتی تھی، نیز ملزم کا رقم لینے اور ڈی جی کو 30 فیصد حصہ دینے کا اعترافی بیان بھی موجود ہے۔
جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایا کہ کیا ملزم سے ملنے والی رقم نشان زدہ تھی؟ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس ایسا کوئی شاہد نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ رقم کرپشن کی ہے، الزام لگانے والا بھی کوئی سامنے نہیں آیا اور آپ عدالت میں کیس ثابت نہیں کر سکیں گے۔
ڈرائیور کے وکیل ارشد حسین یوسفزئی نے موقف اپنایا کہ ملزم کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کیا ڈرائیور کی اتنی جرات ہے کہ وہ اپنے ڈائریکٹر کو انکار کر سکے؟ ڈرائیور کوئی فیصلہ تو نہیں کر سکتا، اسے خوامخواہ گرفتار کیا گیا،ہمارا ملک کرپشن کے کینسر میں مبتلا ہے۔



