پاکستانتازہ ترین

فضل الرحمان نے گورنر راج اور ایمرجنسی مسترد کر دی، حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام

اسلام آباد (وی او این) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے حکومتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے مذاکراتی عمل کے دوران یقین دہانیوں کے باوجود وعدہ خلافی کی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عوام، عدالتوں اور پارلیمان سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ چند روز کے مذاکراتی عمل کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق عمرے سے واپسی کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ بعدازاں حکومتی وزرا نے بھی ان سے ملاقات کرکے ثالثی کی ذمہ داری ادا کرنے پر بات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز پر لانگ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی اور مذاکرات کے لیے راستہ نکالنے پر اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کی آمد کے بعد ایمرجنسی کے مجوزہ اقدام کو مؤخر کیا گیا، تاہم بعد میں حکومت نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران حکومت کا مؤقف تھا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے علاج کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کے بقول دونوں فریق اپنی اپنی شرط پر قائم تھے، اس لیے انہوں نے دونوں کو مذاکرات میں لچک دکھانے اور باہمی اعتماد پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔

جے یو آئی کے سربراہ کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس گئے اور حکومت کو آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کا انتظام کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ پشاور جا کر دونوں فریقوں کے نمائندوں کو ساتھ بٹھایا جائے اور ان کی نگرانی میں مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔

ان کے مطابق اسی دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ اجلاس سے فون کرکے دہشت گردی کی صورتحال کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت نے خود ہی فیصلہ کرنا تھا تو پھر انہیں ثالثی کا کردار کیوں سونپا گیا۔ انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بھی حکومتی فیصلے پر سوالات اٹھائے۔

مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی دعوے دار جماعت اب ایسے اقدامات کی حمایت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام آئین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے اقدام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے ماضی کے فوجی آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے اب تک مختلف کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول حکومت کو ایسے اقدامات سے پہلے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی کے کارکنوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جانی قربانیاں دی ہیں اور جماعت نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کو قبول نہیں کرے گی اور آئینی و جمہوری طریقے سے اس کی مخالفت جاری رکھے گی۔

ادارتی نوٹ: خبر میں مذاکرات، حکومتی یقین دہانیوں اور مجوزہ آئینی اقدامات سے متعلق بیانات مولانا فضل الرحمان سے منسوب ہیں۔ اشاعت سے قبل گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ، کابینہ کے فیصلے اور متعلقہ سرکاری اعلامیے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button