پاکستانتازہ ترین

پشاور میں دلخراش سانحہ، سکول کی چھت گرنے سے 33 بچوں سمیت 35 افراد جاں بحق، 50 زخمی

خستہ حال عمارت اور ناقص تعمیراتی میٹریل حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار، سکول مالک اور پرنسپل گرفتار، صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے معائنے کا فیصلہ

پشاور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی چھت گرنے سے 33 بچوں اور دو خواتین اساتذہ سمیت 35 افراد جاں بحق جبکہ 50 بچے زخمی ہو گئے۔ افسوسناک حادثے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبنے والے بچوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والی خواتین اساتذہ کی شناخت 25 سالہ ثمرین اور 27 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں کی گئیں جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی شروع کر دی گئیں۔

سکول مالک اور پرنسپل گرفتار، انکوائری کمیٹی قائم

سی سی پی او میاں سعید کے مطابق نجی سکول کے مالک اور پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت میں ناقص تعمیراتی میٹریل استعمال کیے جانے کا شبہ ہے، جس کے باعث چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق چھت کی تعمیر میں ٹی آئرن اور چوکے استعمال کیے گئے تھے۔ حادثے کے وقت چھت پر تقریباً 110 سے 115 بچے موجود تھے۔ چھت وزن برداشت نہ کر سکی اور اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں بچے ملبے تلے دب گئے۔

ڈپٹی کمشنر نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، جبکہ سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ڈی خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی۔

سکول کی رجسٹریشن اور عمارت کی حالت پر سوالات

سرکاری ذرائع کے مطابق نجی سکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔ سکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا، تاہم عمارت کی خستہ حالی کے باوجود رجسٹریشن دیے جانے کے معاملے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایم ڈی خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی جاوید اقبال کے مطابق اتھارٹی کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے کے لیے مخصوص ٹیم موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کلاس رومز اور دیگر انتظامی تقاضے پورے ہونے پر سکول کو رجسٹر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق خستہ عمارتوں پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار موجود ہے، تاہم سکول بند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اس انکشاف کے بعد تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی حفاظت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔

زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج اور دیکھ بھال کے حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی خاندان 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔

صدر مملکت اور وزیراعظم کا اظہار افسوس

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے بچوں اور اساتذہ کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کے لیے صدمے کا باعث ہے۔

صدر مملکت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جامع تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے گورنر خیبر پختونخوا سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے سانحے پر تعزیت اور دکھ کا اظہار بھی کیا۔

جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ ادا، صوبے بھر میں معائنوں کا فیصلہ

حادثے میں جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، مشیر تعلیم عامر عبداللہ اور سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر و استقامت کی دعائیں کی گئیں۔

سانحے کے بعد صوبے بھر کے نجی سکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عمارتوں کی ساخت، چھتوں، دیواروں اور بنیادوں کا معائنہ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے مزید حادثات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پشاور کے اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں اور خواتین اساتذہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

یہ سانحہ تعلیمی اداروں میں عمارتوں کی حفاظت، تعمیراتی معیار اور مؤثر نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ تحقیقات کے ذریعے حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول یقینی بنایا جائے۔


ادارتی نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حتمی اشاعت سے قبل اموات، زخمیوں، گرفتار افراد، امدادی رقوم اور سرکاری عہدے داروں کے بیانات کی تازہ اور مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button