طویل جنگ کیلئے تیار،ہمارے جدید ہتھیاروں سے دنیا حیران رہ جائے گی: ایران
اس بار ہمارا ہدف امریکا کے انٹیلی جنس مراکز بھی شامل ہوسکتے ہیں، ترجمان پاسداران انقلاب

تہران:(وی او این )ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملے کیے گئے تو اس مرتبہ ایسے نئے ہتھیاروں سے نئے اہداف کو نشانہ بنائیں گے جس میں امریکی انٹیلی جنس مراکز بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈے ناکارہ ہوچکے ہیں جبکہ امریکی فوجیوں اور عسکری سازوسامان کو مزید دور دراز مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکا نے خطے میں موجود اپنے فوجیوں اور عسکری وسائل کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اگر امریکا نے دوبارہ حملوں کا فیصلہ کیا تو ایران کے اہداف بھی تبدیل ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ ایسے نئے ہتھیار استعمال کیے جائیں گے جو پہلے استعمال نہیں کیے گئے اور ان اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا جو گزشتہ کارروائیوں میں محفوظ رہے تھے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکا کے ساتھ کسی بھی رابطے یا سفارتی سرگرمی میں شمولیت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاسداران انقلاب ایران کا دفاعی اور عسکری ادارہ ہے اور سفارتی معاملات میں حصہ نہیں لیتا۔
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور کسی بھی نئی امریکی کارروائی کی صورت میں ایسے ہتھیاروں کے ساتھ جواب دیا جائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔
ترجمان پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکی حملے کی صورت میں اپنے جواب کے دائرہ کار اور اہداف میں تبدیلی کرے گا۔



