انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

پردے کس رنگ کے ہیں

بے لگام / ستارچوہدری

تاریخ کے سینے میں کچھ منظرایسے دفن ہیں جو صدیوں بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، بادشاہ بدلتے رہتے ہیں، تخت الٹتے رہتے ہیں، مگران مناظرمیں چھپی ہوئی غلطی کبھی پرانی نہیں ہوتی۔۔۔۔کہتے ہیں، بغداد کے دربار میں بھی ایک زمانے تک بحثیں جاری رہتی تھیں۔ درباری اپنے اپنے موضوعات میں الجھے ہوئے تھے، کوئی کسی مسئلے کے حق میں دلیل دے رہا تھا، کوئی مخالفت میں۔ لفظوں کی جنگ تھی، سوالوں کے جواب تھے، جوابوں پر نئے سوال تھے۔مگردربار کی ان دیواروں سے باہرایک اورحقیقت تیزی سے قریب آ رہی تھی۔ہلاکوخان بغداد کی طرف بڑھ رہا تھا،پھر وہ دن آیا جب بحث ختم ہوگئی۔منگول لشکر بغداد میں داخل ہوا، شہراجڑگیا، کتب خانے خاموش ہوگئے، گلیاں خون سے بھر گئیں اوروہ تخت، جس کے گرد بیٹھ کر بڑے بڑے فیصلوں پر بحثیں ہوتی تھیں، خود تاریخ کا ایک ملبہ بن گیا۔تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ ہلاکو خان طاقتور تھا۔المیہ یہ تھا کہ دربار کی ترجیحات کیا تھیں۔۔۔۔؟ روم کے نیرو کی بانسری بھی تاریخ کا حصہ ہے۔۔۔۔سلطنتیں صرف تلوارسے نہیں ٹوٹتیں، وہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب حکمرانوں کواصل خطرہ نظر آنا بند ہوجائے، جب دربارکے موضوعات اورعوام کے مسائل کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھ جائے کہ دونوں ایک دوسرے سے اجنبی ہوجائیں۔۔۔۔اورپھرتاریخ بہت خاموشی سے اپنا فیصلہ لکھ دیتی ہے۔۔۔۔
آج ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔۔۔۔
پاکستان میں بھی ایک عجیب سا دربارسجا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں تخت کے گرد بیٹھنے والے چہرے بدل گئے ہیں، بحثوں کے عنوان بدل گئے ہیں، مگرمنظرکچھ زیادہ مختلف نہیں۔۔۔۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل ریاست کو چیلنج کررہے ہیں، بلوچستان ہاتھ سے نکل رہاہے، آزاد کشمیرمیں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، ملک کے 12کروڑ عوام دووقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا پارہے، ایک بھی یونیورسٹی دنیا کے ٹاپ 350یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے،ملک اس وقت ساڑھے تین سو ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا،عدالتی نظام 143 ممالک میں سے 130ویں نمبرپرآچکا۔۔۔۔مگرہماری قومی گفتگو کے بڑے موضوعات کیا ہیں۔۔۔؟خیبرپختونخوا میں گورنرراج لگے یا نہیں۔۔۔۔؟ ایمرجنسی نافذ کی جائے یا نہیں۔۔۔۔؟لانگ مارچ ہونا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔؟ اورپھرایک اوربڑا سوال۔۔۔۔احسن بھون کی ڈگری اصلی ہے یا جعلی۔۔۔۔؟
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں مسائل بہت زیادہ ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ مسائل کی قطاربہت لمبی ہے، مگرہماری ترجیحات کی فہرست بہت چھوٹی۔ہم ہرروز ایک نئے سیاسی تنازعے کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ آج گورنر راج، کل لانگ مارچ، پرسوں کسی کی ڈگری۔ ٹیلی ویژن پربحث، سوشل میڈیا پر جنگ، بیانات پربیانات۔۔۔۔ اوراسی شورمیں وہ پاکستان کہیں پیچھے رہ جاتا ہے جسے روٹی، تعلیم، امن، انصاف اورروزگارچاہیے۔۔۔۔ریاستیں نعروں سے نہیں، ترجیحات سے مضبوط ہوتی ہیں۔اگربلوچستان میں آگ ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسے بجھانے کے لیے کیا، کیا جا رہا ہے۔ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہے تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ شہری کب محفوظ ہوں گے۔ اگر بچے اسکول سے باہر ہیں تو قومی بحث کا ایک بڑا حصہ اس سوال کے گرد کیوں نہیں گھومتا کہ وہ بچے اسکول تک کیسے پہنچیں گے۔۔۔۔؟ ہم نے شاید سیاست کو مقصد اورریاست کو ذریعہ سمجھ لیا ہے، حالانکہ سیاست ریاست کے لیے ہونی چاہیے، ریاست سیاست کے لیے نہیں۔۔۔۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس مسائل بہت ہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ہر مسئلے کو ایک دوسرے سے بڑا ثابت کرنے کی دوڑ لگا رکھی ہے۔ سیاست اپنی جگہ شورمچا رہی ہے، معیشت اپنی جگہ کراہ رہی ہے اور امن و امان اپنی جگہ سوال بن کر کھڑا ہے۔مگرریاست کا کام صرف شورکا جواب دینا نہیں ہوتا، ریاست کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خاموشی میں کون سا مسئلہ سب سے زیادہ بڑا ہو رہا ہے، یہی چھوٹی چھوٹی خاموشیاں مل کر کسی قوم کا بڑا بحران بناتی ہیں۔ہم فوری مسئلوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بنیادی مسئلے بھول گئے ہیں۔ ہمیں ہرروز کوئی نیا سیاسی موضوع چاہیے، کوئی نیا تنازع چاہیے، کوئی نیا نام چاہیے جس پرقوم گھنٹوں بحث کرسکے۔حالانکہ قوموں کا مستقبل ٹیلی ویژن کی بحثوں سے نہیں، اس بات سے طے ہوتا ہے کہ ان کے بچے کہاں پڑھ رہے ہیں، نوجوان کہاں کام کررہے ہیں اورشہری کتنے محفوظ ہیں۔
بغداد کے دروازے پرہلاکوکھڑا تھا اوردربارمیں بحث جاری تھی۔ آج ہمارے دروازے پربھی خطرے کم نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج ہلاکو خان ایک شخص نہیں، غربت، جہالت، دہشت گردی، قرض، بے روزگاری اورکمزورہوتا ہوا نظام ہے۔۔۔۔اورہم۔۔۔۔؟ ہم اب بھی بحث کررہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج لگے یا نہ لگے، ایمرجنسی آئے یا نہ آئے، لانگ مارچ ہو یا نہ ہو، کسی کی ڈگری اصلی ہے یا جعلی،یہ بحثیں اپنی جگہ، قانون اپنا راستہ لے، سیاست اپنا راستہ لے، عدالتیں اپنے فیصلے کریں۔ مگر ریاست کا راستہ کہاں ہے۔۔۔۔؟ تاریخ میں دربار بہت آئے، بادشاہ بہت آئے، بحثیں بھی بہت ہوئیں،مگرجب شہر جلتا ہے تو تاریخ صرف ایک سوال پوچھتی ہے، تم اس وقت کیا کر رہے تھے۔۔۔۔؟ خدا نہ کرے، کل پاکستان ہم سے بھی یہی سوال کرے۔۔۔۔ کیونکہ جب گھرمیں آگ لگی ہو توخاندان یہ بحث نہیں کرتا کہ پردے کس رنگ کے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button