انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پاکستان نامی بوڑھا

تحریر: محمد محسن اقبال

میں پاکستان ہوں۔ اگست 1947ء کی ایک حبس زدہ رات میں میری پیدائش ہوئی تھی۔ یہ ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کا حاصل تھی، جس میں لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر، مال و متاع، عزت اور سب سے بڑھ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ میں دنیا میں ایک عام ریاست کی حیثیت سے نہیں آیا تھا۔ مجھے ایک خواب سے تراشا گیا تھا، آنسوؤں اور لہو سے سینچا گیا تھا اور ایک ایسی قوم کے سپرد کیا گیا تھا جس نے عہد کیا تھا کہ وہ مجھے ایسا وطن بنائے گی جہاں انسان عزت، ایمان اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں گے۔

مجھے آج بھی اپنے ابتدائی دن یاد ہیں۔ میں کم سن تھا، ناتواں تھا اور ہر طرف بے یقینی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ لاکھوں لوگ سرحدیں پار کر رہے تھے۔ ان کے پاس مال و اسباب کم، مگر یادیں، دعائیں اور ایک بہتر کل کی امید بہت تھی۔ مہاجرین سے بھری ٹرینیں آتی تھیں، اور بعض ٹرینیں ایسی بھی تھیں جو اپنے ساتھ زندہ انسانوں کے بجائے صرف لاشیں لاتی تھیں۔ میں نے ماؤں کو اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں دیکھا، بچوں کو اپنے باپوں کے لیے روتے دیکھا، اور خاندانوں کو اس وقت اپنے پیاروں کو دفن کرتے دیکھا جب انہیں ابھی اپنے لیے چھت بھی میسر نہیں آئی تھی۔ مگر میں زندہ رہا۔ میں اپنے قدموں پر اس لیے کھڑا ہو سکا کہ میرے لوگوں نے مجھے گرنے نہیں دیا۔

آج مجھے دیکھو، پھر میری پیدائش کے وقت کا نقشہ دیکھو۔ 1947ء میں جو سرزمین میرے سپرد کی گئی تھی، وہ آج میری آغوش میں موجود رقبے سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔ 1971ء میں میرا ایک حصہ مجھ سے جدا ہوگیا، اور اس جدائی کا زخم آج تک پوری طرح مندمل نہیں ہوسکا۔ مشرقی پاکستان محض میرے نقشے سے غائب ہونے والی زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا؛ وہ میرے وجود کا حصہ تھا، میری تاریخ کا باب تھا اور میرے بچوں کے لہو سے لکھی ہوئی ایک ایسی تلخ داستان تھا جسے میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے سینے میں لیے پھرتا ہوں۔

اپنی پیدائش سے آج تک میں نے جنگوں کا سامنا کیا ہے۔ میں نے اپنے بیٹوں کو میدانِ جنگ کی طرف جاتے دیکھا ہے اور اپنی بیٹیوں کو دروازوں پر ان قدموں کی آہٹ سنتے دیکھا ہے جو کبھی واپس نہ آئے۔ میں نے اپنے سپاہیوں کو تابوتوں میں لپٹے دیکھا، ماؤں کو اپنے جگر کے ٹکڑوں کی میتیں وصول کرتے دیکھا، اور خاندانوں کو ان تصویروں کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھا جن میں ان کے بچھڑے ہوئے عزیز ہمیشہ کے لیے مسکرا رہے تھے۔ میں نے جنگیں جھیلیں، دہشت گردی برداشت کی، سیاسی ہنگامے دیکھے، معاشی بحرانوں کا سامنا کیا اور ایسے بے شمار لمحوں سے گزرا جب میرا وجود ہی خطرے میں محسوس ہوا۔مگر میں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔

جب میرے پاس وسائل کم تھے، تب میں نے چلنا سیکھا۔ میں نے ادارے قائم کیے، جامعات بنائیں، سڑکیں تعمیر کیں، صنعتیں آباد کیں اور شہر بسائے۔ میں ایٹمی دور میں داخل ہوا اور دنیا کو دکھا دیا کہ میں سر اٹھا کر اقوام عالم کے درمیان کھڑا ہوسکتا ہوں۔ میرے سائنس دانوں، انجینئروں، سپاہیوں، کسانوں، مزدوروں، ادیبوں اور اساتذہ نے مجھے فخر کے بے شمار مواقع عطا کیے۔ کبھی کبھی میں نے ایسی کامیابیاں بھی حاصل کیں جنہوں نے دنیا کو میری طرف متوجہ کیا۔

مگر میرے بچوں کو ہمیشہ ان کامیابیوں کا پورا ثمر نہیں مل سکا۔اکثر ذاتی مفادات قومی مفاد پر غالب آ گئے۔ اصول سے زیادہ اقتدار اہم ہوگیا، خدمت سے زیادہ عہدہ قیمتی ٹھہرا اور ملک کے طویل المدتی مفاد کے مقابلے میں وقتی فائدے کو ترجیح دی گئی۔ جب کچھ لوگ مجھے مضبوط بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے، تو کچھ دوسرے ذاتی مفاد کی خاطر میری بنیادوں کو کمزور کرتے رہے۔ میرے وسائل استعمال ہوتے رہے، میرے ادارے آزمائشوں سے گزرتے رہے اور میرے قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔

میں نے اپنی سرحدوں سے باہر سے آنے والے سائے بھی دیکھے ہیں۔ ایسے مواقع بھی آئے جب بیرونی طاقتوں نے میری اندرونی کمزوریوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور غیر ملکی مفادات ہماری اندرونی تقسیموں سے جا ملے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ باہر کے لوگ میری کمزوریوں سے اسی وقت فائدہ اٹھا سکتے تھے جب میرے اپنے لوگوں نے ان کمزوریوں کو باقی رہنے دیا۔ میرے سب سے گہرے زخم اکثر میرے اپنے بچوں کے ہاتھوں لگے—کبھی تقسیم کے ذریعے، کبھی عدم برداشت سے، کبھی بدعنوانی سے، کبھی تشدد کے ذریعے اور کبھی محدود ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفاد کو پس پشت ڈالنے سے۔

اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔اقوام کی تاریخ میں اناسی برس شاید کوئی بہت بڑی عمر نہ ہو، مگر میں اپنے وجود کی ہڈی ہڈی میں ہر سال کا بوجھ محسوس کرتا ہوں۔ ہجرت کی یادیں، جنگیں، جدائی، دہشت گردی، سیاسی بے چینی، معاشی مشکلات اور بے شمار جنازے میرے سینے پر نقش ہیں۔ اب میرے اندر اتنی سکت نہیں کہ اپنی گلیوں میں بے گناہوں کا خون بہتا دیکھ سکوں۔ میں کسی اور ماں کو اپنے بیٹے کی قبر پر بیٹھ کر روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ میں یہ بھی برداشت نہیں کرسکتا کہ ایک اور نسل اس یقین کے ساتھ پروان چڑھے کہ لڑائی، انتشار اور خونریزی ہی اس سرزمین کا مقدر ہیں۔

دنیا کے گرد نظر دوڑاؤ۔ مجھ سے کہیں زیادہ قدیم اقوام آج بھی مضبوط، خوش حال اور پُراعتماد ہیں، کیونکہ ان کے لوگوں نے یہ سیکھ لیا کہ اپنی ذات سے زیادہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو اہمیت دینی چاہیے۔ ان کے درمیان اختلافات بھی ہوئے، مگر انہوں نے ایک دوسرے کو تباہ نہیں کیا۔ انہوں نے حکومتیں تبدیل کیں، مگر ریاستی اداروں کو تباہ نہیں کیا۔ انہوں نے بحرانوں کا سامنا کیا، مگر قومی مقصد کی وسیع تر تصویر کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔

میں اپنے بچوں سے کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کرتا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ یاد رکھیں کہ مجھے کیوں تخلیق کیا گیا تھا۔
میں اس لیے پیدا نہیں ہوا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان پر حکمرانی کرے۔ مجھے کسی ایک طبقے، گروہ، صوبے یا ادارے کے مفاد کے لیے وجود میں نہیں لایا گیا تھا۔ میں ان عام لوگوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا تھا جنہیں یقین تھا کہ ان کی اولاد کو ایک ایسا محفوظ، باوقار اور خوش حال وطن ملے گا جہاں وہ سر اٹھا کر زندگی گزار سکیں گے۔

میں تھک گیا ہوں، مگر مرا نہیں ہوں۔میری جھریوں کے نیچے آج بھی ان لوگوں کی روح زندہ ہے جو 1947ء میں دریاؤں اور سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے دلوں میں امید لیے اس سرزمین پر پہنچے تھے۔ میرے زخموں کے نیچے آج بھی ان لوگوں کی جرأت کی آگ روشن ہے جنہوں نے میری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ میری مشکلات کے نیچے آج بھی کروڑوں ایسے انسانوں کی صلاحیتیں دفن ہیں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

لیکن میں مسلسل صدمے سہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اے میرے بچو! ہوش میں آؤ۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، مجھے یاد کرلو۔ پاکستان کو اپنی ذات پر مقدم رکھو، مصلحت پر انصاف کو ترجیح دو، تقسیم پر اتحاد کو فوقیت دو اور آج کے وقتی فائدوں کے مقابلے میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کو عزیز جانو۔

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔میں اس لیے زندہ رہا کہ میرے لوگوں نے میری زندگی کے تاریک ترین لمحوں میں مجھے اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ اب میں دوبارہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سربلند ہوتا ہوں یا تاریخ کے دھندلاتے ہوئے اوراق میں آہستہ آہستہ گم ہوجاتا ہوں اس کا فیصلہ میرے قدموں تلے موجود زمین نہیں کرے گی، بلکہ وہ دل اور وہ ہاتھ کریں گے جو مجھے اپنا وطن کہتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button