google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

مذاکرات یا ’’مذاق رات‘‘؟

عاصم رضاخیالوی

اکثر جب مشکلات میں گھرا ہوا کوئی ملک مزید مشکلات کے گرداب میں اترنے لگتا ہے تو پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن کی اسکرین پر ایک مانوس آواز ابھرتی محسوس ہوتی ہے: ’’السلام علیکم، میرے ہم وطنو! پاکستان اس وقت سیاسی اور معاشی مشکلات کے دور سے گزر رہا ہے۔۔۔‘‘ پھر ایک خطاب ہوتا ہے، قوم کو امید دلائی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، اور کچھ عرصے بعد حالات وہیں کھڑے نظر آتے ہیں جہاں پہلے تھے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، اپوزیشن کے نعرے بدل جاتے ہیں، مگر عام آدمی کے مسائل کی فہرست کم ہونے کے بجائے اکثر مزید طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔

1947 سے 2026 تک پاکستان اپنے سفر کے 79 سال مکمل کر چکا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ کئی نسلوں کی محنت، قربانی، امید اور انتظار کی داستان ہے۔ ہم نے مارشل لا بھی دیکھے، جمہوری ادوار بھی دیکھے، حکومتیں بنتی اور گرتی بھی دیکھیں، سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں آتے اور اپوزیشن میں جاتے بھی دیکھا، مگر آج بھی ایک عام پاکستانی کے سامنے بنیادی سوال وہی ہے: روزگار کہاں ہے؟ کاروبار میں آسانی کہاں ہے؟ بجلی اور گیس کے بلوں سے نجات کہاں ہے؟ بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، علاج، خوراک اور مستقبل کی ضمانت کہاں ہے؟

آج پھر ’’مذاکرات‘‘ کی اصطلاح خبروں میں ہے۔ مگر عام آدمی کے ذہن میں سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس کے لیے ہیں اور ان کا نتیجہ کس کے گھر تک پہنچے گا؟ 3 اکتوبر 2026 کو حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تقریباً تین سال بعد باضابطہ مذاکرات ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ حکومت کی جانب سے 4 اکتوبر کے احتجاج کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مذاکرات کا ہونا جمہوری سیاست کا حصہ ہے، اختلافات کو بات چیت سے حل کرنا بھی ضروری ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان مذاکرات کی میز پر اس عام شہری کے مسائل بھی موجود ہیں جو مہینے کے آخر میں اپنے بجٹ کا حساب کرتے ہوئے پریشان ہو جاتا ہے؟ کیا اس مزدور کی کرسی بھی اس میز پر ہے جو روزانہ کام کی تلاش میں نکلتا ہے؟ کیا اس نوجوان کا مستقبل بھی ایجنڈے میں ہے جس کے پاس تعلیم ہے مگر روزگار نہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’مذاکرات‘‘ اور میرے نزدیک ’’مذاقِ رات‘‘ کے درمیان فاصلہ بہت کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ مذاکرات اگر صرف سیاسی کشمکش، اقتدار، احتجاج، حکومت اور اپوزیشن کے باہمی مطالبات تک محدود رہیں تو عام آدمی پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اس کے حصے میں کیا آیا؟ اسے سیاسی بیانات نہیں، آٹا، بجلی، روزگار، علاج، تعلیم اور محفوظ مستقبل چاہیے۔

پاکستانی سیاست میں عمران خان ایک طویل عرصے تک عوامی امید اور تبدیلی کے ایک بڑے سیاسی بیانیے کی علامت رہے ہیں۔ ان کی فلاحی سرگرمیوں، خصوصاً شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے منصوبوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن فلاحی ادارہ چلانا اور ایک صوبے یا ملک کی حکومت چلانا دو مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں ہیں۔ حکومت صرف جذبے، مقبولیت یا نعرے سے نہیں چلتی؛ اس کے لیے انتظامی صلاحیت، مضبوط ادارہ جاتی ٹیم، معاشی پالیسی، احتساب اور مسلسل فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

2018 میں عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا۔ اس انتخاب نے اس وقت بھی ان کی انتظامی صلاحیت، سیاسی تجربے اور پنجاب جیسے بڑے صوبے کی قیادت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا کسی بڑے صوبے کی قیادت کے لیے محض سیاسی وفاداری کافی ہے یا اس کے لیے ایک مضبوط انتظامی اور سیاسی ٹیم بھی ضروری ہے؟ اسی سوال کو وسیع تر معنوں میں وفاقی حکومت پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی سیاست کی ایک اور عجیب حقیقت یہ ہے کہ جو سیاسی رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ وہی ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور عمران خان سمیت مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان وقتاً فوقتاً شدید اختلافات بھی سامنے آئے اور مذاکرات بھی ہوتے رہے۔ اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، مگر اگر سیاست کا بنیادی مقصد صرف ایک دوسرے کو اقتدار سے نکالنا یا اقتدار میں واپس آنا رہ جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی پالیسی کہاں بنتی ہے اور قومی ترجیحات کون طے کرتا ہے؟

2024 کے انتخابات نے بھی ایک پیچیدہ سیاسی صورتِ حال پیدا کی۔ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ متعدد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں، جبکہ بعد کی آئینی و عدالتی پیش رفت میں الیکشن کمیشن نے مختلف مراحل پر PTI سے متعلق امیدواروں اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیے۔ لیکن وفاقی حکومت ایک اتحادی سیاسی بندوبست کے ذریعے قائم ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 2024 میں عمران خان براہِ راست دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی سیاسی قوت اور ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی انتخابی موجودگی نے ملکی سیاست میں ایک اہم عنصر کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھا۔

اصل امتحان اب بھی سیاست دانوں کا نہیں، ریاستی ترجیحات کا ہے۔ ستمبر 2026 میں پاکستان کی سالانہ صارف مہنگائی 10.26 فیصد رہی۔ تازہ دستیاب Labour Force Survey 2024-25 کے مطابق بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد رہی اور پاکستان میں اوسط ماہانہ اجرت 39,042 روپے رپورٹ ہوئی۔ یہ اعداد صرف معاشی رپورٹ کے خانے نہیں؛ ان کے پیچھے لاکھوں گھرانوں کے بجٹ، نوجوانوں کے خواب اور والدین کی پریشانیاں موجود ہیں۔

صنعت کے بارے میں بھی ہمیں جذباتی دعوے کے بجائے مکمل تصویر دیکھنی چاہیے۔ سرکاری اعداد کے مطابق مالی سال 2025-26 میں Large-Scale Manufacturing میں مجموعی طور پر 4.98 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جون 2026 میں LSM پیداوار سال بہ سال 3.48 فیصد کم اور مئی 2026 کے مقابلے میں 6.08 فیصد کم رہی۔ یعنی تصویر یک طرفہ نہیں؛ کچھ شعبوں میں بہتری بھی آئی ہے اور بعض ادوار میں نمایاں دباؤ بھی دیکھا گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ صنعتی سرگرمی کو اس مقام تک کیسے پہنچایا جائے جہاں فیکٹری صرف پیداوار نہ کرے بلکہ مستقل روزگار بھی پیدا کرے، برآمدات بھی بڑھائے اور ملک کے نوجوان کو ہنر کے مطابق کام بھی دے۔

یہاں آتا ہے ’’کمیشن‘‘ کا قصہ۔ کمیشن بذاتِ خود کوئی غیر قانونی لفظ نہیں۔ ایک کمیشن وہ ہے جو کسی جائز کاروباری یا پیشہ ورانہ خدمت کے عوض قانونی طور پر ادا کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرا ’’کمیشن‘‘ اس وقت بدعنوانی کی شکل اختیار کرتا ہے جب وہ رشوت یا kickback بن کر کسی ٹھیکے، فیصلے یا سرکاری فائدے کو ناجائز طور پر متاثر کرے۔ اس لیے ہر منصوبے، ہر افسر یا ہر کاروباری شخص پر الزام لگانا درست نہیں، لیکن جہاں دستاویزی ثبوت موجود ہوں وہاں شفاف تحقیقات اور احتساب ضرور ہونا چاہیے۔ اور جہاں صرف شک ہو وہاں الزام نہیں بلکہ آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہماری ترقی کا تصور کیا ہے۔ کیا ہر بار سڑک توڑ کر دوبارہ سڑک بنانا ہی ترقی ہے؟ کیا ہر نئے منصوبے کا مطلب صرف اینٹ، سیمنٹ اور کنکریٹ ہے؟ یا ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ صنعتی زون ایسی جگہوں پر بنائے جائیں جہاں زمین دستیاب ہو، انہیں رنگ روڈز اور موٹرویز سے مربوط کیا جائے، کاروبار کو نقل و حمل کی سہولت دی جائے، مقامی آبادی کو غیر ضروری بے دخلی سے بچایا جائے اور نئے کارخانے ایسے روزگار پیدا کریں جو نوجوانوں کو اپنے ہی شہر میں باعزت کام دے سکیں؟

ہمیں مرضی کے راستے نہیں، ضرورت کے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ ہمیں ایسی منصوبہ بندی چاہیے جس میں سڑک کے ساتھ روزگار بھی ہو، صنعت کے ساتھ ہسپتال بھی ہو، مارکیٹ کے ساتھ اسکول بھی ہو اور آبادی کے ساتھ بنیادی شہری سہولتیں بھی ہوں۔ ریاست کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنے منصوبوں کا افتتاح کیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان منصوبوں نے عام آدمی کی زندگی کتنی آسان کی۔

ہم نے اتنی لاشیں دیکھی ہیں کہ لاش اٹھانا معمول لگنے لگا ہے۔ غربت دیکھتے دیکھتے غربت میں جینا معمول لگنے لگا ہے۔ بے روزگاری سن سن کر خاموش رہنا معمول لگنے لگا ہے۔ شاید ہماری سب سے بڑی اجتماعی مشکل یہی بے حسی ہے کہ جو مسئلہ کل غیر معمولی لگتا تھا، آج وہ معمول بن جاتا ہے۔

اور سیاست؟ سیاست اب بھی اپنے دائرے میں گھوم رہی ہے۔ حکومت اپوزیشن کو الزام دیتی ہے، اپوزیشن حکومت کو الزام دیتی ہے، مذاکرات ہوتے ہیں، مذاکرات ٹوٹتے ہیں، پھر مذاکرات کی نئی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جمہوری عمل کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن جمہوریت کا اصل حسن تب ہے جب اس کی میز پر صرف سیاست دان نہ بیٹھیں بلکہ عام شہری کے بنیادی مسائل بھی قومی ایجنڈے کا حصہ بنیں۔

خیبرپختونخوا میں قیادت کے انداز پر سوال اٹھتے ہیں، پنجاب میں حکمرانی کے فیصلوں پر سوال اٹھے، وفاق میں معاشی فیصلوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ اصل مسئلہ کسی ایک شخص یا ایک جماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک حکومت چلی جائے اور دوسری آ جائے لیکن نظام کی کمزوریاں وہیں رہیں تو صرف چہرے بدلنے سے ملک کی سمت نہیں بدلتی۔

پاکستان کو اب صرف ایک اور تقریر کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو ایسی سیاسی روایت کی ضرورت ہے جس میں اختلاف دشمنی نہ بنے، مذاکرات صرف اقتدار کی تقسیم کا ذریعہ نہ ہوں، انتخابات کے بعد ادارہ جاتی استحکام پیدا ہو، معاشی پالیسی حکومتوں کی تبدیلی سے نہ ٹوٹے، اور عوام کو ہر چند سال بعد نئی امید کے نام پر پرانے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہمیں ایک اور ’’السلام علیکم، میرے ہم وطنو‘‘ سے زیادہ اب ایک ایسی حکومت چاہیے جو قوم سے یہ کہہ سکے: ’’میرے ہم وطنو، اس بار ہم آپ کو ایک نئی تقریر نہیں، ایک نیا حساب دیں گے۔‘‘ حساب سڑکوں کا، حساب روزگار کا، حساب صنعت کا، حساب تعلیم کا، حساب صحت کا، حساب ٹیکس کے پیسے کا، اور سب سے بڑھ کر حساب اس اعتماد کا جو عوام ہر حکومت کو دیتے ہیں۔

ہمیں قبرستان آباد کرنے والی ترجیحات نہیں چاہئیں، اور نہ ہی ہمیں ہسپتال آباد کرنے والی ریاست چاہیے۔ ہمیں لاشیں گننے والی قوم نہیں بننا، ہمیں زندگی گننے والی قوم بننا ہے۔ اور شاید پاکستان کے اگلے مذاکرات کی سب سے بڑی شرط یہی ہونی چاہیے کہ میز پر کرسی کسی ایک لیڈر کے لیے نہیں، پاکستان کے عام آدمی کے مستقبل کے لیے ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button