خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھالیں گے، فوج تعینات
دھرنے سے مسئلہ نہیں، پختونخوا میں دہشتگردی ایشو، ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا، کے پی میں صورتحال بہت خراب، کچھ اضلاع میں لوگ شام کے وقت باہر نہیں نکل سکتے، آئین میں واضح امن او مان کی صورتحال کا معاملہ ہو تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے، محسن نقوی، اعظم تارڑ، عطا تارڑ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کا اعلان کردیا ہے۔ ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دی، جبکہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
اعلان کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتی امور انجام دیں گے۔ اس مقصد کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے، جبکہ صوبے کے 12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے مطابق یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایمرجنسی کا فیصلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال تشویشناک ہے اور بعض اضلاع میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے معاملے پر بھی بات چیت کی تھی۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آخری وقت تک رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم معاملات طے نہ پاسکے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کا بنیادی مسئلہ سیاسی احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی کا تدارک ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے احتجاج یا دھرنے کو ختم کرنے کی شرط عائد نہیں کی بلکہ انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف: دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنر نے اپنی آئینی ذمہ داری کے تحت صوبے کی صورتحال سے متعلق رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کی تھی۔
ان کے مطابق گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں، پولیس، دینی رہنماؤں اور دیگر افراد پر حملوں میں بھی شدت آئی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے پر آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے امور گورنر کے سپرد کیے گئے ہیں، جبکہ انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ صوبے کے 12 نامزد اضلاع میں الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جہاں سے متعلقہ انتظامی امور کی رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
عطا تارڑ کے پی حکومت پر سنگین الزامات
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سکیورٹی اداروں پر حملے ہوئے ہیں۔
عطا تارڑ نے صوبائی حکومت اور دہشت گرد عناصر کے درمیان مبینہ اتحاد کا الزام بھی لگایا۔ یہ الزامات وفاقی وزیر کے بیان سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ شواہد اور صوبائی حکومت کا مؤقف اہم ہوگا۔
ایوانِ صدر کا اعلامیہ جاری
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور عوام کے جان و مال کو لاحق خطرات کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافے کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات ضروری سمجھے گئے۔ وفاقی مؤقف کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ صوبائی حکومتی امور انجام دیں گے اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر صوبائی اداروں اور حکام کے اختیارات بھی گورنر استعمال کرسکیں گے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔
خیبرپختونخوا میں پاک فوج تعینات
وفاقی وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت انتظامیہ کی معاونت اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
حکم نامے میں سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ کو فوج کی تعیناتی کے اہم مقاصد قرار دیا گیا ہے۔ فوج کی تعیناتی کی مدت 11 اکتوبر 2026ء کو نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت سے منسلک کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا، جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) سے مشاورت کے ذریعے فوجی نفری کی ضرورت کا تعین کریں گے، جبکہ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ رابطے میں دستوں کی تعداد طے کی جائے گی۔
حکم نامے کو گزٹ آف پاکستان کے پارٹ ٹو میں شائع کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
11 رکنی ایڈوائزری کونسل اور 12 اضلاع میں سیکریٹریٹ
وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق صوبائی انتظامی امور میں گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے تحت ان اضلاع میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، عوامی سہولتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر توجہ دی جائے گی۔ سیکریٹریٹ کے ذریعے انتظامی امور کی نگرانی اور وفاقی حکومت کو رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں انتظامی صلاحیت بہتر بنانا، شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھنا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج کی تعیناتی کے اعلان کے بعد صوبے کا انتظامی اور سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے۔ ان اقدامات کے عملی نفاذ، آئینی دائرۂ اختیار اور صوبائی حکومت کے مؤقف سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ پیش رفت میں اہم ہوں گی۔



