بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تین راستے

بے لگام / ستار چوہدری

انسان کی زندگی میں کچھ موڑ ایسے آتے ہیں جہاں راستہ سامنے ہوتا ہے، مگر فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ ایک طرف خاموشی کھڑی ہوتی ہے، دوسری طرف مزاحمت آواز دیتی ہے، اور کہیں دور تبدیلی ہاتھ ہلا رہی ہوتی ہے۔ تینوں راستے اپنی جگہ درست دکھائی دیتے ہیں، مگرسوال یہ ہے کہ کب کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔۔؟ ہربات کا جواب بولنا نہیں ہوتا۔

کبھی وقت سے پہلے بولا گیا سچ بھی اپنا اثرکھو دیتا ہے۔ کبھی خاموش رہنا انسان کو کمزور نہیں، بلکہ مضبوط بناتا ہے۔ خاموشی کبھی صبر ہوتی ہے، کبھی حکمت، کبھی انتظار۔۔۔۔ مگر یہی خاموشی اگر ظلم کو تحفظ دینے لگے تو پھر وہ خاموشی نہیں رہتی، ایک جرم بن جاتی ہے۔پھر ایک لمحہ آتا ہے جب انسان کے اندر سے کوئی آواز اٹھتی ہے کہ اب بس۔۔۔۔ !! اب خاموش رہنے کا وقت گزرچکا، اب کھڑا ہونا ہوگا۔

یہیں سے مزاحمت جنم لیتی ہے۔ مزاحمت ہمیشہ ہجوم، نعروں اورشور کا نام نہیں۔ کبھی ایک شخص کا غلط کے سامنے کھڑا ہوجانا بھی پوری دنیا کے شور سے بڑا اعلان ہوتا ہے۔ لیکن زندگی صرف دوسروں سے لڑنے کا نام بھی نہیں،کچھ جنگیں باہر نہیں، انسان کے اندر لڑی جاتی ہیں۔ وہاں دشمن کوئی دوسرا نہیں ہوتا، اپنی عادتیں، اپنی کمزوریاں، اپنا خوف، اپنی غلط سوچ اور اپنی پرانی روش ہوتی ہے۔ تب تیسرا راستہ سامنے آتا ہے۔۔۔۔ تبدیلی کا راستہ۔۔۔۔

شاید زندگی کا سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ ہمیں کب خاموش ہونا ہے، کب مزاحمت کرنی ہے اور کب خود کو بدل دینا ہے۔۔۔۔کیونکہ ہرجگہ خاموشی دانش مندی نہیں، ہرجگہ مزاحمت بہادری نہیں۔۔۔۔ اورہرتبدیلی ترقی نہیں ہوتی۔اصل دانائی شاید یہ جاننے میں ہے کہ کس لمحے خاموشی عبادت بن جاتی ہے، کس لمحے مزاحمت فرض محسوس ہونے لگتی ہے۔۔۔اورکس لمحے تبدیلی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں رہتا۔آج ہم انہی تین راستوں پر چلیں گےایک ایک کرکے۔۔۔۔

خاموشی بھی عجیب چیز ہے۔ دنیا اسے اکثرکمزوری سمجھ لیتی ہے، حالانکہ بعض اوقات خاموش انسان وہ کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے جو شور مچانے والوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ہرجواب فوراً دینا ضروری نہیں ہوتا۔ ہر الزام کا جواب دلیل سے دینا بھی لازم نہیں۔ کچھ باتیں وقت کے حوالے کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ وقت وہ منصف ہے جو نہ کسی کے دباؤ میں آتا ہے، نہ کسی کی سفارش سنتا ہے،کبھی خاموشی صبر ہوتی ہے۔

انسان جانتا ہے کہ سامنے والا غلط ہے، مگر وہ بحث نہیں کرتا۔ وہ وقت کو بولنے دیتا ہے۔ کبھی خاموشی حکمت ہوتی ہے۔ انسان جانتا ہے کہ ابھی بولنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ مزید الجھے گا۔ اور کبھی خاموشی انسان کی اپنی حفاظت ہوتی ہے؛ وہ جانتا ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، کچھ جنگیں چھوڑ دینا بھی عقل ہے۔مگرخاموشی کی ایک حد بھی ہے۔

جب کسی کے گھرکا چراغ بجھایا جا رہا ہو اور ہم صرف اس لیے خاموش رہیں کہ دھواں ہمارے گھر تک نہیں پہنچا، تو یہ صبر نہیں۔ جب کسی کمزور کا حق چھینا جا رہا ہو اور ہم یہ سوچ کر منہ پھیرلیں کہ معاملہ ہمارا نہیں، تو یہ حکمت نہیں۔۔۔ اور جب ظلم ہماری آنکھوں کے سامنے معمول بننے لگے اور ہم خاموش رہ کر اسے قبول کرلیں تو پھر ہماری خاموشی بھی اس ظلم کی زبان بن جاتی ہے،اگر خاموشی ہمیں سنوار رہی ہے، ہمیں سوچنے کا وقت دے رہی ہے اور صحیح لمحے کا انتظارسکھا رہی ہے تو یہ طاقت ہے۔لیکن اگر ہماری خاموشی کسی غلط کام کو بڑھنے کا موقع دے رہی ہے تو پھر شاید اگلا راستہ پکار رہا ہے۔۔۔۔ ’’مزاحمت کا راستہ ‘‘۔۔۔۔

مزاحمت کا آغاز شور سے نہیں ہوتا، ایک انکار سے ہوتا ہے۔ایک ایسا انکارجو انسان اپنے اندر سے سنتا ہے،یہ غلط ہے۔۔۔ اور میں اسے درست ماننے سے انکار کرتا ہوں۔دنیا میں جو کچھ بدلا، وہ ہمیشہ طاقتور لوگوں نے نہیں بدلا۔ کبھی ایک کمزور دکھائی دینے والا انسان بھی وقت کے سینے پر ایسی لکیرکھینچ دیتا ہے جسے مٹانے کے لیے پوری طاقت کم پڑجاتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ حالات کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں، اور کچھ لوگ حالات کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں،مزاحمت کا مطلب ہر وقت لڑائی نہیں۔ کبھی مزاحمت ایک سچ بول دینا ہے۔ کبھی کسی کمزور کا ہاتھ پکڑ لینا ہے۔ کبھی اپنے حق سے دستبردار ہونے سے انکار ہے۔ کبھی یہ کہنا ہے کہ ’’ سب یہی کر رہے ہیں ‘‘۔۔۔ اس لیے میں بھی یہی کروں گا، کوئی دلیل نہیں،کیونکہ بھیڑ میں شامل ہونا آسان ہے، مگر غلط سمت جاتی ہوئی بھیڑ سے الگ کھڑا ہونا مشکل۔

ایک استاد جب نقل کے سامنے انکار کرتا ہے، ایک صحافی جب دباؤ کے باوجود سوال پوچھتا ہے، ایک مزدور جب اپنے حق کی بات کرتا ہے، ایک عام آدمی جب ناانصافی دیکھ کر خاموش نہیں رہتا،یہ سب مزاحمت کی مختلف شکلیں ہیں۔اگر مزاحمت غصے کی غلام بن جائے تو وہ اصلاح کے بجائے انتقام بن سکتی ہے۔ اگر مقصد بھول جائے تو راستہ رہ جاتا ہے، منزل کھو جاتی ہے۔ اس لیے ہر شورمزاحمت نہیں اورہرٹکراؤ بہادری نہیں،حقیقی مزاحمت وہ ہے جو غلط کے سامنے کھڑی ہو، مگر خود غلط نہ بنے۔ایک سوال ابھی باقی ہے۔اگرہم خاموشی سے نکل آئے، مزاحمت بھی کرلی۔۔۔

تو کیا صرف دوسروں کو بدل دینے سے دنیا بدل جائے گی۔۔۔؟ شاید نہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی سب سے مشکل مزاحمت باہر نہیں، ’’ اپنے اندر ‘‘ کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔ اور وہیں سے تیسرا راستہ شروع ہوتا ہے۔۔۔۔’’ تبدیلی کی راستہ ‘‘۔۔۔۔
تبدیلی کا راستہ سب سے عجیب راستہ ہے، کیونکہ اس پر چلنے کے لیے اکثر انسان کو دوسروں سے پہلے خود سے لڑنا پڑتا ہے۔ہم دنیا کو بدلنے کی بات بہت کرتے ہیں۔ نظام بدل جائے، لوگ بدل جائیں، حکمران بدل جائیں، حالات بدل جائیں۔۔۔ مگرایک سوال اکثرآئینے کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔۔۔۔’’ میں کب بدلوں گا۔۔۔؟ ‘‘ ۔۔۔۔

انسان دوسروں کی غلطیاں گننے میں پوری زندگی گزارسکتا ہے، مگر اپنی ایک غلط عادت کو بدلنے میں برس لگ جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ زمانہ بدل جائے، مگر اپنی سوچ وہیں کھڑی رکھتے ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں، مگراپنے فائدے کی باری آئے تو اصول کی کتاب بند کردیتے ہیں۔تبدیلی دراصل باہر سے پہلے اندر جنم لیتی ہے۔اورپھر ہم دوبارہ انہی تین راستوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔’’ خاموشی، مزاحمت، تبدیلی ‘‘۔۔۔۔خاموشی سوچ دے، مزاحمت راستہ بنائے۔۔۔ اور تبدیلی منزل تک لے جائے۔۔۔۔تب کہیں جا کرانسان بھی بدلتا ہے او زمانہ بھی۔ تین راستے ہیں، مگرفیصلہ ایک ہی ہے،مگرسوال یہ ہے کہ کب کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔۔؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button