بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پھر مرکزنگاہ مولانا فضل الرحمن!

چودھری خادم حسین

تھوڑے روز ہوئے جب باباء جمہوریت نوابزادہ نصراللہ (مرحوم) کی برسی منائی گئی اس سلسلے میں خان گڑھ میں ان کے صاحبزادے افتخار خان نے اہتمام کیا اور فاتحہ خوانی کے علاوہ مرحوم کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا، دکھ ہوا کہ ایسے بااصول اور بزرگ مصالحت کنندہ کو کسی بڑے شہر میں یاد نہیں کیا گیا کہ ان کے چھوٹے صاحبزادے منصور علی خان تحریک انصاف کو پیارے ہو چکے ہوئے اور انہوں نے نوابزادہ نصراللہ کی جماعت پاکستان جمہوری پارٹی کو بھی پی ٹی آئی میں ضم کرکے قصہ ختم کر دیا ۔

چہ جائیکہ کہ مرحوم کا اڈہ چلتا رہتا کہ آج بھی ان کے چاہنے والے ایسے ہیں جو بیٹھک جاری رکھنے کے قائل اور ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، باباء جمہوریت یوں یاد آئے کہ ان دنوں سیاست میں جو گھمسان کارن پڑا ہوا ہے اس کے لئے ان کی ضرورت تھی کہ ملک کو آج جو مسائل درپیش ہیں ان کا تدارک ایک صلح جو بیٹھک اور اس کے بہتر اہتمام سے ہی ممکن ہے، اب بھی بار بار یہی کہا جا رہا ہے، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے جو انتہائی نازک ہیں، ہم جب سے جواں ہوئے اور ہوش سنبھالا تب سے سنتے چلے آ رہے ہیں اور جب صحافت کے عملی میدان میں داخل ہوئے تو پھر حقائق اور درفنطنیاں اپنے اپنے حوالے سے سامنے آتے رہے اور اب تک یہ نازک دور ختم نہیں ہو پایا۔

ہمارے پیارے سیاست دان بھی اس دکھ میں ”دُبلے“ ہوتے چلے جا رہے ہیں، اب یہی دیکھ لیں کہ تحریک انصاف اور حکومت کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے دور ہو چکے لیکن کامیابی والی منزل نہیں ملی۔ سہیل آفریدی اپنے لانگ مارچ کو اپنے ہی صوبے میں گھما پھرا رہے اور اسلام آباد پر چڑھائی کا رعب دیتے چلے آ رہے ہیں۔

دوسری طرف اسلام آبادکو اب کنٹینروں کا شہر کہا جانے لگا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کسی بھی قیمت پر ہجوم کو اسلام آباد تک پہنچنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی اس کی جگہ یہ عزم ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ آخری ہوگا اس کے بعد کسی کو ایسا کرنے کی جرائت نہیں ہوگی۔

ان حالات میں ایک بار پھر جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن مرکز نگاہ بن گئے ان کے بارے میں ہمیں خوش فہمی تھی کہ وہ نوابزادہ (مرحوم) کی جانشینی کے فرائض انجام دے سکیں گے۔ مجھے تو یقین سا تھا کہ ان سے تب کا واسطہ ہے جب وہ صرف صاحبزادہ فضل الرحمن تھے۔ اب ماشاء اللہ بزرگ اور دعا دیتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ 1988ء میں جب اقتدار کا ہما محترمہ بے نظیر کے سر پر بیٹھ گیا تو مولانا فضل الرحمن ایم این اے ہوسٹل اسلام آباد میں بہت زیادہ متحرک تھے اور نوابزادہ نصراللہ خان کو صدر مملکت بنانے کے لئے لابنگ کررہے تھے۔ ان دنوں میں بھی رپورٹنگ کے لئے اسلام آباد میں تھا اور قریباً سارا دن ایم این اے ہوسٹل ہی میں گزرتا اور خبروں کی ترسیل کا سلسلہ بھی جاری رہتا، دونوں حضرات (نوابزدہ +صاحبزادہ فضل الرحمن) سے مسلسل رابطہ تھا۔

مجھے بتایا گیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے یقین دلا رکھا ہے لیکن پھر وہ ہوا جو اقتدار کے کھیلوں میں ہوتا ہے اور محترمہ کو غلام اسحاق خان ہی نہیں، صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بھی قبول کرنا پڑا، ان دنوں ہی میری جہانگیر بدر (بادشاہ) سے طویل بحث ہوگئی میرا موقف تھا کہ پیپلزپارٹی اقتدارکی بجائے حزب اختلاف کا کردار چنتی تو اس کی مستقبل میں سیاست ناقابل تسخیر ہوجاتی۔ بادشاہ (مرحوم) کا جواب تھا کہ اس پر غور کیا گیا اور پھر فیصلہ اقتدار کا ہوا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن (جیالے) طویل عرصہ سے مار کھاتے چلے آ رہے ہیں اس لئے ان کو کچھ صلہ ملنا چاہیے، بہرحال اسی کا نتیجہ تھا کہ نوابزادہ رہ گئے اور اسحاق خان صدر ہوگئے۔

یہ سب یوں عرض کیا کہ مولانا اور نوابزادہ کے مراسم کا تذکرہ کر سکوں تاکہ یہ وضاحت ہو جائے کہ نوابزادہ نصراللہ کی قربت ان (فضل الرحمن) کے روشن مستقبل کی علامت بنی اور تب ہی سے یہ خیال ہوا کہ ایک روز مولانا بھی نوابزادہ کا منصب سنبھال لیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں جو سیاست ہوئی اس پر نگاہ رکھنے سے یہی ثابت ہوا کہ محترم مولانا فضل الرحمن بتدریج مرکزی شخصیت بنتے چلے گئے لیکن خود مولانا کی اپنی بھی افتاد طبع ہے کہ وہ درمیان میں اس کردار سے استثنیٰ لیتے رہے۔ اب بھی کچھ عرصہ سے وہ اپنے آپ میں مگن تھے لیکن لانگ مارچ اور مذاکرات کی ناکامی نے ایک بار پھر ان کو مرکزنگاہ بنا دیا۔

تحریک انصاف والے مذاکرات کی ناکامی پر بھاگے بھاگے ان کے پاس پہنچ گئے کہ حضرت پھر سے عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس آئے تھے اگرچہ یہ ان کا پہلا عمرہ نہیں، تاہم کچھ تو تقریب بہر ملاقات کے مصداق تحریک انصاف والے ان کے گھر پہنچ گئے اور دکھ سنایا، مولانا نے مایوس نہیں کیا اور جہاں سیاسی حقوق کا ذکر کیا وہاں یہ کہہ کر بھی پی ٹی آئی والوں کا حوصلہ بڑھا دیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد آنے دینا چاہیے (اگرچہ مولانا کا اپنا لانگ مارچ پشاور چوک تک محدود رہا اور جنرل باجوہ سے ملاقات کے بعد وہیں سے منتشر ہو گیا)۔

یوں اگر اپوزیشن کی حوصلہ افزائی ہوئی تو حزب اقتدار کی بھی دوڑ لگ گئی اور سپیکر ایاز صادق کی قیادت میں وفد پہنچ گیا تو مولانا جو ہمارے بزرگ ہیں (میلا بھی تو ہے) ان کی بھی تسلی ہوگئی تاہم حضرت کی طرف سے ابھی نوابزادہ نصراللہ والا کامیاب کردار سامنے نہیں آیا اگرچہ ”سیانوں“ نے کہا ”مولانا مفاہمت کے لئے کردار ادا کر سکتے ہیں“۔ میرا خیال ہے کہ مولانا پھر سے اچھی پوزیشن میں ہیں وہ مصالحت یا مفاہمت کی طرف جا تو سکتے ہیں اس کی ضرورت بھی ہے لیکن خود ان کے اپنے بھی تو شکوے ہیں اور اس کے علاوہ محترم محمود اچکزئی کے بے لچک رویے پر بھی نظر رکھیں تو یہی ظاہر ہوگا کہ ”پردہ غیب ہی سے اچھا ہو سکتا ہے“۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button