انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

فیلڈ مارشل عاصم منیرپاکستان کے دفاع کا ضامن

تحریر: فرخ ریاض بٹ

پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب ایک شخصیت کا کردار محض ایک ادارے کی قیادت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کی داخلی سلامتی، خارجہ پالیسی اور قومی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر ڈالتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ملکی مفاد میں کیے جانے والے فیصلوں کی وجہ سے عوام انہیں پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور دفاع کا ضامن قراردیتی ہے ۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھالی جب پاکستان کو بیک وقت کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا تھا۔ خطے کی سکیورٹی صورتحال، افغانستان سے متعلق خدشات، دہشت گردی، معاشی دباو ¿ اور اندرونی سیاسی کشیدگی نے ریاستی ادارو ں کے لیے فیصلہ سازی کو غیر معمولی طور پر مشکل بنا دیا تھا، ایسے ماحول میں عسکری قیادت کے لیے بنیادی سوال یہ تھا کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو کس طرح تبدیل ہوتے ہوئے علاقائی اور داخلی حالات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔

ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف طویل اور بھاری قیمت ادا کی ہے۔ عسکری حکام کی جانب سے سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو مسلسل اہمیت دی گئی۔ تاکہ شہری پر امن زندگی گزار سکیں ۔

پاکستان کی معاشی مشکلات نے یہ سوال نمایاں کیا کہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کو کس طرح ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے تو بعض مواقع پر عسکری قیادت نے معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون پر زور دیاہے۔خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی پاکستان کو ایک پیچیدہ ماحول کا سامنا رہا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات، افغانستان کی صورتِ حال، چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اور خلیجی ممالک سے تعلقات ایسے موضوعات ہیں جن میں سلامتی اور سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکری قیادت کے بیانات میں قومی خودمختاری، علاقائی استحکام اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔

عاصم منیر کی قیادت کو سمجھنے کے لیے پہلا اہم پہلو قومی سلامتی ہے۔ ان کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف کارروا ئی، سرحدی انتظام، فوجی تیاری اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی مسلسل نمایاں رہی ہے۔دوسرا پہلو جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کا ہے۔ روایتی جنگ کے ساتھ ہائبرڈ، سائبر، اطلاعاتی اور غیر روایتی محاذوں کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

تاہم ان کی قیادت کا دائرہ صرف عسکری معاملات تک محدود نہیں ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی فوجی قیادت کا کردار نمایاں ہوا ہے۔ 2026 میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا، جبکہ عاصم منیر نے ایران کا دورہ بھی کیا۔ رائٹرز کے مطابق ان مذاکرات میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی راستے پر بات ہوئی، اسی طرح واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بھی نمایاں سرگرمی نظر آئی ہے۔

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں کردار ادا کیا اور عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیاں اس عمل کا ایک نمایاں حصہ رہیں۔پاکستان کی تاریخ میں دفاع اور قومی سلامتی ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کے حامل موضوعات رہے ہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، مشرقی اور مغربی سرحدوں کے چیلنجز اور داخلی سلامتی کے مسائل نے ملکی دفاع کو ریاستی پالیسی کا ایک بنیادی ستون بنا دیا ہے۔

آج دفاع صرف سرحد پر فوجی موجودگی کا نام نہیں، مضبوط معیشت، مو ثر سفارت کاری، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس صلاحیت اور قومی یکجہتی بھی دفاعی طاقت کے لازمی اجزا ہیں، بحیثیت عسکری قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کے فیصلے پاکستان کو زیادہ محفوظ، زیادہ مستحکم اور زیادہ مو ثر ریاستی نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button