google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

عظیم باپ کا عظیم بیٹا، سید علی ناصررضوی

لاہور(فیاض ملک ) فیاضیاں ۔۔۔۔۔

کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے کسی معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس کے مثبت نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو وہاں پولیس کے نظام کوٹھیک کردیں،یقین کریں کہ وہ معاشرہ اور ملک امن کا گہوارہ بن جائیگا۔میں سمجھتا ہوں کہ محکمہ پولیس میں آج بھی نیک نام اور فرض شناس افسران کی تعداد کرپٹ افسران و اہلکاروں سے کئی گنا زیادہ ہیں،اور انہی افسران کی بدولت لوگوں میں پولیس کی نیک نامی قائم و دائم ہیں۔

انہیں میں ایک قابل ذکر نام ہے سید علی ناصر رضوی کا، جی ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سید علی ناصر رضوی جن کا شمار پاکستان پولیس سروس کے انتہائی ایماندار،فرض شناس اور قابل افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے پیشہ ورانہ کیرئیر کے دوران ملنے والی ہر ذمہ داری کو انتہائی احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے۔وہ کہتے ہے نہ کہ جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے۔

یہ جملہ پاکستان پولیس سروس کے 31 ویں بیچ سے تعلق رکھنے والے سید علی ناصر رضوی پر پوری طرح سے صادق آتا ہے ،وہ ایک ایسے پولیس افسر ہےجو تعلیم،تدریس، ہوش مندی، لیڈرشپ اور جدید قانون نافذ میں اپنا الگ ہی انداز رکھتے ہیں، اگرانکی زندگی اور کیرئیر پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ان کے اس سفر میں ایک اہم پہلو ان کا خاندانی پس منظر بھی ہے۔

ان کے والد سید تجمل حسین رضوی ایک سینئر بیوروکریٹ رہے اور دوران ملازمت مختلف عہدوں پر فائز ہوکر سرکاری امورخدمات انتہائی ایمانداری سے سرانجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے گھرانے میں پرورش پانے والے سید علی ناصر رضوی کو ابتدائی زندگی سے ہی سرکاری نظم و نسق، عوامی خدمت اور دیانت داری کا تصور عملی طور پر ملا جوکہ آج بھی ان کی شخصیت کا بنیادی خاصہ ہے، جس کا تمام تر کریڈٹ انکے والد محترم کو جاتا ہے۔

علی ناصر رضوی پولیس فورس کا حصہ بننے سے پہلے تاریخ اور تقابلی مطالعہ کے ماہر تھے اور تقریباً چار سال تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ تاہم اسی دوران انہوں نے 19 اپریل 2004 کو پولیس سروس جوائن کی جس میں انکے لئے فیلڈ پوسٹنگ ایک اہم موقع تھا، جس میں انہیں قانون کے عملی مظاہرے، پولیسنگ کے نت نئے چیلنجز، اور پبلک آڈٹ جیسے امور کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ابتداء میں لاہور کے مختلف سرکلز میں بطور اے ایس پی خدمات سر انجام دی اور ان سرکلز میں جہاں مختلف علاقوں کے مسائل اور جرائم پر قابو پاتے ہوئے انہیں لاہور کی پیچیدہ اور شہری پولیسنگ، جرائم کی مختلف نوعیت اور شہریوں کے مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

وہی ان کے کیریئر کے اس دور میں پبلک فیلڈ مینجمنٹ کا تجربہ ان کی فکری پختگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا اہم زینہ بنا۔ فیلڈ پولیسنگ سے حاصل ہونے والا تجربہ ان کی اعلیٰ سطح کی کارکردگی کا مآخذ بنا، وہ لاہور میں ہی نہیں بلکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں مختلف عہدوں اور پوزیشنز پر تعینات رہے اور اپنے نام کا سکہ منوایا۔


انہوں نے ڈی پی او، سی پی او اور دیگر اہم فیلڈ پوزیشنز پر بھی کام کیا۔جہاں انہوں نے دفتر میں بیٹھنے کی بجائے عملی طور پر اقدامات کرتے ہوئے گلی محلوں سے لیکر دیہی علاقوں تک امن و امان یقینی بنانا، پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا، جوکہ انکی انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے پولیسنگ میں جرائم کی روک تھام، پٹرولنگ، اور پبلک ورکنگ میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں کی جن کے مثبت نتائج سامنے آئے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا فیلڈ کا طویل سفر پولیسنگ اور پبلک سروس میں ان کی شاندار کارکردگی کی گواہی دیتا ہے۔

سید علی ناصر رضوی نے پنجاب کی سطح پر پولیس کارکردگی، کرائم کنٹرول، اور پولیسنگ کے انتظامی ڈھانچے کو سمجھنے اور فیلڈ فریم ورک تیار کرنے کا بہترین اقدامات کئے۔ یہ وہ تجربہ تھا جس نے انہیں پٹرولنگ انفراسٹرکچر اور پٹرولنگ فورس کی انتظامی حکمت عملی سے متعارف کرایا۔ یہیں سے ان کی انتظامی صلاحیت کا سفر آگے بڑھا، اور وہ پولیس کے سب سے اہم ترین آپریشنل ونگ یعنی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے عہدے پر فائز رہے۔

جہاں انہوں نے صوبائی دارالحکومت کے انتہائی اہم اور پولیسنگ کے سنگین چیلنجز کا سامنا کیا۔ لاہور میں روزانہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت، جرائم کی مختلف نوعیت، احتجاج، اور امن و امان کا مسئلہ، ان سب کو سنبھالنا ان کی غیر معمولی انتظامی اور فیلڈ صلاحیتوں کا بہترین ثبوت تھا۔ انہوں نے ان چیلنجز پر قابو پایا اور شہر میں جرائم کے خاتمے، شہریوں کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کارآمد حکمت عملی اپنائیں، جیسے اسمارٹ پولیسنگ، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور پٹرولنگ کا فروغ۔ جرائم روک تھام، پٹرولنگ اور انتظامی چیلنجز پر قابو پانے کی ان کی اسٹریٹجیز نے لاہور جیسے بڑے اور حساس شہر میں امن و امان قائم رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ جس پر ان کو انسپکٹر جنرل اسلام آباد کی ذمہ داری سونپی گئی جوکہ ان کے کیریئر کا ایک اور اہم ترین مرحلہ ثابت ہوئی۔

انہوں نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں وہاں پر بھی امن و امان، جرائم کی روک تھام، جدید چیلنجز، پٹرولنگ، پولیس رسپانس اور شہریوں کے ساتھ پولیس روابط کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ یہی نہیں انہوں نے اسلام آباد میں پبلک مینجمنٹ میں نئی تکنیکی اور جدید فیلڈ اسٹریٹجیز متعارف کرائیں، جس سے شہریوں کا کمپیورٹرائزڈ اور لائیو ڈیٹا بیس سسٹم قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس فورس میں ڈسپلن اور اخلاقیات کے معاملات بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہے۔

اب گزشتہ دنوں سے سید علی ناصر رضوی کا ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے میں بطور ڈی جی تعینات ہونا ان کے طویل سفر کا ایک اور سنگ میل ہے۔ دنیا بھر میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے جرائم کے میدان میں ڈیجیٹل دنیا کی سیکیورٹی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

سائبر فراڈ، آن لائن بلیک میلنگ، جرائم، اور ڈیجیٹل سرگرمیوں، اور سائبر کرائم کی روک تھام کا سب سے بڑا مرکز اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بن چکی ہے۔ بلاشبہ موجودہ دور میں سید علی ناصر رضوی اس عہدے کے لیے ایک موزوں ترین اور شاندار انتخاب بناتا ہے۔ کیونکہ اب وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق فیلڈ پولیسنگ سے لے کر ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر اسپیس کے تحفظ تک پہنچ چکے ہیں۔

اب NCCIA کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر ان کا کردار پاکستان کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس نئے میدان میں بھی اپنی روایتی لگن، ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو سائبر کرائم سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور قانون کی حاکمیت کا نیا معیار قائم کریں گے۔

بطور ڈی جی این سی سی آئی اے انہوں نےہیڈ کوارٹر میں روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری کا فیصلہ کیا ،جس میں ہرروز سائبر ہراسمنٹ، مالی فراڈ، فیک آئی ڈیز، بلیک میلنگ یا کسی بھی قسم کے سائبر کرائم کے شکار افراد کی شکایات پر عملدرآمد میں تاخیر کے باعث پریشانی کے شکار افراد کی دادرسی کو یقینی بنایا جارہا ہیں۔ جوکہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔یقینا اب این سی سی آئی اے میں شہریوں کی شکایات پر بروقت اندراج بھی ہوگا اور ان پر ایکشن بھی ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button