
اسلام آباد (وی او این) وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی ہے، جبکہ صوبے کے نامزد اضلاع میں امن و امان، شہریوں کے تحفظ، بہتر طرز حکمرانی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے فوری قیام کا حکم بھی جاری کردیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے حکم نامہ نمبر 1/2026 جاری کیا گیا، جسے 11 اکتوبر 2026ء کے آئینی اعلان اور خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ہنگامی حالت کے اعلان سے منسلک کیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے اور اس سلسلے میں ایڈوائزری کونسل سے مشاورت حاصل کریں گے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور خیبرپختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985ء کے مطابق، وفاقی حکومت کی ہدایات سے ہم آہنگ انداز میں انجام دیے جائیں گے۔ ثنا اللہ ایڈووکیٹ کو خیبرپختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری کونسل میں کون کون شامل ہے؟
حکم نامے کے مطابق طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کو ایڈوائزری کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر ارکان میں ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کو درپیش انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز، عوامی تحفظ، کرپشن کے خاتمے اور سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیصل کریم کنڈی نے اجلاس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں محنت، لگن اور سنجیدگی سے ادا کریں اور صوبے کی بہتری کے لیے مؤثر تجاویز پیش کریں۔
گورنر نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ (ADS) قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔
حکم نامے کے مطابق ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ، ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیولپمنٹ کونسل (ARDC) کی نگرانی میں کام کرے گا۔ کونسل نامزد اضلاع کی معزز شخصیات پر مشتمل ہوگی، جس کی سربراہی چیئرمین کریں گے۔ چیئرمین، وائس چیئرمین، ترجمان اور ارکان کی تقرری مقررہ طریقہ کار اور مدت کے مطابق کی جائے گی۔
ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا (نامزد اضلاع) کریں گے، جو ان اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہوں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کو وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے
حکم نامے کے مطابق نامزد اضلاع میں تعینات صوبائی حکومت کے افسران اور دیگر متعلقہ اہلکار ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے انتظامی اور آپریشنل کنٹرول میں ہوں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کو ان اضلاع میں انتظامی امور، سکیورٹی، ترقیاتی سرگرمیوں اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اقدامات کی نگرانی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ وہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کے علاوہ سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات بھی جاری کرسکیں گے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر سیکریٹریٹ کے آپریشنل، تنظیمی اور انتظامی امور سے متعلق احکامات جاری کرسکیں گے اور فنڈز کی تقسیم و منتقلی کے معاملات بھی ان کے اختیارات میں شامل ہوں گے۔
نامزد اضلاع میں مزید تعیناتیوں اور تبادلوں کے احکامات وزیراعظم کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر وقتاً فوقتاً جاری کیے جاسکیں گے۔
سکیورٹی، ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ
وفاقی اداروں، مسلح افواج اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے نامزد اضلاع میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے انتظامات بہتر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق عوامی تحفظ، معاشی استحکام، امدادی سرگرمیوں اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کی تنظیم نو اور ضروری اقدامات کیے جاسکیں گے۔ ایڈمنسٹریٹر کے جاری کردہ احکامات، نوٹیفکیشنز اور ہدایات کو حکم نامے میں صوبائی حکومت کے احکامات کے مساوی قانونی حیثیت دینے کی شق بھی شامل ہے۔
حکم نامے میں بعض آئینی دفعات اور خیبرپختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985ء کے اطلاق سے متعلق استثنا بھی بیان کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
ضم شدہ اضلاع سے عمائدین کی نامزدگی کا طریقہ
دستیاب تفصیلات کے مطابق کونسل کے ارکان کا انتخاب خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سے کیا جائے گا۔ قبائلی علاقوں سے ارکان کی نامزدگی جرگے اور باہمی مشاورت کی روایات کے مطابق کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ہر ضلع سے ارکان کی تعداد کا تعین آبادی، رقبے اور قبائلی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ نامزد افراد میں ایسے معزز اور اچھی شہرت کے حامل عمائدین کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے جن کا دہشت گردوں اور خوارج کے خلاف واضح مؤقف ہو۔
متعلقہ کونسل کے قیام کو جلد مکمل کرنے اور اس کا پہلا اجلاس آئندہ تین سے سات روز کے اندر منعقد کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے ان اقدامات کے تحت خیبرپختونخوا کے انتظامی امور، نامزد اضلاع میں سکیورٹی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات پر عمل درآمد، متعلقہ اداروں کے اختیارات اور آئینی طریقہ کار کی تفصیلات آئندہ پیش رفت میں اہم ہوں گی۔



