وہ سب سے الگ تھا، اپنے ہم عصروں کے برعکس۔ شوبز کی مصنوعی چکا چوند سے دور وہ مہاراشٹر کے ایک پرسکون گاؤں میں جا بسا۔ جس فلمساز کو ضرورت ہوتی، وہ اس کے گاؤں جاتا اور اسے سائن کر لیتانانا پاٹیکر بالکل ایسا ہی انسان تھا۔

وہ شہر آتا، نگارخانوں میں فلم کی عکسبندی کرتا اور پھر واپس اپنے گاؤں لوٹ جاتا۔ شہر ممبئی میں اس کا گھر بھی تھا جہاں اس کا بیٹا اور سابقہ شریکِ حیات رہتی تھیں، لیکن نانا کو گاؤں، ندی کنارے، پہاڑوں، درختوں، پھولوں اور پرندوں سے محبت تھی۔ وہ ممبئی سے دور مہاراشٹر کے گاؤں میں خوش تھا، جہاں اس کے چند قریبی اداکار دوست اس سے ملنے آجاتے تھے، جن میں رشی کپور (مرحوم)، متھن چکروتی، انیل کپور اور جیکی شروف شامل ہیں۔

وہ سیاست دانوں کی طرح روایتی انداز میں تقریریں کرتا تھا، مگر مذہب اور ذات پات کی سیاست سے اسے شدید نفرت تھی۔ "کرانتی ویر” فلم کے بعد اسے سیاسی جماعتوں نے شمولیت کی دعوت دی مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔
وہ ایک سچا فنکار تھا:
کبھی "کرانتی ویر” کا انقلابی،
کبھی "یشونت” کا سخت گیر پولیس افسر،
کبھی "وجود” کا ناکام عاشق،
کبھی "پرندہ” کا سفاک ولن،

کبھی "کہرام” کا وہ وطن دوست جو امیتابھ بچن کو گرفتار کرنا چاہتا ہے،
کبھی "پہار” کا وہ فوجی جو وطن پر قربان ہونا چاہتا ہے،
کبھی "راج نیتی” کا چالاک سیاست دان،
تو کبھی "سنکلپ” کا وہ مہاگرو جو سیاست کی شطرنج کی بساط بچھاتا ہے۔

وہ ساری زندگی کرداروں میں جیتا رہا۔ تھیٹر اس کا عشق تھا، وہ اپنے مکالمے اکثر خود لکھتا تھا مگر بطور لکھاری اپنا نام ظاہر نہیں کرتا تھا۔ نانا صاحب نے تھیٹر سے سچی محبت کی، وہی اس کا اصل مکتبِ فکر تھا۔ فلموں سے پیسے کماتا تھا، دنیا بھر میں شہرت ملی مگر جب بھی دل کو سکون پانے کی تمنا ہوتی، وہ تھیٹر کا رخ کرتا۔

نانا پاٹیکر کی رحلت فنِ اداکاری کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ ان جیسے فنکار صرف اداکاری نہیں کرتے بلکہ فلسفی ہوتے ہیں، جو اپنے کرداروں کے ذریعے فکری روشنی بانٹتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کتابوں کا بہت مطالعہ کرتا تھا؛ تاریخ، سیاست، فکشن اور شاعری سب کچھ پڑھتا تھا۔
آخراس گاؤں میں تھا ہی کیا؟
کتابیں، درخت، پہاڑ، جھیل، پرندے اور پھول ہی اس کے آخری وقت کے ساتھی تھے۔

آج فنِ اداکاری کا پرچم سرنگوں ہے۔ الوداع نانا پاٹیکر صاحب، الوداع! آپ جہاں بھی رہیں، ایسے ہی رہیں جیسے آپ نے اس دنیا میں 75 سال گزارے۔



