اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے مطالبات تسلیم ہونے تک دستبردار نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج پرامن رکھا جائے گا اور کارکنوں کو کسی بھی قسم کا اسلحہ، ڈنڈے، غلیل یا پتھر ساتھ لانے سے روک دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کا اعلیٰ سطحی اجلاس چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، صوبائی صدر جنید اکبر خان، اسد قیصر، محمد عاطف خان، شہرام ترکئی، شاہد خٹک، شوکت یوسفزئی اور شفیع جان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں اور مذاکرات کا اختیار دیا گیا۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے فوری رابطوں کی منظوری دی گئی۔
لانگ مارچ مؤخر کرنے کی تجویز بھی زیر غور
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے پنجاب جانے والے راستے بند کیے جانے کے باعث حکومتی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے اور انتظامیہ کی بڑی توانائی لانگ مارچ روکنے پر صرف ہو رہی ہے، اس لیے مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کر دیا جائے۔
تاہم اجلاس میں اس تجویز پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیے جانے کا امکان تھا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمانوں نے 27 ستمبر کے احتجاج کے پروگرام کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق اجلاس میں پارٹی کارکنوں، اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی وزرا کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تمام اراکین اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو اپنے اپنے حلقوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایت کی گئی۔
پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو واضح طور پر ہدایت کی گئی کہ لانگ مارچ کے دوران کسی قسم کا اسلحہ، ڈنڈا، غلیل یا پتھر ساتھ نہ لایا جائے۔ شوکت یوسفزئی نے بھی کہا ہے کہ اسلحہ یا کسی ممنوعہ چیز کے ساتھ آنے والے افراد سے پارٹی لاتعلقی ظاہر کرے گی۔
’مذاکرات سے مسائل حل کیے جائیں‘: بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں، ریاستی طاقت کے استعمال سے ملک مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک کو تشدد کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور اس نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم ان کے بقول حکومت معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سڑکوں پر کنٹینر کھڑے کرنے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ جیسے سنجیدہ سیاسی معاملے میں بات چیت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کے مسائل سنے جانے چاہئیں اور شکایات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
’ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے اور کارکن پرامن رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا احتجاجی پروگرام پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد یا کسی ادارے پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کے بجائے اس کے ساتھ سیاسی طور پر بات کی جانی چاہیے۔
پی ٹی آئی کی قیادت نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو پرامن رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج آئینی و سیاسی دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔ پارٹی اس سے قبل بھی اعلان کر چکی ہے کہ مارچ کا مقصد سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔



