
میاں حسیب عرف میاں وکی کے گھر چھاپہ، بیٹے اور ملازمین کی گرفتاری، مقدمہ درج۔۔۔ اور پھر بریکنگ نیوز کی بھرمار!
ایسے لگ رہا ہے جیسے لاہور سے جوئے کا خاتمہ ہوگیا ہو،معذرت کے ساتھ، یہ کوئی کارنامہ نہیں،یہ وہی روایتی کارروائی ہے جو ہم برسوں سے دیکھتے آئے ہیں، سخت افسر آیا، ماتحتوں نے کارکردگی دکھائی، چھاپہ پڑا، چند لوگ پکڑے گئے، مقدمہ درج ہوا، بریفنگ ہوئی، خبریں چلیں اور پھر کچھ عرصے بعد وہی کھیل دوبارہ شروع،میاں وکی کے خلاف یہ کوئی پہلا مقدمہ نہیں،میاں وکی کے معاملے کی کہانی آج کی نہیں
2014 میں مجھے چند روز روزنامہ ”دن“ کے کرائم سیل میں کام کرنے کا موقع ملا، اس وقت اقبال خان صاحب ایڈیٹر تھے، میرے پاس میاں وکی کے مبینہ جوئے کے نیٹ ورک کے حوالے سے معلومات تھیں، میں نے خبر فائل کی،خبر میں جوئے کے نیٹ ورک، اس کے طریقہ کار اور پولیس و بااثر حلقوں کے مبینہ کردار کی تفصیلات شامل تھیں،خبر شائع ہوئی تو دباؤ شروع ہوگیا،میں نے اقبال خان صاحب کو بتایا کہ مجھ پر دباؤ آ رہا ہے،آفرز آرہی ہیں،مختلف حلقوں سے سفارشیں بھی آرہی ہیں کہ خبر روک دو
انہوں نے کہا:”تیرے سے زیادہ پریشر تو میرے اوپر ہے، لیکن اگر خبر سچی ہے تو یہ چلے گی“
خبر چلی،فالو اَپ چلا،مزید معلومات سامنے آئیں
دباؤ بڑھا،دھمکیاں بھی آئیں،لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹے
پھر ایک دن اقبال خان صاحب نے مجھے بلایا،میں نے سوچا شاید کوئی نیا فالو اَپ ہے،لیکن اس دن خبر نہیں۔۔۔صحافت ہار گئی تھی،ان کے چہرے پر بے بسی تھی،انہوں نے بتایا کہ اخبار کی اعلیٰ انتظامیہ کی طرف سے حکم آ گیا ہے،اب میاں وکی کے بارے میں مزید خبر نہیں لگانی،یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے سمجھ آیا کہ دباؤ کی بھی ایک منزل ہوتی ہے، پہلے دباؤ رپورٹر پر آتا ہے،وہ نہ جھکے تو ایڈیٹر تک پہنچتا ہے،ایڈیٹر بھی نہ جھکے تو دباؤ اخبار کی انتظامیہ تک پہنچتا ہے
جب انتظامیہ جھک جائے تو خبر کا قلم خود بخود رک جاتا ہے،میں دل برداشتہ ہوا اور وہاں سے نکل آیا،یہ واقعہ میرے لیے آج بھی محض ایک پرانی صحافتی یاد نہیں،یہ اس سوال کا حصہ ہے کہ آخر وہ کون سی طاقت تھی جو ایک خبر کورپورٹر سے ایڈیٹر اور ایڈیٹر سے انتظامیہ تک پہنچ کر رکوا سکتی تھی۔۔۔۔؟
ایک وقت میں سٹی ڈویژن میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بھی مجھے بتایا تھا کہ میاں وکی کے معاملے میں پولیس پر ایک ایسی سیاسی شخصیت کا دباؤ تھا جو اس وقت پنجاب حکومت کاحصہ بھی تھی
ماضی میں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں میاں وکی قرآن مجید اٹھا کر جوئے سے توبہ کرتے دکھائی دیئے، یہ ویڈیواُس وقت بنائی گئی جب وہ سی آئی اے پولیس کی حراست میں تھے،تاہم باہر آنے کے بعد جوئے کااڈہ پھربھی چلتا رہا،سوال صرف ایک شخص کا نہیں، پورے نظام کا بنتا ہے،آج ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران محکمانہ احتساب اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے ہیں،تو پھر اصل امتحان بھی یہی ہے،میاں وکی کو پکڑنا آسان ہے، یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ اتنے سال تک کیسے جوئے کا اڈہ چلاتا رہا،متعلقہ تھانوں کو کیا معلوم نہیں تھا۔۔۔؟اگر معلوم تھا تو کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔۔۔؟کس نے آنکھیں بند رکھیں۔۔۔؟کس نے مبینہ طور پر سہولت دی۔۔۔۔؟ اگر کوئی پولیس افسر، اہلکاریاکوئی سیاسی بااثرشخصیت اس نیٹ ورک کا سہولت کار ثابت ہوتا ہے تو کیا اس کے خلاف بھی وہی سختی ہوگی جو آج دوسروں کے خلاف دکھائی جا رہی ہے۔۔۔؟
کیونکہ کوئی بڑا غیرقانونی نیٹ ورک صرف ایک آدمی نہیں چلاتا،اس کے پیچھے خاموشیاں ہوتی ہیں، سہولت کاری ہوتی ہے، اور پولیس وردی بھی،وردی قانون سے اوپر نہیں ہوسکتی، اگر کسی بااثر سیاسی یا کاروباری شخصیت کا کردار تحقیقات میں ثابت ہوتا ہے تو قانون وہاں بھی پہنچنا چاہیے،ورنہ چند گرفتاریاں، ایک ایف آئی آر اور چند دن کی بریکنگ نیوز کے بعد سب کچھ پھر وہیں پہنچ جائے گا جہاں پہلے تھا،اصل سوال یہ نہیں کہ میاں وکی پکڑا گیا یا نہیں
اصل سوال یہ ہے،میاں وکی اتنے سال تک چلتا کیسے رہا۔۔۔؟اگر اس سوال کا جواب مل گیا تو شاید پہلی بار صرف ایک شخص نہیں، پورا نظام کٹہرے میں کھڑا ہوگا،اڈہ پکڑو،جال پکڑو،سہولت کار پکڑو،اور اگرپولیس وردی کے پیچھے چھپا کوئی کردار سامنے آئے تو اسے بھی قانون کے سامنے لاؤ،ورنہ آج میاں وکی، کل کوئی اور۔۔۔!!نام بدلتے رہیں گے، کھیل وہی رہے گا
صرف مقدمہ نہیں
پورا حساب چاہیے



