ڈی جی این سی سی آئی کی روزانہ کھلی کچہری،فوری داردرسی
سید علی ناصر رضوی عظیم باپ کا عظیم بیٹا،فیلڈ پولیسنگ سے لے کر ڈی جی این سی سی آئی اے تک قابلِ فخر کیرئیر

لاہور:(فیاض ملک)ڈی جی این سی سی آئی سید علی ناصر رضوری نے روزانہ کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کرلیا اب سائلین کی فوری داررسی یقینی ہوگی۔کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے کسی معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس کے مثبت نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو وہاں پولیس کے نظام کو ٹھیک کر دیں؛ یقین کریں کہ وہ معاشرہ اور ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ محکمہ پولیس میں آج بھی نیک نام اور فرض شناس افسران کی تعداد کرپٹ افسران و اہلکاروں سے کئی گنا زیادہ ہے، اور انہی افسران کی بدولت عوام میں پولیس کی نیک نامی قائم و دائم ہے۔

انہیں میں ایک قابلِ ذکر نام سید علی ناصر رضوی کا ہے۔ جی ہاں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سید علی ناصر رضوی کا شمار پاکستان پولیس سروس کے انتہائی ایماندار، فرض شناس اور قابل افسران میں ہوتا ہے، جنہوں نے پیشہ ورانہ کیرئیر کے دوران ملنے والی ہر ذمہ داری کو انتہائی احسن انداز میں نبھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جہاں بھی گئے، داستان چھوڑ آئے۔

یہ جملہ پاکستان پولیس سروس کے 31ویں بیچ سے تعلق رکھنے والے سید علی ناصر رضوی پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ ایک ایسے پولیس افسر ہیں جو تعلیم، تدریس، ہوش مندی، لیڈرشپ اور جدید قانون نافذ کرنے میں اپنا الگ ہی انداز رکھتے ہیں۔ اگر ان کے کیرئیر پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ان کے اس سفر میں ایک اہم پہلو ان کا خاندانی پس منظر بھی ہے۔ ان کے والد سید تجمل حسین رضوی ایک سینئر بیوروکریٹ رہے اور دورانِ ملازمت مختلف عہدوں پر فائز ہو کر سرکاری امور اور خدمات انتہائی ایمانداری سے سرانجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے گھرانے میں پرورش پانے والے سید علی ناصر رضوی کو ابتدائی زندگی سے ہی سرکاری نظم و نسق، عوامی خدمت اور دیانت داری کا تصور عملی طور پر ملا، جو آج بھی ان کی شخصیت کا بنیادی خاصہ ہے، جس کا تمام تر کریڈٹ ان کے والد محترم کو جاتا ہے۔

علی ناصر رضوی پولیس فورس کا حصہ بننے سے پہلے تاریخ اور تقابلی مطالعہ کے ماہر تھے اور تقریباً چار سال تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ تاہم، اسی دوران انہوں نے 19 اپریل 2004 کو پولیس سروس جوائن کی، جس میں ان کے لیے فیلڈ پوسٹنگ ایک اہم موقع تھا جہاں انہیں قانون کے عملی مظاہرے، پولیسنگ کے نت نئے چیلنجز اور پبلک آڈٹ جیسے امور کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ابتداء میں لاہور کے مختلف سرکلز میں بطور اے ایس پی خدمات سرانجام دیں، جہاں مختلف علاقوں کے مسائل اور جرائم پر قابو پاتے ہوئے انہیں لاہور کی پیچیدہ شہری پولیسنگ، جرائم کی مختلف نوعیت اور شہریوں کے مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
بعد ازاں، انہوں نے ڈی پی او، سی پی او اور دیگر اہم فیلڈ پوزیشنز پر بھی کام کیا، جہاں انہوں نے دفتر میں بیٹھنے کی بجائے عملی طور پر گلی محلوں سے لے کر دیہی علاقوں تک امن و امان یقینی بنایا اور پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ پنجاب اور لاہور میں بطور ڈی آئی جی آپریشنز اور پھر بطور انسپکٹر جنرل اسلام آباد انتہائی حساس ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔

اب گزشتہ دنوں سے سید علی ناصر رضوی کو ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے میں بطور ڈی جی تعینات ہونا ان کے طویل سفر کا ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ دنیا بھر میں بدلتے ہوئے ڈیجیٹل چیلنجز، سائبر فراڈ، آن لائن بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے یہ تقرری انتہائی موزوں ہے۔ بطور ڈی جی این سی سی آئی اے انہوں نے ہیڈ کوارٹر میں روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں سائبر ہراسمنٹ، مالی فراڈ، فیک آئی ڈیز اور بلیک میلنگ کے شکار افراد کی شکایات پر فوری ایکشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جو کہ ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔



