لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی تحریک جاری رہے گی اور جب تک عوام کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا جماعت اسلامی اپنے احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے خلاف آج لاہور میں جلسہ عام کیا جائے گا، جس میں آئندہ احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے اہم اعلان بھی متوقع ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی سے احتجاج موخر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے جماعت نے قبول کیا، جبکہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر عوامی مطالبات پر عملی پیش رفت کرتی ہے تو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے، تاہم محض یقین دہانیوں پر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاملے پر بھی احتجاج کیا اور حکومت کی جانب سے 10 آئی پی پیز کے خاتمے جبکہ مزید 21 کے معاملات آخری مراحل میں پہنچنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اس سے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
’پٹرولیم لیوی اور غیر قانونی ٹیکسوں کے خلاف تحریک جاری رہے گی‘
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تعلیم، زراعت، صنعت اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ ان کے بقول پٹرولیم لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے اور حکومت کو اس معاملے پر واضح فیصلہ کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت کے سامنے معاشی بہتری کے لیے 6 تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں پالیسی ریٹ کو 9 فیصد تک لانا، آئل ریفائنریز کے منافع سے متعلق اقدامات اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی شامل ہیں۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر متعدد مذاکرات بھی ہو چکے ہیں، تاہم فریقین کے درمیان حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور جماعت اسلامی اپنے احتجاج کو پرامن رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔
’لانگ مارچ حکمت عملی کے تحت موخر کیا، ختم نہیں کیا‘
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک جاری ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو حکمت عملی کے تحت چند روز کے لیے موخر کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد پٹرولیم لیوی کے معاملے پر فوری مذاکرات شروع ہونے چاہئیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا تو جماعت اسلامی لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے 25 ستمبر کو لاہور میں جلسے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جہاں حافظ نعیم الرحمان آئندہ احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے۔
’حکومت اور پی ٹی آئی میں ٹکراؤ کی کوشش ناکام بنائی‘
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم جماعت اسلامی نے اسے ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کسی ایک فریق کی جاگیر نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت ہے جہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور دیگر اہم ریاستی ادارے موجود ہیں، اس لیے ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔
لیاقت بلوچ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے کارکنوں، بالخصوص خواتین کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
’پیٹرول ریلیف سے عام آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا‘
لیاقت بلوچ نے حکومت کی جانب سے پٹرول پر دیے گئے ریلیف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کو واضح کیا تھا کہ عارضی ریلیف کے بجائے پٹرولیم لیوی کے بنیادی مسئلے کو حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس جماعت اسلامی کی پیش کردہ معاشی تجاویز مسترد کرنے کے لیے کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ پرامن اور منظم احتجاج کیا ہے اور اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر کئی ادوار کے مذاکرات ہو چکے ہیں۔ حکومت نے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ جماعت اسلامی نے لیوی کے خاتمے کو اپنے احتجاجی مطالبات میں بنیادی حیثیت دی ہے۔



